اُمّت کے سمُندر کی “وہیل” اور قومیت کے “مینڈک”۔

مسلم دنیا امت کے تصور پر کھڑی ہوگئی تو پورا عالم اسلام امریکہ اور یورپ سے پاک ہوجائے گا

ترکیکے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ’’امت‘‘ کے تصور کو پوری طرح زندہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے کشمیر کی وہی حیثیت ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔ اردوان نے کہاکہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ ترک صدر نے کہاکہ ہمارے تعلقات ’’مفادات‘‘ پر نہیں بلکہ ’’عشق و محبت‘‘ پر مبنی ہیں۔ ترکی کے رہنما نے کہاکہ پاکستان کا دکھ بھی ہمارا ہے، خوشی بھی ہماری ہے اور کامیابی بھی ہماری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم کشمیر پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ایف اے ٹی ایف کے فورم پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ ترک صدر نے قومی ریاست کے تصور پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ سرحدیں اور فاصلے مسلمانوں کے درمیان دیوار نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بھائیوں پر مظالم کے خلاف ان سب کا ساتھ دینا ہم سب پر فرض ہے۔ طیب اردوان نے کہاکہ ہم پاک ترک تجارت کو پانچ ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک لے جائیں گے۔
رجب طیب اردوان گزشتہ دس سال میں پاکستان کے نو دورے کرچکے ہیں۔ پاکستان میں زلزلہ آیا تو ترکی نے پاکستان کی بھرپور مدد کی، پاکستان میں سیلاب آیا تو ترکی پاکستان کی مدد کو آیا۔ رجب طیب اردوان صرف پاکستان کے لیے گرم جوش نہیں ہیں، وہ اخوان اور حماس کے لیے بھرپور آواز اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے مصر میں جنرل سیسی کے مظالم کے بعد اخوان کے رہنمائوں کو ترکی میں پناہ دی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنوں پر ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑا۔ اب انہوں نے پاکستان میں جو کچھ کہا ہے وہ امت کے تصور کو زندگی مہیا کرنے سے کم نہیں۔ طیب اردوان اس وقت مسلمانوں کے واحد امت گیر رہنما ہیں جو عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اقبال اور ان کی شاعری کا ذکر کرتے ہیں۔

اسلام کی نہاد اور مزاج میں جو آفاقیت اور جو عالمگیریت ہے وہی آفاقیت اور وہی عالمگیریت اس نے مسلمانوں کے مزاج میں پیدا کی تھی۔ اسلام نے مسلمانوں کو رنگ، نسل، قبائلیت، قومیت، لسانیت، جغرافیے، فرقے اور مسلک سے بلند کرکے ایک ’’امت‘‘ بنایا تھا۔ قرآن نے خود مسلمانوں کو ’’امتِ وسط‘‘ کہا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جسم کے کسی حصے میں بھی تکلیف ہو، پورا جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ تقویٰ اور علم کے سوا کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ انصاری نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو آواز دی۔ مہاجر نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکارا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو ناراضی سے آپؐ کا چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا۔ آپؐ نے جو کچھ فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تمہیں جن گڑھوں سے نکالا تھا تم پھر انہی گڑھوں میں گرنا چاہتے ہو! اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمان امت کے سمندر کی ’’وہیل‘‘ تھے، مگر مسلم دنیا کے حکمرانوں نے انہیں قوم، جغرافیہ، نسل، زبان، ذات پات، برادری، قبیلے، فرقے اور مسلک کے کنویں کا ’’مینڈک‘‘ بنا دیا۔ ایسی بلندی، ایسی پستی… اللہ اکبر۔ کہاں اشرف المخلوقات، اور کہاں اسفل السافلین؟ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔

