دیوار گیر کھیت

بے وزن ماحول میں کم سے کم جگہ کا استعمال کرتے ہوئے پھل اور سبزیاں اگانے کے تجربات امریکی خلائی ادارہ ’’ناسا‘‘ نے بہت پہلے کر لیے تھے۔ ان ہی تجربات کو پیش نظر رکھ کر ایک امریکن کمپنی نے ایسی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس کی مدد سے ایسی الماریاں تیار کی گئی ہیں جن میں روزمرہ استعمال کی سبزیاں اور سلاد وغیرہ بہ آسانی اگائی جا سکتی ہیں۔ اسی مناسبت سے ان الماریوں کو ’’وال فارمز‘‘ یعنی دیوار گیر کھیت کا نام دیا گیا ہے۔ ان مختصر کھیتوں کی تیاری میں نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے مادے…

مزید پڑھئے

بیسویں صدی میں، اسلام اور باطل نظاموں کی کشمکش

اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ ’’اعصاب شکن‘‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اخبارات میں اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ، اسلامی مفکرین اور اسلامی تحریکوں کے حوالے سے ایسی تحریریں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں معلومات، علم، تفہیم اور تناظر کے ہولناک نقائص کا معاملہ تو خیر واضح ہی ہے، ان کی نظر میں اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ، اسلامی مفکرین اور اسلامی تحریکوں کی کوئی ’’وقعت‘‘ ہی نہیں۔ مگر بدقسمتی سے جو لوگ ’’مذہبی‘‘ سمجھے جاتے ہیں اُن کی تحریروں میں بھی اتنے ’’عیوب‘‘ ہوتے ہیں کہ ’’ہنر‘‘…

مزید پڑھئے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدل پر سودے بازی کا مکالمہ

اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ میں عہدے اور مناصب اپنی مراعات، اپنی سہولیات اور اپنی شہرت سے نہیں بلکہ اپنی اخلاقیات، اپنی تہذیب، اپنی ذمے داریوں اور اپنی آزمائش سے پہچانے جاتے ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ایک تھے۔ ان کی شان اور عظمت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ کے بارے میں فرمایا کہ ابوذر دنیا میں بھی تنہا رہے گا اور میدانِ حشر میں بھی وہ تنہا کھڑا ہوگا۔ یعنی مثلاً میدانِ حشر میں ایک صدیقین کا گروہ ہوگا، ایک شہداء کا گروہ ہوگا،…

مزید پڑھئے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’عدل‘‘ پر ’’سودے بازی‘‘ کا سانحہ

اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ میں عہدے اور مناصب اپنی مراعات، اپنی سہولیات اور اپنی شہرت سے نہیں بلکہ اپنی اخلاقیات، اپنی تہذیب، اپنی ذمے داریوں اور اپنی آزمائش سے پہچانے جاتے ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ایک تھے۔ ان کی شان اور عظمت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذرؓ کے بارے میں فرمایا کہ ابوذر دنیا میں بھی تنہا رہے گا اور میدانِ حشر میں بھی وہ تنہا کھڑا ہوگا۔ یعنی مثلاً میدانِ حشر میں ایک صدیقین کا گروہ ہوگا، ایک شہداء کا گروہ ہوگا،…

مزید پڑھئے

کیا نظریاتی سیاست کا دور گزر گیا؟

آخری حصہ ہکسلے کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ انسانی وجود اور انسانی ذہن کی ساخت ایسی ہے کہ وہ مابعد الطبیعات سے جان چھڑا ہی نہیں سکتا۔ چوں کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا اس لیے وہ نظریات سے بھی جان نہیں چھڑا سکتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کارل مارکس نے خدا اور مذہب کا انکار کیا مگر کارل مارکس کا جدلیاتی مادیت کا نظریہ مارکسزم کا ’’اصول توحید‘‘ تھا۔ کارل مارکس کو کمیونسٹوں نے وہی حیثیت دی جو اہل مذاہب پیغمبروں کو دیتے رہے ہیں اور کارل کی داس کیپیتال سوشلسٹوں کے لیے ’’الہامی کتاب‘‘…

