غیر شاعروں کی شاعری — شاہنواز فاروقی

غیر شاعروں کی شاعری — شاہنواز فاروقی

شاعروں کی شاعری کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں لیکن غیر شاعروں کی شاعری کا علم کم لوگوں کو ہے۔ کئی سال پہلے ہمیں ایک ایسی شعری نشست کی صدارت کا موقع ملا جو ایف ایم ریڈیو کے شاعروں کے لیے برپا کی گئی تھی۔ ہمارے لیے ایف ایم ریڈیو کے شاعروں کا تصور حیران کن اور سنسنی خیز تھا۔ ہماری مشکل صرف یہ نہیں تھی کہ ہمیں ایف ایم ریڈیو کے لیے شاعری کرنے والے نوجوانوں کی شاعری سننی تھی بلکہ ہماری مشکل یہ بھی تھی کہ ہمیں ان کی شاعری پر رائے بھی دینی تھی۔ نشست میں دس بارہ نوجوانوں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ ہمارے اندیشے کے عین مطابق ان میں سے اکثر لوگ شاعر نہیں تھے۔ یعنی انہیں یہ گمان لاحق تھا کہ وہ شاعر ہیں مگر ان کی تخلیقات شاعری کے معیار کے مطابق نہ تھیں۔ صرف ایک لڑکی نے ایک اچھی غزل سنائی اور ایک لڑکے نے ایک ایسی غزل پیش کی جس کے تین چار شعر بحر اور وزن میں تھے۔ نشست ختم ہوئی تو ہماری مشکل شروع ہوگئی۔ کسی شاعر سے یہ کہنا کہ تم شاعر نہیں ہو دنیا کا مشکل ترین کام ہے اور اس وقت ہمارے سامنے ایک دو نہیں دس بارہ شاعر بیٹھے تھے۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ ایک ایسے زمانے میں جب لوگ گلوکار، اداکار اور کھلاڑی بننا چاہتے ہیں آپ لوگ شعر وادب کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ آپ کے مہذب اور علم دوست ہونے کی دلیل ہے اور اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ مگر شاعری ایک فن ہے اور اس کے بعض تقاضے ایسے ہیں جنہیں پورا کیے بغیر کوئی شخص شاعر نہیں کہلاسکتا۔ آپ لوگوں کو چونکہ شاعری کا بے پناہ شوق ہے اس لیے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ لوگ ایک دو سال محنت کریں تو اچھے شاعر بن سکتے ہیں مگر فی الحال آپ کی تخلیقات میں شاعری ذرا کم کم ہے۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ شاعری کے مطالعے کی طرف آئیں اور اچھے شاعروں کے تین، چار سو شعر یاد کرلیں، اس سے بحر اور وزن کا ایک شعور آپ کے اندر ازخود پیدا ہوجائے گا۔ البتہ اس شعور کے پیدا ہونے تک آپ فارغ نہ بیٹھیں۔ آپ کہانی لکھیں، مضمون تحریر کریں۔ کالم نگاری کی طرف آئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاعری کے مقابلے پر نثر لکھنا آسان ہے۔ تاہم جب آپ سمجھیں کہ اب آپ نے غزل اور نظم کے بنیادی تکنیکی امور کو سمجھ لیا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر شاعری شروع کردیں۔ ہماری قوم کو ’’اچھے شاعروں‘‘ کی سخت ضرورت ہے۔ خوش قسمتی سے ایف ایم ریڈیو کے شاعروں نے ہماری معروضات کو توجہ سے سنا اور ہمارے مشوروں پر عمل کا وعدہ کیا۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نفسیاتی اور سماجی اثرات

