قربتوں کے فاصلے

وہ ایک خوب صورت منظر تھا۔ ابدی سکون سے ٹوٹ کر گرے ہوئے کسی ریزے کی طرح‘ روح میں اتر جانے والا۔ وہ خواب نہیں حقیقت تھا۔ ایک زندہ حقیقت جو آنکھوں کے سامنے تھی۔ اسے جھٹلانا ممکن نہیں تھا۔ دیکھنے والا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ خواہش دید کچھ کم ہوئی تو دیکھنے والا اس منظر کی جانب بڑھا تاکہ اس کا حصہ بن کر اس ابدی سکون سے اپنا حصہ حاصل کر سکے جو اس منظر سے چھلک رہا تھا۔ دیکھنے والے اور منظر کے درمیان کا فاصلہ لمحہ بہ لمحہ کم ہو رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوتے جا رہے تھے۔ یکایک دیکھنے والے نے محسوس کیا کہ وہ ٹھہرا ہوا سا منظر بدلنے لگا ہے۔ کوئی نادیدہ قوت منظر کو بدل رہی تھی مگر کیسے؟ یہ معلوم کرنا مشکل تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ منظر کے سامنے تھا اس کے اور منظر کے درمیان بس اتنا فاصلہ تھا جتنا منظر کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ ایک خوب صورت جگہ تھی پہاڑی کا دامن۔ ایک جھیل اِدھر اُدھر کھڑے ہوئے سروقامت درخت اور سبزہ۔ منظر اب بھی خوب صورت تھا مگر اتنا نہیںجتنا اسے پہلی بار دور سے نظر آیا تھا اور اس کا سحر تو تقریباً ختم ہو گیا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ عجیب بات تھی۔ اگرچہ وہ منظر کے ٹھیک سامنے اور بہت قریب کھڑا تھا مگر اسے لگا جیسے اس کے اور منظر کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ وہ اپنی جگہ ساکن کھڑا تھا اور منظر اپنی جگہ موجود تھا یا شاید کچھ اور مگر جو کچھ بھی تھا اس منظر کی طرح حقیقت تھا۔ زندہ حقیقت‘ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا تھا۔ سب تو نہیں مگر اکثر قربتیں ایسے ہی فاصلوں کو جنم دیتی ہیں۔ یہ انسانی زندگی کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے مگر اس پر کم ی توجہ دیتے ہیں۔

مندرجہ بالا مثال میں ہم نے صرف دیکھنے والے کی بدلتی ہوئی کیفیات کو ملاحظہ کیا ہے۔ منظر کی کیفیات کو معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ممکن ہے منظر کی کوئی کیفیت ہی نہ ہوتی ہو۔ لیکن اگر منظر کی جگہ کوئی انسان ہوتا تو پھر اس کی کیفیات بھی معلوم کی جاسکتی تھی۔اس کا بدلتا ہوا ردِعمل ہمارے سامنے آسکتا تھا۔ عام زندگی میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ہم سب ایسے تجربات سے گزرتے رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہمیں ان کا شعور نہیں ہوتا۔ فی زمانہ انسان اور انسانی تعلقات میں جو تغیرات واقع ہوچکے ہیں ان کے پیش نظر اس مسئلے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

یہ شکایت عام ہے کہ انسانی تعلقات پائیدار نہیں رہے۔ تعلقات کا وہ استحکام جو تعلقات کی خوب صورتی کا سبب ہوا کرتا تھا‘ نہ جانے کہاں چلا گیا۔ تعلق قائم ہوتا ہے اور دن بہ دن مضبوط ہونے کے بجائے کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ تو خیر کوئی تعلق ہی نہیں قائم نہیں کر پاتے مگر فی الحال یہ مسئلہ ہماری دل چسپی کا موضوع نہیں ہے۔ سردست ہمیں صرف اس مسئلے سے دل چسپی ہے کہ انسانی تعلقات پائیدار نہیں رہے اور جو پائیدار تعلقات قائم ہوتے ہیں وہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناپائیدار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وقت کا بہائو انہیں دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ قربتیں فاصلوں کو جنم دیتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب بھی آتے ہیں تو ایک دوسرے کے استحصال کے لیے جسے عام لفظوں میں فائدہ اٹھانا کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال انفرادی زندگی اور معاشرتی زندگی سے لے کر عالمگیر زندگی تک (جو مختلف قوموں کے تعلقات سے عبارت ہے) پائی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے جائزے یا تجزیے کے مختلف پہلو ہیں مگر ہم یہاں صرف ایک دو پہلوئوں کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

