اقبال کی فکر کو معیار بنایا جائے تو پاکستان ’’دل‘‘ کی علامت تھا مگر پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے اسے ’’شکم‘‘ اور ’’مادی اسباب‘‘ کا استعارہ بنادیا ہر مسلمان پیدائشی طور پر ’’آزاد انسان‘‘ ہوتا ہے۔ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے سوا کسی کا ’’غلام‘‘ نہیں ہوسکتا۔ نہ ’’امریکہ‘‘ کا، نہ ’’یورپ‘‘ کا، نہ ’’فوجی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کا، نہ ’’سول اسٹیبلشمنٹ‘‘ کا، نہ ’’سرمایہ داری‘‘ کا، نہ ’’سوشلزم‘‘ کا، نہ ’’لبرل ازم‘‘ کا، نہ ’’سیکولر ازم کا، نہ ’’شریفوں‘‘ کا، نہ ’’زرداریوں‘‘ کا، نہ ’’بھٹوز‘‘ کا، نہ ’’الطافوں‘‘ کا، نہ ’’عمرانوں‘‘ کا، نہ ’’پنجابیت‘‘ کا، نہ ’’مہاجریت‘‘…
ہم سب “سلیکٹڈ” ہیں، نواز لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم کا اعلان
پاکستانی سیاست کے ’’ڈانسنگ فلور‘‘ پر فوجی بالادستی اور سول بالادستی کا ’’مشترکہ رقص‘‘ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ عمران خان نوازشریف اور آصف علی زرداری کو ’’ڈاکو‘‘ قرار دے رہے تھے، اور نواز لیگ اور پیپلزپارٹی عمران خان کو ’’سلیکٹڈ‘‘ ہونے کا طعنہ دے رہی تھیں۔ میاں نوازشریف کا ارشاد تھا کہ ’’خلائی مخلوق‘‘ ان کے تعاقب میں ہے۔ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا کہ میاں نوازشریف ’’گاڈ فادر‘‘ اور ’’سسلین مافیا‘‘ ہیں۔ مگر اب اچانک آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے نواز لیگ، پیپلزپارٹی، تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم قانون سازی پر اس طرح…
پاکستان کا ہولناک نظریاتی بحران اسباب کیا ہیں؟
پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے پاکستان کو ’’بحرانوں کی سرزمین‘‘ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں سیاسی بحرن ہے۔ سماجی بحران ہے۔ معاشی بحران ہے۔ تعلیمی بحران ہے۔ اخلاقی بحران ہے۔ آئینی بحران ہے۔ طبی بحران ہے۔ صحت و صفائی کا بحران ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا، سب سے جدید اور ملک کو سب سے زیادہ وسائل مہیا کرنے والا شہر ہے۔ لیکن اس شہر میں ٹرانسپورٹ کا بحران ہے۔ پانی کا بحران ہے۔ شاہراہوں کی ٹوٹ پھوٹ کا بحران ہے۔ نکاسی آب کے نظام کا بحران ہے۔ حد یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ کراچی…
سرسید اور معجزات کا انکار2
سرسید کے معجزات کے انکار کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ خدا کو ’’قادرِ مطلق‘‘ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا اصرار ہے کہ خدا اپنے بنائے ہوئے فطری قوانین کا پابند بلکہ معاذ اللہ ’’قیدی‘‘ ہے اور وہ ان قوانین کے خلاف کچھ نہیں کرتا۔ غور کیا جائے تو یہ بات بھی سرسید کے ساتھ ایک رعایت ہے۔ اس لیے کہ سرسید اصل میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا فطری قوانین کو توڑ نہیں سکتا۔ چوں کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا اس لیے معجزات کا کوئی وجود ہی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ایک…
زندگی کے ہر دائرے میں طاقت، سرمائے اور قبائلیت کا تماشا
پاکستان پوری امت کی ترجمانی کے لیے وجود میں آیا تھا، مگر آج کا پاکستان صرف اداروں، گروہوں اور جماعتوں کا ترجمان ہے ایک وقت تھا کہ زندگی کی تشریح اور تعبیر خدا، محبت اور علم کے ذریعے ہوتی تھی۔ ایک وقت یہ ہے کہ زندگی کے ہر دائرے میں طاقت، سرمائے اور قبائلیت کے شیاطین کا تماشا جاری ہے، اور زندگی کے ہر دائرے کی تشریح و تعبیر کے لیے طاقت، سرمایہ اور قبائلیت پوری طرح کفایت کرتے نظر آتے ہیں۔ عالمی سطح پر طاقت کے شیطان کا ننگا ناچ دیکھنا ہو تو دنیا کے دس طاقت ور ترین…
