انسان اور دشمن کا تصور

انسان بالخصوص مسلمان دشمن کے تصور کے بغیر ایک لمحہ بھی بسر نہیں کرسکتا۔ مگر پاکستان میں سیکولر اور لبرل دانش ور دشمن کے تصور کو حقیر چیز سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دشمنی کی نفسیات انسان کی وحشت اور درندگی کی نشانی ہے۔ پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش وروں کا دوسرا عیب یہ ہے کہ وہ پاک بھارت تعلقات کی خرابی کا ذمے دار پاکستان کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے حکمران ہیں جنہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کیے۔ اس سلسلے میں معروف کالم نگار اور سابق فوجی ایاز امیر کا ایک حالیہ کالم زیر بحث موضوع کے حوالے سے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایاز امیر نے اپنے کالم میں کیا فرمایا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔ لکھتے ہیں۔
’’مملکت خداداد ہندوستان دشمنی کا شکار نہ ہوتا تو سوئٹزر لینڈ تو نہ بن جاتا لیکن بطورِ قوم ہم بہت سی حماقتوں سے بچ جاتے۔ خیال یہ تھا کہ ایک مسلمان پتا نہیں کتنے ہندوئوں کے برابر ہے اور یہی سوچ پاکستان کو 1965ء کے معرکے میں لے گئی۔ یہ معرکہ تباہ کن اس لحاظ سے نہ تھا کہ میدان جنگ میں ہمیں شکست فاش ہوئی یا مالی طور پر ہمیں کوئی اور بڑا نقصان ہوا۔ ایسا ہرگز نہیں لیکن اس جنگ نے ہماری سوچ بدل دی اور ہمارے قومی وجود پر ہندوستان دشمنی کا خول چڑھادیا۔ جنگ کا سلسلہ شروع ہم سے ہوا لیکن جنگ چھڑ گئی تو ضروری سمجھا گیا کہ تمام الزام بھارت کے سر تھوپ دیا جائے۔ اوپر سے میڈم نور جہاں اور نسیم بیگم کے قومی نغموں نے ایسا سماں باندھا کہ حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت سے عوام کیا سوچنے سمجھنے والے طبقات بھی محروم ہوگئے۔
ایسی صورت حال میں کہانی ایک ہی ہوتی ہے کہ رات کے اندھیرے میں مذموم ارادے رکھنے والے چالاک دشمن نے حملہ کردیا۔ یہی کہانی بُنی گئی اور سارا بیانیہ چالاک دشمن کی عیاری اور مکاری کے گرد گھومتا رہا اور آج تک گھوم رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوانوں، افسروں، ائرفورس کے پائلٹوں اور بحری جہازوں پر مامور افراد نے ہندوستانی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جوانوں اور افسروں نے بہادری دکھانی تھی، انہوں نے ایسا کیا، حماقت کی داستان رقم کرنے والے تو ایوب خان اور دوسرے چند افراد تھے۔ جوانوں نے تو جنگ کا فیصلہ نہیں کیا تھا، وہ فیصلہ تو اوپر سے ہوا تھا لیکن جب حماقت ہوگئی تو جنگ کے نتائج قوم کو بھگتنے پڑے۔ اُس جنگ نے بطورِ قوم ہماری نفسیات بدل دی اور ہماری ہر پالیسی کا محور ہندوستان دشمن بن گیا۔ حقیقت کو دیکھا اور دنیا کو دیکھا تو اسی عینک سے۔ جنگ کی پاداش میں دفاع پر خرچہ ہمارا بڑھنے لگا جس کے نتیجے میں ہماری مسلح افواج تعداد اور مالی وسائل کے اعتبار سے بڑھتی چلی گئیں۔ (روزنامہ دنیا۔ 3 مئی 2023)
مسلمانوں کی تاریخ یہ ہے کہ مسلمان پیدا ہوتا ہے تو دشمن کے تصور کے تحت۔ مسلمان کا مذہب مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ انسان کا ایک نہیں کئی دشمن ہیں۔ مسلمانوں کا ایک دشمن شیطان ہے، شیطان کو قرآن نے اہل ایمان کا ’’کھلا دشمن‘‘ قرار دیا ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ انسان کا نفس امارہ بھی اس کا دشمن ہے وہ اس لیے کہ بعض لوگ اپنے نفس کی خواہشات کو پوجنے لگتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ بھی ہے کہ ماحول کا جبر بھی انسان کا دشمن ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ چناں چہ ماحول کے جبر کے خلاف جنگ ایک بہت بڑے دشمن کے خلاف جنگ ہے۔ رسول اکرمؐ کی ایک حدیث سے ثابت ہے کہ برائی بھی انسان کی دشمن ہے۔ چناں چہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ نہی عن المنکر کے تحت اگر تم میں طاقت ہو تو برائی کو طاقت سے روک دو۔ یہ ممکن نہ ہو تو برائی کو زبان سے برا کہو۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو اسے دل میں برا سمجھو مگر یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