وہ چیز جسے ہم ’’کشش‘‘ کہتے ہیں انسان اور زندگی کے تنوع سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہے‘ یہ بات انسانی تعلقات‘ زندگی کی خوب صورتی یہاں تک کہ انسانی زندگی کی بقا کے سلسلے میں بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ انسان کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بھی تنوع ہی کی ایک صورت ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ تمام انسانوں میں بہت سے یکساں پہلو پائے جاتے ہیں۔ ہر گھر کا ایک مخصوص ماحول ہوتا ہے جو انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر محلے‘ علاقے‘ شہر‘ صوبے اور ملک کا ایک مجموعی ماحول ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی انسانی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہی اثرات کے اختلاف سے گروہوں اور قوموں کی مختلف شناخت پیدا ہوتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک سے ماحول میں پرورش پانے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں یہاں تک کہ بھائیوں اور بہنوں کی شخصیتوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔

یکسانیت اور تنوع کی خواہش انسان میں بیک وقت موجود ہوتی ہے۔ یکسانیت کی خواہش اسے وسیع معنوں میں ہم ذوقوں کی تلاش اور قربت کے حصول پر مائل کرتی ہے اور تنوع کی طلب اسے اپنے سے مختلف لوگوں کی تلاش اور قربت کے حصول کے بے قرار رکھتی ہے۔

تنوع کی طلب انسان کی ایک مجبوری کا بھی نتیجہ ہوتی ہے۔ سب انسانوں میں سب خصائص نہیں پائے جاتے۔ کئی لوگوں میں جو خصائص ہوتے ہیں وہ دوسروں میں نہیں ہوتے یا کم ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص صحت مند تو ہوتا ہے مگر ذہین نہیں ہوتا۔ اسی طرح دوسرا شخص ذہین تو ہوتا ہے مگر صحت مند نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اچھا لکھتے ہیں مگر اچھا بول نہیں سکتے وغیرہ وغیرہ۔ جس انسان میں جو صلاحیت یا خصوصیت نہیں ہوتی وہی اس کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہے اور جن لوگوں میں یہ صلاحیت اور خصوصیت ہوتی ہے وہ اس کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔ گویا انسانی ذات یا شخصیت کی ناکافیت (Indaquacy) بھی انسانون کو ایک دوسرے کے لیے باعث کشش بناتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مل کر‘ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق استوار کرکے اپنی بہت سی ناکافیتوں کو دور کرتے ہیں یا انہیں کم سے کم کرتے ہیں۔ مگر یہ (تقریباً) ایک لاشعور عمل ہوتا ہے۔