امت کا تصور کوئی ’’خیالی پلائو‘‘ نہیں، یہ ایک ’’تاریخی حقیقت‘‘ ہے۔ مسلمان جہاں گئے وہاں انہوں نے صرف حکومت اور سلطنت ہی پیدا نہیں کی، بلکہ ایک ’’تہذیبی تجربہ‘‘ بھی خلق کرکے دکھایا۔ یہ تہذیبی تجربہ وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کا مظہر تھا۔ مسلمانوں نے اسپین کا وسیع علاقہ فتح کیا اور ’’مسلم اسپین‘‘ کا تہذیبی تجربہ خلق کیا۔ مسلمانوں نے برصغیر فتح کیا اور ’’ہند اسلامی تہذیب‘‘ کا تجربہ وجود میں آیا۔ یہ تہذیبی تجربے ’’مقامیت‘‘ میں ’’آفاقیت‘‘ کا جلوہ دکھاتے تھے۔ ان تجربوں کا ’’اظہار‘‘ مقامی تھا اور روح ’’آفاقی‘‘ تھی۔ یہ امت کا تصور تھا جس نے محمد بن قاسم کو سندھ کی مظلوم مسلمان خواتین کی مدد کے لیے سندھ آنے پر مائل کیا۔ یہ امت کا تصور تھا جس کے تحت قائداعظم نے کہا تھا کہ اگر ہمیں فلسطینیوں کی مدد کے لیے ’’تشدد‘‘ بھی اختیار کرنا پڑا، تو کریں گے۔ یہ امت کا تصور تھا جس کے تحت ’’دو قومی نظریہ‘‘ وضع ہوا اور قیام پاکستان ممکن ہوا۔ یہ امت کا تصور تھا جس کے تحت اسلامی کانفرنس کی تنظیم وجود میں آئی۔ یہ امت کا تصور تھا جس کے تحت افغانستان میں جہاد “Globalized” ہوا۔ یہ امت کا تصور ہے جس کے تحت طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاک ترک تعلقات ’’مفادات‘‘ پر نہیں، ’’عشق و محبت‘‘ پر مبنی ہیں۔ یہ امت کا تصور ہے جس کے تحت ترک صدر نے کہا ہے کہ سرحدیں اور فاصلے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے۔

ملت اور امت کے ہم معنی تصورات کو برصغیر کے مسلمانوں نے جس طرح سمجھا اور برتا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ بات راز نہیں کہ ’’خلافت‘‘ ترکی میں ختم ہورہی تھی، اور ’’خلافت تحریک‘‘ برصغیر میں چل رہی تھی۔ اُس وقت پورا عالمِ اسلام سویا پڑا تھا بلکہ عالمِ عرب ترکی کے دشمن کا کردار ادا کررہا تھا، مگر برصغیر میں یہ شعر گونج رہا تھا:۔

بولیں اماں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو

برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے لیے صرف تحریک نہیں چلائی، صرف نعرے نہیں لگائے، بلکہ انہوں نے ترکی کے لیے خطیر رقم بھی جمع کی۔ خواتین نے اپنے زیور پیش کیے۔ آج طیب اردوان امت کے تصور کی بات کررہے ہیں تو اسی تحریک کی وجہ سے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ وہ ترکی کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کے تاریخی کردار کو نہیں بھولے۔ وہ اقبال کو یاد کرتے ہیں تو اقبال کی شاعری کی آفاقیت کی وجہ سے۔ اقبال کا ’’ذہنی کلچر‘‘ وہی تھا جو ’’خلافت تحریک‘‘ برپا کرنے والوں کا تھا۔ چنانچہ اقبال نے 20 ویں صدی میں امت کے تصور کو جس طرح بیان کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے کہا:۔

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
……٭٭٭……
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
……٭٭٭……
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُونے
وہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
……٭٭٭……
یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا
……٭٭٭……
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
……٭٭٭……
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