خصوصی عدالت کا فیصلہ، غدّاری کے مقدمے میں جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت اور اسٹیبلشمنٹ کا ردعمل
جنرل پرویز کی سزا پر عمل کی نوبت آئے گی بھی یا نہیں۔ تاہم جنرل پرویز کی سزا کی ’’علامتی اہمیت‘‘ بھی کم نہیں خصوصی عدالت نے سنگین غداری کے مقدمے میں پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل پرویزمشرف کو موت کی سزا سنادی ہے۔ سزائے موت کا فیصلہ اکثریتی ہے۔ سزا سنانے والا بینچ تین اراکین پر مشتمل تھا۔ ان میں سے دو اراکین نے جنرل پرویز کو موت کی سزا سنائی، جبکہ تیسرے رکن نے موت کی سزا کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ جنرل پرویز کو موت کی سزا آئین کی دفعہ 6 کے تحت سنائی…
سقوطِ ڈھاکہ کیوں ہوا؟ پاکستان ’’ ٹوٹا‘‘ یا ’’توڑا‘‘ گیا؟
پاکستان توڑ دیا گیا، مگر اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اس سانحے کو پاکستانی قوم کے شعور میں رجسٹر ہی نہ ہونے دیا۔ چنانچہ مشرقی پاکستان کے سانحے سے پاکستانی قوم میں وہ احساسِ زیاں پیدا ہی نہ ہوسکا جو قوموں کو بدلتا ہے اور مستقبل میں سانحات سے بچنے کے لیے تیار کرتا ہے انسانی تاریخ میں پاکستان جیسی ’’تاریخی‘‘ ریاست موجود نہیں۔ پاکستان ایک ’’نظریے‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا، اور یہ ایک ’’تاریخی‘‘ بات ہے۔ پاکستان وقت کی سپرپاور اور اکثریت سے لڑ کر حاصل کیا گیا، یہ ایک…
سرمایہ داری کا ابلاغی طوفان اورڈوبتی انسانیت
مغرب اور اس کے آلہ کاروں کی تخلیق کی ہوئی دنیا کی تباہ کاریاں آج گفتگو کی ابتدا ڈرا دینے والے اعداد و شمار سے کرتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے جس دنیا میں آپ زندہ ہیں اس دنیا میں موسیقی کی عالمی صنعت 20 ارب ڈالر سالانہ کی صنعت ہے۔ اس دنیا میں فلم کی عالمی صنعت 136 ارب ڈالر سالانہ کی صنعت ہے۔ اس دنیا میں کاسمیٹکس کی عالمی صنعت 532 ارب ڈالر کی صنعت ہے، اور 2024ء میں یہ صنعت 863 ارب ڈالر کی صنعت ہوگی۔ اس دنیا میں اشتہار بازی یا ایڈور ٹائزنگ کی صنعت 1200…
امریکہ کی عسکری اور معاشی دہشت گردی
20 سال میں 31لاکھ مسلمانوں کا قتل امریکہ کی خون آشامی اور ہلاکت آفرینی کو دیکھا جائے تو ہٹلر کی خون آشامی اور ہلاکت آفرینی ’’بچوں کا کھیل‘‘ نظر آتی ہے امام خمینی امریکہ کو ’’شیطان بزرگ‘‘ کہا کرتے تھے۔ امریکہ کے ممتاز دانش ور نوم چومسکی کہتے ہیں کہ امریکہ عہدِ حاضر کی سب سے ’’بدمعاش ریاست‘‘ ہے۔ امریکہ کی ایک اور ممتاز دانش ور سوسن سونٹیگ کہا کرتی تھیںکہ امریکہ کی بنیاد ’’نسل کُشی‘‘ پر رکھی ہوئی ہے۔ لیکن امریکہ صرف عسکری دہشت گردی کی علامت نہیں ہے۔ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی معاشی دہشت گرد بھی…
پاکستانی سیاست کی ’’سمجھوتا ایکسپریس‘‘۔
مولانا کے دھرنے کا آغاز بھی پراسرار تھا اور اس کا اختتام بھی پراسرار انداز میں ہوا اسلامی تاریخ اپنی اصل میں مزاحمت کی تاریخ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار جہاد بالسیف سے لوٹتے ہوئے فرمایا کہ اب ہم جہادِ اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جہاد بالسیف ’’جہادِ اصغر‘‘ ہے اور جہاد بالنفس ’’جہادِ اکبر‘‘ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو خارج میں بھی باطل کی مزاحمت کرنی ہے اور باطن میں بھی نفسِ امارہ کی صورت میں موجود باطل کی مزاحمت کرنی ہے۔ اسلام کے اس مثالیے یا Ideal کا…