معاصر دنیا کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ہمارے عہد کے امتیازی نشانات بن گئے ہیں۔ اس دنیا کے عدم توازن کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پر گفتگو بھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے اسلوب میں کی جارہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے اس طرح منسلک کردیا گیا ہے کہ اسلام اور انتہا پسندی اور مسلمان اور دہشت گردی ہم معنی نظر آنے لگے ہیں۔ حالانکہ اسلام اور مسلمان ہر جگہ ایک دفاعی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دنیا تاحال اسلام اور مسلمانوں کی دنیا نہیں ہے۔ سیکولر اور لبرل قوتوں کی دنیا ہے۔ اس دنیا کے سارے وسائل سیکولر اور لبرل قوتوں کے ہاتھ میں ہیں اور یہی قوتیں قوموں، ملّتوں اور تہذیبوں کے تعلقات کی تعریف متعین کررہی ہیں۔ وہ جب چاہتی ہیں جنگ ایجاد کرلیتی ہیں، جب چاہتی ہیں مذاکرات کی بساط بچھا دیتی ہیں، جب چاہتی ہیں حقیقی یا مصنوعی امن کو دنیا کا مقدر بنادیتی ہیں۔ اس منظرنامے میں اسلام اور مسلمانوں کے پاس دفاعی جنگ لڑنے کے سوا کوئی چارۂ کار ہی نہیں ہے، اور دفاعی جنگ لڑنے والے نہ انتہاپسند ہوسکتے ہیں اور نہ وہ حقیقی معنوں میں دہشت گردی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں ’’ردعمل‘‘ میں کرتے ہیں۔ عمل کا ’’تعیش‘‘ مسلمانوں کی دسترس ہی میں نہیں۔ مگر اس کے باوجود امریکہ، یورپ، بھارت اور اسرائیل چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اسلام انتہا پسندی کا مذہب ہے اور مسلمان دہشت گرد ہیں۔ اس منظرنامے کی مزید ہولناکی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ معاصر دنیا افراد اور گروہوں کی انتہاپسندی اور دہشت گردی کو خوب پہچانتی ہے، مگر اسے ریاستوں کی دہشت گردی کہیں نظر نہیں آتی۔ امریکہ کے ممتاز دانش ور نوم چومسکی کہتے ہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی بدمعاش ریاست ہے۔

Continue reading

دوسرا —- شاہنواز فاروقی

فرانس کے معروف فلسفی ژاں پال سارتر کا مشہور زمانہ فقرہ ہے
“Hell are the other Peopels” یعنی دوسرے لوگ ہمارا ’’جہنم‘‘ ہیں۔ سارتر کے اس فقرے کا مفہوم واضح ہے: میری زندگی صرف میری زندگی ہے، اس میں دوسرے لوگ غیر ضروری اور اضافی ہیں، اس لیے کہ وہ میری زندگی میں جا و بے جا مداخلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ مجھے تکلیف دیتے ہیں، میرا حق مارتے ہیں، میرے خلاف سازش کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ میرے لیے جہنم بن جاتے ہیں۔ چنانچہ میری زندگی میں ’’دوسروں‘‘ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سارتر دوسروں کو اپنے گھر، گلی، محلے سے ہی نہیں دل سے بھی نکال دیتا ہے۔ سارتر کہنے کو ایک آدمی ہے مگر وہ مغرب کی مادی تہذیب کی علامت ہے، چنانچہ یہ معاملہ انفرادی نہیں اجتماعی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دوسرے کا مفہوم کیا ہے؟