اقبال کے بعد برصغیر میں مولانا مودودیؒ اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت کی علامت بن کر اٹھے۔ اقبال کا اثر تو صرف وہاں تک ہے جہاں اردو اور فارسی بولی جاتی ہے، مگر مولانا کا اثر وہاں بھی ہے جہاں ہندی، بنگالی، عربی اور سواحلی بولی جاتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 20 ویں اور 21 ویں صدی میں صرف مولانا مودودیؒ ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں ’’امامِ امت‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ مسلم دنیا کی کوئی اسلامی تحریک ایسی نہیں جس پر مولانا کی فکر کا اثر نہ ہو۔ خود طیب اردوان کبھی ترکی کی اُس اسلامی تحریک کے آسمان کا ایک ستارہ تھے جو مولانا کی فکر سے متاثر تھی۔
یہ برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کے ’’تصورِ امت‘‘ ہی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں بن رہا تھا اور اس کی تحریک دہلی، یوپی اور سی پی میں چل رہی تھی۔ ان علاقوں کے مسلمان مسلم اقلیتی صوبوں کے لوگ تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ وہ کبھی پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے، مگر ایک ’’اسلامی ریاست‘‘ اُن کا ’’خواب‘‘ تھی۔ اس خواب کی محبت انہیں مجبور کررہی تھی کہ وہ پاکستان کے لیے تن من دھن کیا اپنی جان اور اپنے مستقبل کو بھی دائو پر لگائیں۔
انسان پیدائشی طور پر چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ انسان کی آرزوئیں، خواب اور مقاصدِ حیات اسے چھوٹا یا بڑا بناتے ہیں۔ انسان کی آرزوئیں، اس کے خواب اور اس کے مقاصدِ حیات چھوٹے ہوتے ہیں تو انسان چھوٹا ہوجاتا ہے۔ انسان کی آرزوئیں، اس کے خواب اور اس کے مقاصدِ حیات بڑے ہوتے ہیں تو انسان بڑا آدمی بن جاتا ہے۔ اقبال استاد داغؔ کے شاگرد تھے۔ وہ داغؔ کے شاگرد رہتے تو دوسرے داغؔ یا داغؔ سے کچھ بڑے شاعر بن جاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اقبال کی آرزو، ان کے خوابوں اور ان کے مقاصدِ حیات کو بڑا کردیا، اور اقبال شاعرِ مشرق کہلائے۔ مولانا مودودیؒ اپنی زندگی کے آغاز میں ایک صحافی تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزوئوں، ان کے خوابوں اور ان کے مقاصدِ حیات کو بھی بڑا کردیا، اور آج وہ مفکرِ اسلام اور امت کے امام کہلاتے ہیں۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی آرزوئیں چھوٹی ہیں، ان کے خواب معمولی ہیں اور ان کے مقاصدِ حیات حقیر ہیں۔ چنانچہ مسلم دنیا کے بادشاہوں، جرنیلوں اور جمہوری و سیاسی رہنمائوں نے امت کے سمندر کی ’’وہیل‘‘ کو کنویں کا ’’مینڈک‘‘ بناکر کھڑا کردیا ہے۔ پاکستان ایک بہت بڑے ’’آدرش‘‘ کا حاصل تھا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کا یہ حال کردیا ہے کہ ملک میں کہیں ’’پنجابیت کی فصل‘‘ کاشت ہورہی ہے، کہیں پاکستانیت کے درخت پر ’’مہاجریت کے پھل‘‘ لگے ہوئے ہیں، کہیں سیاست کے کڑھائو میں ’’سندھیت کی جلیبیاں‘‘ بنائی جارہی ہیں، کہیں ’’پشتونیت کا حلوہ‘‘ کھایا جارہا ہے، کہیں ’’بلوچستان کی چاٹ‘‘ فروخت ہورہی ہے۔ مذہب کے دائرے میں کہیں ہمارا تشخص یہ ہے کہ ہم ’’دیوبندی‘‘ ہیں، کہیں ہمارا تشخص یہ ہے کہ ہم ’’بریلوی‘‘ ہیں، کہیں ہمارا تشخص یہ ہے کہ ہم ’’اہلِ حدیث‘‘ ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہمارا ’’تنوع‘‘ تھیں، مگر ہمارے حکمرانوں اور ہمارے مذہبی رہنمائوں کے ’’امت گریز رجحان‘‘ نے ہمارے ’’تنوع‘‘ کو ہمارا ’’تضاد‘‘ بنادیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے 24 سال بعد آدھا پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا، اور اگر اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رحمت کا فرشتہ بناکر ہمارے پاس نہ بھیجتا تو ہمارا حکمران طبقہ اب تک باقی ماندہ پاکستان کو بھی گنوا چکا ہوتا۔