مزید پڑھئے

کیا نظریاتی سیاست کا دور گزر گیا؟

خورشید ندیم جاوید احمد غامدی کے شاگرد رشید ہیں چناں چہ ان کی تحریروں کو اس طرح بھی پڑھا جاسکتا ہے کہ جاوید احمد غامدی کی فکر انسانوں کو کیا سکھاتی ہے اور کیا بتاتی ہے؟۔ یعنی خورشید ندیم کی تحریروں کا مطالعہ ایک ٹکٹ میں دو مزے مہیا کرتا ہے۔ ایک مزا خورشید ندیم کو پڑھنے کا۔ دوسرا مزا ان کے استاد مکرم کے ’’بلند خیالی‘‘ کے مطالعے کا۔ آئیے 12 مارچ 2018ء کے روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے خورشید ندیم کے کالم سے یہ دونوں مزے لوٹتے ہیں۔ خورشید ندیم صاحب کے کالم کا ’’کمال‘‘ یہ ہے…

مزید پڑھئے

ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

سلیم احمد نے کہیں لکھا ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل ہماری تہذیب ایک وحدت تھی مگر انگریزوں کی آمد کے بعد یہ تہذیب دو نیم یا دو ٹکڑے ہوگئی۔ اس بات کے معنی یہ ہیں کہ مشرف بہ مغرب ہونے سے قبل ہماری انفرادی اور اجتماعی شخصیت کا ایک ہی مرکز تھا۔ اسلام۔ مگر مغرب کے اثرات کی وجہ سے ہماری انفرادی اور اجتماعی شخصیت دو مراکز کا رزمیہ بن گئی۔ ان میں سے ایک مرکز اسلام اور اسلامی تہذیب ہے اور دوسرا مرکز مغرب یا مغربی تہذیب ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے یہ ایک split personality…

مزید پڑھئے

عہد حاضر کا دَارا شکوہ، نواز شریف

سہیل وڑائچ میاں نوازشریف کے ’’صحافتی وارفتگان‘‘ میں سے ایک ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ میاں صاحب کو پاکستان کا ’’دائمی وزیراعظم‘‘ بنوا دیں۔ سہیل وڑائچ کے میاں صاحب سے عشق کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے 17 مارچ 2018ء کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں میاں نوازشریف کو عہدِ حاضر کا ’’داراشکوہ‘‘ قرار دیا ہے اور اس بات کا ’’ماتم‘‘ کیا ہے کہ برصغیر میں ’’داراشکوہ‘‘ بار بار کیوں ہارتا ہے، اور ’’اورنگ زیب‘‘ ہمیشہ کیوں فتح مند قرار پاتا ہے؟ ’’عہدِ حاضر کے داراشکوہ‘‘ کا مقدمہ لڑنے کے لیے سہیل وڑائچ…

مزید پڑھئے

عہد حاضر کا دَارا شکوہ، نواز شریف

سہیل وڑائچ میاں نوازشریف کے ’’صحافتی وارفتگان‘‘ میں سے ایک ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ میاں صاحب کو پاکستان کا ’’دائمی وزیراعظم‘‘ بنوا دیں۔ سہیل وڑائچ کے میاں صاحب سے عشق کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے 17 مارچ 2018ء کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں میاں نوازشریف کو عہدِ حاضر کا ’’داراشکوہ‘‘ قرار دیا ہے اور اس بات کا ’’ماتم‘‘ کیا ہے کہ برصغیر میں ’’داراشکوہ‘‘ بار بار کیوں ہارتا ہے، اور ’’اورنگ زیب‘‘ ہمیشہ کیوں فتح مند قرار پاتا ہے؟ ’’عہدِ حاضر کے داراشکوہ‘‘ کا مقدمہ لڑنے کے لیے سہیل وڑائچ…

مزید پڑھئے

اچھا تو یہ ہے آپ کا ایمان، اسلام، تہذیب اور اخلاق

وگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ وہ اونٹ نگل جاتے ہیں اور مچھر پر اعتراض کرتے ہیں۔ سمندر کا طوفان انہیں نظر نہیں آتا مگر چائے کے کپ میں سونامی برپا کرکے کہتے ہیں دیکھیے پانچویں درجے کا طوفان آنے والا ہے۔ وہ ختم نبوت کے قانون پر حملے کو ’’معمولی بات‘‘ کی طرح لیتے ہیں اور مدرسے کا ایک نوجوان نواز شریف کی طرف جوتا اچھال دے تو انہیں مذہب، اخلاق اور تہذیب یاد آجاتی ہے۔ جامعہ نعیمیہ میں ایک طالب علم نے میاں نواز شریف کو جوتا مارا برا کیا مگر ہمیں مذہبی، اخلاقی اور تہذیب کی دہائی دینی…

مزید پڑھئے