انسان روح‘ نفس اور جسم کا مجموعہ ہے۔ یعنی ہر انسان کی ایک روحانی سطح‘ ایک نفس کی سطح اور ایک جسم کی سطح ہوتی ہے۔ یہ عناصر جس ترتیب سے یہاں بیان کیے جاتے ہیں اسی ترتیب سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہی سطحوں سے انسانی شخصیت میں تنوع کی مختلف صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ جن لوگوں میں یہ عناصر ہم آہنگ صورت میں پائے جاتے ہیں ان کی شخصیتوں میں بے پناہ تنوع ہوتا ہے اور وہ حقیقی معنوں میں کائنات اصغر کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مختلف درجوں میں ان تینوں سطحوں پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں ان سطحوں یا عناصر میں سے کسی ایک کا غلبہ ہوتا ہے بعض لوگوں میں یہ غلبہ اس حد تک ہوتا ہے کہ باقی دونوں عناصر بری طرح دب جاتے ہیں جو شخص جتنی زیادہ یا جتنی کم سطحوں پر زندگی بسر کرتا ہے اس کی شخصیت میں اتنا ہی زیادہ یا کم تنوع ہوتا ہے یا وہ اتنا ہی زیادہ یا کم تنوع پسند ہوتا ہے۔ تنوع تو ایک سطح کے اسیر ہو جانے والی شخصیت میں بھی ہوتا ہے مگر یہ تنوع صرف ایک ہی سطح کے امکانات کو بروئے کار لاتا ہے اس لیے اس کا تنوع بہت سرسری‘ بہت خارجی اور یک رنگا ہوتا ہے۔ وہ رجحان جسے ہم محدود اور وسیع دونوں معنوں میں انحراف (Deviation) کہتے ہیں ایک سطح پر زندگی بسر کرنے والوں ہی کی زندگی میں رونما ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کا تنوع‘ تنوع کے بجائے تضادات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر دل چسپی دوسری دل چسپی کی تردید‘ ہر رنگ دوسرے رنگ سے مختلف اور ہر رجحان دوسرے رجحان سے جدا ہوتا ہے۔مادی سطح پر زندگی بسر کرنے والوں کی زندگیاں اس کی بہت اچھی مثال ہیں۔ یہ معاملہ فرد کی زندگی سے لے کر اجتماعی علوم تک پھیلا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر مغرب کے مختلف علوم زندگی اور انسان کی جو تعریفیں پیش کر رہے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کی نفسیات کچھ کہہ رہی ہے۔ عمرانیات کچھ اور‘ فلسفہ کچھ کہہ رہا ہے اور معاشیات کچھ اور اب ہم اصل بات کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مغربی فکر نے مادّی سطح(Material Plain) کو قبول کرکے باقی سطحوں کو مسترد کر دیا۔ زندگی ایک سطح تک محدود ہوگی تو کم و بیش ایک ہی طرح کے (Identical) انسان پیدا ہوں گے۔ ایک ہی طرح کے انسان پیدا ہوں گے تو ان کی شخصیتوں میں تنوع نہیں ہوگا۔ شخصیت میں تہیں نہیں ہوں گی اور جب تنوع نہیں ہوگا تو انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے وہ کشش نہیں ہوگی جو تعلق کو استحکام دیتی ہے اور خوب صورت بناتی ہے اور ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور قریب رہنے میں غیر محسوس طریقے سے مدد دیتی ہے۔

لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جب تک قربت کم تھی تعلق ٹھیک ٹھاک تھا مگر قربت بڑھی تو تعلق میں دراڑیں پڑنی شروع ہو گئیں۔ یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ لوگ ایک خاص فاصلے پر ہوتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کی شخصیت میں بڑی کشش اور معنی نظر آتے ہیں مگر قربت جیسے جیسے بڑھتی ہے ویسے ویسے معلوم ہونے لگتا ہے کہ ہم ایک جیسے ہی ہیں۔ دوسرے میں کوئی ایسی بات نہیں جو ہم میں نہ ہو۔ ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ سکتے۔ ہماری شخصیت کا کوئی پہلو اس کے قرب سے اپنی کمی Inadequacy کو پورا نہیں کرسکتا۔ یہ احساس قربتوں کے ان فاصلوں کو جنم دیتا ہے جو تعلق اور تعلقات کو فنا کر دیتے ہیں۔ یہ احساس ایک خاص قسم کا Repulsion پیدا کرتا ہے۔ ناپسندیدگی‘ حقارت اور نفرت تک کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ جن کا رخ بظاہر دوسرے شخص کی طرف ہوتا ہے مگر وہ رخ جو نظر نہیں آتا انسان کی اپنی طرف بھی ہوتا ہے۔ ہم اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو مسترد کریں گے تو اس میں ہماری اپنی تردید بھی شامل ہو جائے گی۔

ایسا نہیں ہے کہ یکسانیت کے اس احساس کے باوجود بھی لوگ تعلق اور تعلقات کے بندھن میں بندھے رہتے ہیں مگر اس کی کچھ دوسری وجوہات ہوتی ہیں۔ ہمارا کوئی سماجی‘ معاشی یا سیاسی مفاد شناخت کے یکسر گم ہو جانے کا خوف‘ نفسیاتی طور پر خلا سے دوچار ہونے کا اندیشہ ۔