انبیا و مرسلین کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے ماحول میں موجود باطل کی مزاحمت کی اور اس کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ سیدنا ابراہیمؑ کے پاس نہ ریاست تھی نہ حکومت تھی نہ فوج تھی نہ مال و زر تھا نہ کوئی منظم جماعت تھی اس کے باوجود سیدنا ابراہیمؑ کو حکم ہوا کہ وہ نمرود کو اسلام لانے کی دعوت دیں اور اس کے ساتھ پنجہ آزمائی کریں۔ سیدنا ابراہیمؑ نے اس حکم کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ پہلے مجھے نمرود کے برابر قوت و شوکت عطا فرما۔ اس کے برعکس سیدنا ابراہیمؑ تن تنہا نمرود کے مقابل آگئے اور ایک مکالمے میں نمرود کو لاجواب کردیا۔ چناں چہ نمرود سیدنا ابراہیمؑ کی جان کے در پے ہوگیا اور اس نے سیدنا ابراہیمؑ کو آگ میں زندہ جلادینے کی سازش کی۔ سیدنا نوحؑ ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے مگر ان کی قوم نے پیغمبر وقت کی بات نہ مان کر دی۔ صرف چند درجن افراد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے سیلاب کے ذریعے سیدنا نوحؑ کی پوری قوم کو تباہ کردیا۔ اس کا نام و نشان مٹادیا۔ سیدنا موسیٰؑ کا مقابلہ بھی ایک بادشاہ سے تھا۔ سیدنا موسیٰؑ کے پاس بھی نہ حکومت تھی نہ ریاست تھی نہ فوج تھی نہ کوئی منظم جماعت تھی۔ آپ تھے اور آپ کے بھائی ہارونؑ تھے مگر بے سروسامانی کے باوجود سیدنا موسیٰؑ نے فرعون کی مزاحمت کی۔ فرعون جادوگروں کی فوج مقابل لایا تو اللہ تعالیٰ نے معجزے کے ذریعے جادو کی شکست کا اہتمام کیا۔ رسول اکرمؐ بھی ابتدا میں تنہا تھے۔ آپؐ کے پاس بھی نہ ریاست تھی نہ حکومت تھی نہ فوج تھی نہ کوئی منظم جماعت تھی۔ اس کے باوجود آپؐ نے کفر اور شرک کی قوت کو چیلنج کیا۔ معرکہ بدر برپا ہوا تو مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی اور ان کے سامنے ایک ہزار کا لشکر جرار تھا مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فرشتوں کے ذریعے مدد کی اور باطل کی شکست کا اہتمام کیا۔ انبیا و مرسلین کی تاریخ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ مسلمان ہی نہیں جو باطل کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا اور اپنی قوت و اہلیت کے مطابق باطل کے خلاف صف آرا نہیں ہوتا۔ یہ باطل کبھی نمرود تھا، فرعون تھا، کفار مکہ اور مشرکین مکہ تھے۔ آج یہ باطل امریکا ہے، یورپ ہے، مغرب کی تہذیب ہے، بھارت ہے، اسرائیل ہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو اپنے عہد کی باطل قوتوں کا شعور ہی نہیں۔ مسلمانوں میں کتنے لوگ ہیں جو مغربی تہذیب کو چیلنج کررہے ہیں۔ اس کے خلاف صف آرا ہیں، آج مسلمانوں میں کتنے ہیں جو امریکا اور یورپ کو حق و باطل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ آج مسلمانوں میں کتنے ہیں جو اسرائیل اور بھارت کو چیلنج کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے معاشروں میں موجود برائیوں تک سے نبرد آزما نہیں۔ اسلام کہتا ہے برائی کو طاقت کے زور سے روک دو، یہ ممکن نہ ہو تو اس کے خلاف زبان سے جہاد کرو، یہ بھی ممکن نہ ہو تو برائی کو دل میں برا جانو مگر یاد رکھو یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ برائی کو دل میں بھی برا خیال نہیں کرتے۔ اس کے برعکس انہوں نے برائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ برائی کو برائی ہی خیال نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت ماحول کے جبر کا شکار ہے اور وہ ماحول کے آگے ہتھیار ڈالے ہوئے ہے۔ دشمن کو دشمن نہ سمجھنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا ایک دشمن اس کے اندر بیٹھا ہے۔ یعنی اس کا نفس امارہ۔ اسلام بتاتا ہے کہ جب تک انسان نفس امارہ کی مزاحمت نہیں کرتا اس کا روحانی، اخلاقی، نفسیاتی اور تہذیبی ارتقا ممکن نہیں ہوسکتا۔ انسان نفس امارہ کی مزاحمت کرتا ہے تو انسان کا نفس امارہ نفس لوامہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ جاری رہتا ہے تو نفس لوامہ نفس مطمئنہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ نفس مطمئنہ کے بھی کئی درجے ہیں۔ ایک درجہ نفس ملہمہ ہے، یعنی وہ شخص جس پر الہام کیا جاتا ہے، نفس ملہمہ ارتقا پزیر ہو کر نفس راضیہ اور نفس راضیہ نفس مرضیہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور نفس مرضیہ نفس مطلقہ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ انسان کے روحانی یا داخلی ارتقا کا منظرنامہ ہے اور یہ منظرنامہ نفس امارہ کو دشمن سمجھ کر اس کی مزاحمت کے بغیر طلوع نہیں ہوتا۔