Continue reading

سیاست اور اخلاقیات

سیاست اور اخلاقیات
شاہنواز فاروقی
پاکستان کی سیاست میں حکمرانوں اور سیاست دانوں کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سیاسی نعروں کو بنیاد بناکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں انتخابی نعرے ہمیشہ سیاسی استحصال کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حکمران اور بالادست طبقات نے خوشنما نعروں کی مدد سے لوگوں میں جذباتی کیفیت پیدا کرکے محض اپنے اقتدار کے کھیل کو تقویت دی ہے۔ ماضی میں بھٹو صاحب کے لیے جو نعرہ سب سے زیادہ مقبولیت کا باعث بنا وہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ تھا۔ لیکن یہ نعرہ بس نعرے ہی کے طور پر موجود رہا اور عوام تو کجا خود پیپلز پارٹی کے اپنے غریب سیاسی کارکن عملی طور پر روٹی، کپڑا اور مکان سے محروم نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی و فوجی حکومتیں بھی عوام کے سیاسی استحصال کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہیں۔بھٹو مخالف قوتوں نے بھی جس شدت کے ساتھ اسلامی انقلاب کے نعرے بلند کیے تھے وہ بھی اسلام اور جمہوریت کے مقابلے میں شخصی نفرت کی سیاست کو جنم دینے کا باعث بنے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سیاست میں ان خوشنما نعروں یا حکمران طبقوں کے دعووں کو سیاسی مذاق کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات کا منظرنامہ سامنے آرہا ہے ، انتخابی نعروں اور دعووں کا کھیل بھی عروج پر پہنچگیا ہے۔ اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں بڑے نعروں کے ساتھ اپنی ابتدائی انتخابی مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔ یہ دونوں بڑی جماعتیں کیونکہ موجودہ اقتدار کی سیاست سے منسلک ہیں اس لیے ان کے یہ نعرے دلچسپی سے خالی نہیں۔ پیپلز پارٹی جو اشتہاری مہم چلارہی ہے اس میں سب سے مقبول نعرہ ’’بدلا ہے نظام تو… حق ملا عوام کو‘‘شامل ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) جو پنجاب میں تن تنہا اقتدار کے کھیل میں شامل ہے اس کی جانب سے جس نعرے کو سب سے زیادہ تشہیری مہم کا حصہ بنایا جارہا ہے وہ ہے: ’’بدلا ہے پنجاب… اب بدلیں گے پاکستان‘‘۔ دونوں بڑی جماعتیں اپنی اشتہاری مہم کی مدد سے قبل ازوقت انتخابی مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔یہ نعرے ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب ایک طرف ملک انتخابات کی سیاست کی جانب گامزن ہے تو دوسری طرف پورا ملک بری طرزِ حکمرانی کے بحران سے دوچار ہے۔ یہ بحران محض مرکزی حکومت تک محدود نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی لوگوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ان دونوں بڑی جماعتوں نے خوشحالی کے میدان سجائے ہیں تو لوگوں میں اس کی سیاسی قبولیت کیوں نہیں ہے؟ دراصل ہماری سیاست میں ہمیشہ سے حکمرانوں کے سیاسی دعووں اور عوام کی خواہشات میں تضاد کی سیاست کا پہلو نمایاں رہا ہے۔ تضادات کی اس سیاست نے عملی طور پر حکمرانوں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کی ہے۔ ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے دعووں کے سائے تلے غربت، معاشی بدحالی، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، امیری اور غریبی میں بڑھتا ہوا فرق، خودکشیاں، خودکش حملے، دہشت گردی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، سی این جی کی بندش اور بے روزگاری جیسے مسائل کا ایک بڑا سیاسی جن لوگوں پرمسلّط ہے۔

پاکستان کیوں ٹوٹا؟ …شاہنواز فاروقی

گھر میں بچہ دس روپے کا گلاس توڑ دیتا ہے تو بھی والدین اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ گلاس کیوں ٹوٹا؟ لیکن 16 دسمبر 1971ء کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ٹوٹ گئی اور پاکستان کے حکمران طبقے نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ پاکستان کیوں ٹوٹا؟ بلکہ اس کے برعکس پاکستان کے حکمران طبقے نے سقوطِ ڈھاکہ کو جلد از جلد بھلانے کی کوشش کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے حمودالرحمن کمیشن قائم کیا گیا مگر اس کا دائرۂ کار انتہائی محدود تھا، لیکن اس کے باوجود حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کو بھی تین دہائیوں تک سامنے نہیں آنے دیا گیا۔ جنرل پرویزمشرف نے اپنے مقاصد کے لیے اس رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے لیکن پوری رپورٹ ابھی تک راز ہے۔ یہ صورت ِحال حکمران طبقے کی مجرمانہ ذہنیت کی عکاس ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کے لیے اپنے مفادات کے سوا کچھ اہم نہیں۔ ملک تک نہیں۔ اس طبقے کے لیے اس کے مفادات ہی ملک ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کیوں ٹوٹا؟