زندگی کا عام تجربہ ہے کہ انسان اپنے جیسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ان کے درمیان رہنا چاہتا ہے‘ ان کی رفاقت کی تمنا کرتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے۔ لیکن اگر شخصیوں کے تنوع ختم ہو جائے یا حد درجہ کم ہو جائے تو اپنے جیسے لوگوں کی موجودگی کا احساس عذابِ جان بن سکتا ہے۔ مغربی معاشرے اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہاں انفرادیت پرستی مریضانہ حدوں کو کیوں چھو رہی ہے؟ کیوں ہر شخص ایک دوسرے سے مختلف نظر آنا چاہتا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ لاشعوری طور پر محسوس کرتے ہیں کہ وہ Identicale ہیں۔ تقریباً ایک دوسرے کے جیسے‘ ظاہر ہے کہ اگر میں آپ ہی جیسا ہوں تو گویا میں ہوں ہی نہیں۔ آپ بھی اپنی جگہ یہی محسوس کرتے ہیں ہماری شناخت دائو پر لگ گئی ہے۔ اب ہم کیا کریں طرح طرح کے فیش ایجاد کریں‘ طرح طرح کے کپڑے پہنیں‘ بالوں کے ڈیزائن ایجاد کریں تاکہ دوسروں سے مختلف نظر آئیں۔ مگر یہ سب کچھ بہت سطحی اور بہت خارجی ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ اپنے قدیم مذہبی معاشروں کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان میں اس طرح کی خارج پسندی تقریباً ناپید ہے۔ ان معاشروں کی عظیم اکثریت کو دوسرے سے مختلف نظر آنے کی کوئی فکر ہی نہیں۔ اس لیے کہ وہ شخصیت کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے اس لیے کہ اس کے معاشرے میں اکثر لوگ وجود کی کسی ایک سطح پر نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں تنوع فطری طور پر موجود ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے بھی اب مغربی معاشروں کو فوٹو اسٹیٹ بنتے جا رہے ہیں اور ہمارے سوچنے یہاں تک کہ محسوس کرنے کے سانچے بھی تقریباً ویسے ہی ہوتے جا رہے ہیں جیسے کہ مغرب میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں بھی انسانی تعلق اور تعلقات ناپائیداری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کی اور کئی وجوہات بھی ہیں لیکن وجود کی مادی سطح تک محدود ہونا اس کی ایک بنیادی وجہ ہے جو ایک جیسے انسانوں کو پیدا کر رہی ہے اور ہماری قربتیں فاصلوں کو جنم دے رہی ہیں۔ ایسے فاصلے جو زمانی اور مکانی فاصلوں سے زیادہ اذیت ناک ہیں۔ اس لیے کہ زمانی اور مکانی فاصلوں کی خلیج کو تو کسی نہ کسی طرح پاٹا جاسکتا ہے مگر قربتوں کے فاصلوں کو کم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ ناممکن مزید ناممکن اس لیے بن جاتا ہے کہ یہاں معاملہ انسان اور منظر کے درمیان تعلق کا نہیں بلکہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کا ہے۔ جو ایک دوسرے کو تکلیف دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وجود کی مختلف سطحوں پر زندگی بسر کرنے والوں کی شخصیتوں میں تنوع ہوتا ہے جو انسانی نقطہ نظر سے بجائے خود بہت اچھی اور صحت مند بات ہے لیکن اس کے کچھ دوسرے فائدے اور خوب صورتیاں بھی ہیں۔ اس لیے کہ انسان اشیا ‘ حالات و واقعات اور اس کا مجموعی ماحول ایک سے زیادہ معنویتوں کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال قدیم ادب اور اس کے قارئین کا رویہ ہے۔ اس ادب میں پیش کیے گئے مواد کی مختلف معنویتیں ہوتی ہیں۔ حالات و واقعات‘ حالات و واقعات بھی ہوتے تھے اور کسی اور شے کی علامت بھی ہوتے تھے۔ پڑھنے والے بھی اسے اسی اعتبار سے پڑھتے تھے۔ قارئین حالات و واقعات سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے اور حالات و واقعات اور کردار جن چیزوں کی علامت ہوتے تھے ان تک بھی پہنچتے تھے۔ مگر اب لوگ چونکہ وجود کی ایک ہی سطح پر مقیم ہیں اس لیے وہ ادب میں بھی صرف سماجی حقائق تلاش کرتے ہیں اور صحافت کے عاشق ہیں جو حالات و واقعات کو صرف بیان کرنے پر اکتفا کرتی ہے اور اگر تجزیہ بھی کرتی ہے تو اس احتیاط کے ساتھ کہ کہیں اس میں کوئی گہری معنویت نہ در آئے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو عوام اسے نہیں سمجھیں گے اور اگر عوام اسے نہیں سمجھیں گے تو اخبار فروخت نہیں ہو سکے گا۔

Leave a Reply