انسان کئی اعتبار سے بہت دلچسپ واقع ہوا ہے۔ اس کے دلچسپ ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ یہ اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے اور اپنی ناکامیوں کا ذمے دار دوسروں کو ٹھیراتا ہے۔ انسان کے اس رجحان میں اس کی بداخلاقی کا پورا منشور پوشیدہ ہے ایسا منشور جو اخلاقیات کے ایک بڑے حصے کو لطیفہ بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا لطیفہ جسے سن کر نہ ہنسی آتی ہے نہ رونا بس چھینک آتی ہے۔ کامیابی یا ناکامی کی صورت میں انسان دو حیثیتوں میں اپنا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ -1 بحیثیت ایک فرد…
معاشیات اور انسانی رشتے
مغربی دنیا کے پیدا کردہ موجودہ زمانے کے بارے میں مشرقی دانشوروں کا ایک عام سا خیال یہ ہے کہ یہ زمانہ انسان اور خدا، اور انسان اور کائنات، اور انسان اور انسان کے قدیم ترین رشتوں کو توڑنے کا زمانہ ہے۔ مغرب کے بہت سے اہل فکر و نظر نے بھی اس بات کی گواہی بڑی شد ومد کے ساتھ دی ہے۔ اس طرح کے تمام لوگ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ مغربی فلسفہ اور سائنس نے انسان کے ان تمام رشتوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے جو قدیم ترین زمانے سے لے کر…
معاشرے میں مطالعے کا قحط
لوگ جسمانی غذا، اس کی قلت اور اس قلت کے مضمرات کو سمجھتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام ہیں کہ انسان کو جس طرح جسمانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی غذا بھی درکار ہوتی ہے، اور مطالعہ اس غذا کی فراہمی کا بہت بڑا ذریعہ ہے قحط پڑتا ہے تو لاکھوں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں اور قحط کی خبر ہر اعتبار سے عالمگیر ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ قحط ایک انتہائی غیر معمولی صورتِ حال ہے اور بھوک سے لاکھوں افراد کا ہلاک ہوجانا…
مغرب پر تنقید نہ کرنے والا انسان نہیں شیطان ہے
روزنامہ جنگ کے کالم نگار وجاہت مسعود پچیس تیس سال پہلے کمیونسٹ اور سوویت یونین کے عاشق تھے مگر کمیونزم اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب وہ امریکا اور اس کے لبرل ازم کے عاشق ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچیس تیس سال پہلے سوویت یونین اور اس کا کمیونزم اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن تھا اور اب مدتوں سے امریکا اور اس کا سیکولر ازم اور لبرل ازم اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ وجاہت مسعود کی اصل دشمنی اسلام اور مسلمانوں…
کریں گے کیا جو جہالت میں ہوگئے ناکام؟
پاکستان کے سیکولر اور لبرل کالم نگاروں کے اکثر کالموں میں ایک گہری تشویش موجود ہوتی ہے۔ اس تشویش کو شعر میں بیان کرنا ہو تو اس سے بہتر شعر ممکن ہی نہیں۔ کریں گے کیا جو جہالت میں ہوگئے ناکام ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا زبیدہ مصطفی پاکستان کی اہم سیکولر کالم نگار ہیں ان کا ایک حالیہ کالم پڑھ کر ہمیں مذکورہ بالا شعر بہت شدت سے یاد آیا۔ بدقسمتی سے زبیدہ مصطفی کا پورا کالم اس بات کی شہادت ہے کہ زبیدہ مصطفی اپنے پسندیدہ مضمون جہالت میں بھی بُری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔…
مودی کے دو چہرے
چین کے لیے ’’سرینڈر مودی‘‘پاکستان کے لیے ’’نریندر مودی‘‘ دو چہرے والا مودی دو چہرے والے بھارت کو عالمی طاقت کے مرتبے تک لے کر جا سکتا ہے؟ ہندوستان کے ہمیشہ سے دو چہرے ہیں۔ گاندھی ایک جانب ہندو مسلم اتحاد اور ایک قومی نظریے کے علَم بردار تھے، دوسری جانب اُن کے زمانے میں شدھی تحریک چل رہی تھی جو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا رہی تھی۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر چیخ اٹھے، انہوں نے گاندھی سے کہا کہ ہندو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا رہے ہیں، آپ انہیں روکتے کیوں نہیں؟ نہرو کے بھی دو چہرے…
حقیقت کو افسانہ اور افسانے کو حقیقت بنانے کا عمل
جاوید احمد غامدی کے شاگرد خورشید ندیم میں ایک برائی یہ بھی ہے کہ وہ مذہب کی حقیقی تعبیر کو افسانہ اور مذہب کی افسانوی تعبیر کو حقیقت باور کرانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ترکی میں رجب طیب اردوان نے آیا صوفیہ کو مسجد میں ڈھالا تو خورشید ندیم افسانے کو حقیقت اور حقیقت کو افسانہ باور کرانے کے لیے متحرک ہوگئے۔ ویسے تو اس سلسلے میں ان کا پورا کالم ہی قابل اعتراض ہے مگر چوں کہ پورے کالم کا حوالہ دینا ناممکن ہے اس لیے ان کے کالم کے چند حصے قارئین کے لیے پیش کیے جارہے…
پاکستان کا حکمران طبقہ اور امریکا
چین اور افغانستان ہی نے نہیں پاکستان نے بھی امریکا کو ’’مشورہ‘‘ دیا ہے کہ وہ جلد بازی میں افغانستان سے انخلا کا عمل مکمل نہ کرے کیوں کہ اس سے ’’دہشت گرد‘‘ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تینوں ملکوں کے نائب وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ انخلا کو مرتب، ذمے دارانہ اور مشروط ہونا چاہیے۔ اس وقت افغانستان میں امریکا کے 8600 فوجی موجود ہیں اور امریکا آئندہ 14 ماہ میں اپنے تمام فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا چاہتا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے برق رفتار انخلا کے متمنی ہیں۔ (روزنامہ ڈان…
کراچی منی پاکستان یا مسائلستان؟
کراچی کو چھوٹا پاکستان یا منی پاکستان کہا جاتا ہے۔ لیکن کراچی جیسا یتیم شہر پوری دنیا میں کوئی نہیں اگر شہری تمدن کی عظمت ہی سب کچھ ہے تو جدید شہری تمدن کی علامتوں کا جو سرمایہ کراچی کے پاس ہے وہ پاکستان کے کسی اور شہر کے پاس نہیں۔ کراچی بانیِ پاکستان کا شہر تھا۔ قائداعظم نے خود اسے پاکستان کا دارالحکومت بنایا تھا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ 73 سال تک ملک کی واحد بندرگاہ رہا ہے۔ کراچی طویل عرصے تک ملک کے واحد بین الاقوامی ہوائی اڈے کا حامل تھا۔ ملک کی…
جاوید چودھری اور حاضر و موجود کی پرستش
جاوید چودھری ہمارے ان لکھنے والوں میں سے ہیں جن کی تحریروں میں نہ ان کا مذہب بولتا ہے نہ ان کی تہذیب کلام کرتی ہے نہ ان کی تاریخ کی آواز سنائی دیتی ہے نہ ان کا ضمیر گفتگو کرتا ہے نہ ان کا علم کچھ فرماتا ہے۔ ان کے بے شمار کالم ایسے ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی سنی گئی بات کا حاصل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ سنی گئی بات پر غور کیے بغیر اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ ان کا ایک حالیہ کالم اس کی بہترین مثال ہے۔ اس کالم کے ’’مضمرات‘‘ ہولناک ہیں مگر…