عرب حکمرانوں کی حالت ہمارے حکمرانوں سے بھی خستہ ہے۔ پوری عرب دنیا میں ’’عرب قوم پرستی‘‘ کا مرض پھیلا ہوا ہے۔ عربوں نے اسرائیل سے تین جنگیں لڑی ہیں اور وہ تینوں میں بری طرح پٹے ہیں۔ سعودی عرب تک اپنا دفاع خود نہیں کرسکتا۔ عرب حکمرانوں کی اہلیت و صلاحیت کا اندازہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا کہ اگر امریکہ تمہارا دفاع نہ کرے تو دس دن میں تمہارا دھڑن تختہ ہوجائے۔ امریکہ کے دو اور اسرائیل کے ایک صحافی کی رپورٹ کے مطابق ایک عرب ریاست کے ولی عہد محمد بن زید نے امریکیوں کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کو ابھی جمہوریت کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس عرب ملک میں انتخابات ہوں گے وہاں “Islamists” اقتدار میں آجائیں گے۔ اخوان المسلمون اور حماس عربوں کے دودھ کا ’’مکھن‘‘ ہیں، مگر عرب حکمرانوں نے دونوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عرب حکمران جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ وہ اخوان کو دہشت گرد قرار دے کر عرب ریاستوں کے امکانات پر خطِ تنسیخ پھیر رہے ہیں۔ وہ صرف عربوں کے مستقبل سے نہیں، امت کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ اس لیے کہ اسلامی تحریکیں جہاں اقتدار میں آئیں گی وہ ’’پوری امت‘‘ کی بات کریں گی، پوری امت کی ترجمانی کریں گی۔ رجب طیب اردوان نے امت کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے اسی لیے کہا ہے کہ اُن کی تربیت بھی ایک اسلامی تحریک نے کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں خلافتِ عثمانیہ سے برصغیر کے مسلمانوں کی بے پناہ محبت یاد ہے۔ یہ دونوں چیزیں نہ ہوتیں تو طیب اردوان بھی محمدبن زید، محمد بن سلمان، نوازشریف، آصف زرداری اور جنرل پرویزمشرف کی طرح ہوتے۔
امت کے تصور کو صرف امتِ مسلمہ کے حکمران طبقات ہی پامال نہیں کررہے، بلکہ مغربی دنیا بھی امت کے تصور کے تعاقب میں ہے۔ اس لیے کہ اگر مسلم دنیا امت کے تصور پر کھڑی ہوگئی تو پورا عالم اسلام امریکہ اور یورپ سے پاک ہوجائے گا۔ چنانچہ مغربی دنیا ہر مسلم معاشرے کو کئی بنیادوں پر تقسیم کررہی ہے۔ پوری دنیا میں حکمران اور قوم ایک ’’وحدت‘‘ اور ایک ’’اکائی‘‘ ہوتے ہیں۔ مسلم دنیا میں حکمران اور عوام کے درمیان ایک خلیج حائل ہے۔ مسلم دنیا کے کئی ملکوں میں سول اور ملٹری کی تقسیم موجود ہے۔ مسلم دنیا کے کئی معاشروں کو اسلام پسندوں اور سیکولرسٹوں کی کشمکش کا سامنا ہے۔ مغرب کے منصوبہ ساز طرح طرح کے اسلام ایجاد کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک ’’سیاسی اسلام‘‘ ہے۔ ایک ’’صوفی اسلام‘‘ ہے۔ ایک ’’روایتی اسلام‘‘ ہے۔ ایک ’’جدید اسلام‘‘ ہے۔ حالانکہ اسلام صرف ایک ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام۔ قرآن اور سنت کا اسلام۔ امت کا تصور اسی اسلام کا حاصل ہے۔ اسی لیے اسلام دشمن طاقتیں چاہتی ہیں کہ اسلام کا اصل تصور بھی مسلمانوں سے پوشیدہ رہے اور مسلمان کبھی امت کے تصور پر بھی جمع نہ ہوسکیں۔ چنانچہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ حسن نثار اور جاوید چودھری ٹائپ کے لکھنے والے امت کے تصور کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ جس عہد میں ہم زندہ ہیں اس عہد میں امت کے تصور کے احیاء کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے تصور کا احیاء پوری امت کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ امتِ مسلمہ ایک ارب 80 کروڑ انسانوں کی دنیا ہے۔ 57 آزاد ریاستوں کی دنیا ہے۔ تیل اور گیس کی نعمتوں سے لدی پھندی دنیا ہے۔ اس دنیا کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے۔ میزائلوں کی طاقت ہے۔ اس دنیا کی روحانی طاقت بے پناہ ہے۔ اس کے پاس توحید کا تصور ہے۔ اس کے پاس قرآن جیسی عظیم الشان کتاب ہے۔ اس دنیا میں سیرتِ طیبہؐ کا اعلیٰ ترین نمونۂ حیات ہے۔ یہ امت ایسی ہے کہ اس نے صرف حضرت عمرؓ کے عہدِ عروج میں ہی نہیں، اپنے ’عہدِ زوال‘ میں بھی دو سپرپاورز کو شکست دی ہے۔ فرق یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں قیصر و کسریٰ کو شکست دی تھی ،اور عہدِ زوال میں اس امت نے سوویت یونین اور امریکہ کو افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار کیا ہے۔ یہ امت عہدِ زوال اور انتشار و افتراق میں مبتلا ہونے کے باوجود یہ کرسکتی ہے تو متحد ہوکر یہ امت کیا نہیں کرسکتی!
اسلام اور امتِ مسلمہ کے دشمن یہ تاثر دیتے ہیں کہ امتِ مسلمہ نام کی کوئی چیز روئے زمین پر نہ موجود تھی، نہ ہے، اور نہ ہوگی۔ مگر مغرب کے ایک تحقیقاتی ادارے کے سروے کے مطابق اِس وقت رجب طیب اردوان مسلم دنیا کے سب سے مقبول رہنما ہیں۔ رجب طیب اردوان مسلم دنیا کے کسی ملک کو نہ ڈالرز دے رہے ہیں، نہ پائونڈز مہیا کررہے ہیں۔ البتہ وہ تمام مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کررہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ پوری مسلم دنیا میں مقبول ہورہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ’’امتِ مسلمہ‘‘ بھی دنیا میں موجود ہے اور وہ اپنے رہنما کو بھی پہچان رہی ہے۔ طیب اردوان ابھی تو صرف امت کے لیے زبانی جمع خرچ کررہے ہیں تب ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے، اگر وہ عملاً امت کے لیے کچھ کرنے لگے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی مقبولیت کا عالم کیا ہوگا؟ طیب اردوان ایک جمہوری اور سیاسی رہنما ہیں، مگر شاہ فیصل بادشاہ تھے۔ لیکن چونکہ انہیں بھی امت کے تصور سے محبت تھی اس لیے 1970ء کی دہائی میں وہ عالمِ اسلام کے سب سے مقبول رہنما تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ امت کا جو رہنما اسلام کے تصورِ امت کی بات کرے گا وہ امت میں مقبول ہوگا، خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو یا جرنیل۔ امت اسلام کا حاصل اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا کردہ نمونۂ انسانیت ہے، چنانچہ جو امت کے ساتھ ہے وہ اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کے ساتھ ہے۔ اس کے برعکس جو امت کے تصور کا مذاق اڑاتا ہے وہ اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کا مذاق اڑاتا ہے۔

Leave a Reply