Continue reading

اسلام اور امت سے بیزاری — شاہنواز فاروقی

مسلمانوں میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا ہے جسے اسلام اور امت مسلمہ سے چڑ ہے۔ اس طبقہ کے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض بھرا رہتا ہے مگر یہ لوگ اسلام کے خلاف اپنے حقیقی خیالات کا اظہار نہیں کرسکتے اس لیے کہ وہ ایسا کریں گے تو ازخود دائرہ اسلام سے باہر چلے جائیں گے اور معاشرے کا دبائو ان کا جینا حرام کردے گا۔ چنانچہ یہ لوگ اسلام کے خلاف کھل کر کچھ نہیں کہتے۔ البتہ اسلام کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کا انہوں نے یہ طریقہ ایجاد کیا ہے کہ انہیں اسلام کو برا بھلا کہنا ہوتا ہے تو وہ ملائوں اور مولویوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ملائوں اور مولویوں میں بہت خرابیاں ہونگی۔ مگر اسلام ملائوں اور مولویوں کی ایجاد نہیں ہے۔ اسلام کے مقاصد، اس کا نظام عبادات اور اس کی اخلاقیات اللہ تعالیٰ کا حکم ہیں مگر مذکورہ طبقے کے لوگ ان حقائق پر بھی اس طرح کلام کرتے ہیں جیسے پورا کا پورا اسلام ملائوں کی تعبیر کا حاصل ہو اور وہ اسی لیے اسلام پر عمل نہ کرتے ہوں۔ تاہم امت کا معاملہ اسلام سے قدرے مختلف ہے۔ امت کا تصور اسلام کی طرح مذہبی محسوس نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ لوگ امت کے تصور کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں دنیا بھر میں بکھرے ہوئے کروڑوں مظلوم مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اور اگر یہ لوگ مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر بھی کرتے ہیں تو دکھاوے کے لیے اور یہ دکھاوا خود ان کی اپنی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو مسلم معاشروں میں آباد دوسرے مذاہب اور اقلیتی مذہبی طبقات کے ساتھ ہونے والے سلوک کا غم کھائے جاتا ہے۔

Continue reading

Existence of women

 وجود زن — شاہنواز فاروقی

انسانی تاریخ میں عورت کے بارے میں دو گواہیاں تواتر کے ساتھ فراہم ہوئی ہیں۔ ایک کہ کہ عورت ایک نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے۔ عورت کے بارے میں دوسری گواہی یہ ہے کہ عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بظاہر یہ دونوں آراء ایک دوسرے کی ضد نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے بارے میں یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ فرق یہ ہے کہ عورت سے محبت کی جائے تو وہ نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے اور اگر عورت سے محبت نہ کی جائے تو عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا زمانہ عورت کے حوالے سے نحوغا برپا کرنے کا زمانہ ہے اس سے محبت کا زمانہ نہیں۔ چنانچہ عورت ایک ایسا معما بن کر کھڑی ہوگئی ہے جس کی درست تفہیم کے لیے پوری تہذیب کی تفہیم بھی کم پڑتی نظر آتی ہے۔ چنانچہ مغربی تہذیب میں جہاں عورت کی آزادی اور اس کے حقوق کا سب سے زیادہ شور برپا ہے عورت سب سے زیادہ غلام بنی دکھائی دیتی ہے اور اس کی شخصیت کی تفہیم وہاں سب سے زیادہ دھندلا گئی ہے۔ تو کیا مغربی دنیا میں عورت کی تفہیم کا کوئی حوالہ موجود ہی نہیں؟

ایم کیو ایم۔سیکولر قوتوں کی نمائندہ؟

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے لندن میں ایم کیو ایم کے دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں چھاپے کے حوالے سے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے جاری تحقیقات ایم کیو ایم کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دے گی۔ ایم کیو ایم حکومت کی اہم اتحادی اور سیکولر قوتوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے تازہ بیان برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لندن میٹروپولیٹن پولیس پریس آفس کے اہلکار مسٹر جوناتھن نے ایجویر کے علاقے میں الطاف حسین کے ’’کاروباری دفتر‘‘ پر چھاپے کی تصدیق کی ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ الطاف حسین کے کاروباری دفتر پر تلاشی کا کام دو دن سے جاری تھا جو جمعرات کو شروع ہوا اورجمعہ کی شام مکمل کرلیا گیا۔ ایم کیو ایم کے منحرف رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپے، تلاشی اور دستاویز لے جانے کی خبریں کئی روز سے ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی تھیں لیکن پہلی بار برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس کے نمائندے سے ٹیلی فون پر لندن پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے۔ خبروں کی مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں تک پہنچ گیا ہے

Continue reading