عہد حاضر میں دنیا کی کئی اقوام نے دشمن کے تصور سے استفادہ کیا ہے۔ مارکسزم نے سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا دشمن قرار دے کر اس کی تنقید لکھی اور مارکسزم کے زیر اثر روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوگیا۔ اس انقلاب کی قیادت لینن کے ہاتھ میں تھی۔ لینن نے سوشلزم کے تصور انسان اور تصور معاشرہ کے تحت ایک ایسی ریاست قائم کی جس میں ذاتی ملکیت کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ جس میں تمام وسائل ریاست کی امانت تھے۔ اس ریاست نے دیکھتے ہی دیکھتے سو فی صد خواندگی حاصل کرلی۔ اس ریاست میں کوئی شخص بیروزگار نہیں تھا۔ اس ریاست میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت تھیں۔ اس ریاست میں کوئی شخص بے گھر نہیں تھا۔ اس تناظر میں سوویت یونین دنیا کے لیے ’’سوشلسٹ جنت‘‘ کی مثال بھر کر اُبھرا۔
لیکن یہ سوشلسٹ جنت دشمن کے مخصوص تصور کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ خود سرمایہ دارانہ دنیا نے سوشلزم کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے کر اس کی مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ سرمایہ دارانہ ممالک نے اپنے معاشروں میں سوشلزم کی کشش کو کم کرنے کے لیے محنت کشوں کی مراعات میں اضافہ کیا۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ ان کو کارخانوں کے منافع میں حصے دار بنایا گیا۔ ان کے علاج معالجے کی سہولتیں بہتر بنائی گئیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سوشلسٹ اور سرمایہ دار دنیا 70 سال تک دشمن کے تصور کے تحت زندگی بسر کرتی رہیں۔ 1992ء میں سوویت یونین ختم اور سوشلزم تحلیل ہوا تو مغرب نے اپنا تصور دشمن بدل لیا اور اس نے اسلام اور مسلمانوں کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے کر اسلام اور مسلمانوں پر حملے شروع کردیے۔ اس تصور دشمن کے تحت مغرب میں توہین رسالت کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اس تصور دشمن کے تحت امریکا نے افغانستان اور عراق میں مداخلت کی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ چین امریکا کی حریف طاقت بن کر اُبھر آیا۔ چناں چہ امریکا و یورپ بالخصوص امریکا نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا تصور دشمن ایک بار پھر تبدیل کیا اور اب چین امریکا کا دشمن نمبر ایک ہے۔ امریکا کے عالمی تناظر میں اس دشمن کی اہمیت بنیادی ہے۔
مسلم برصغیر میں دشمن کے تصور نے دو اہم شخصیتوں کے نظریاتی ارتقا میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اقبال ایک زمانے میں
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
لکھا کرتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا تصور دوست اور تصور دشمن دونوں بدل دیے۔ چناں چہ وہ کچھ ہی عرصے بعد
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
گاتے نظر آئے۔ ایک زمانے میں اقبال ٹھیک کٹر ہندو کی طرح سوچتے تھے۔ اس زمانے میں انہوں نے لکھا۔
پتھر کی مورتوں کو سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
مگر اقبال کا تصور دوست اور تصور دشمن بدلا تو وہ کہتے نظر آئے۔
بازو ترا اسلام کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
محمد علی جناح بھی ایک قوم پرست شخص تھے۔ سروجنی نائیڈو انہیں ہندو مسلم اتحادی کا سب سے بڑا سفیر کہا کرتی تھیں مگر قائداعظم کا تصور دوست اور تصور دشمن بھی تبدیل ہوگیا۔ چناں چہ ایک قومی نظریے کا علمبردار دیکھتے ہی دیکھتے دوقومی نظریے کا سب سے بڑا پرچالاک بن کر اُبھرا۔
جہاں تک ایاز امیر کے کالم کا تعلق ہے تو ان کا یہ خیال ٹھیک نہیں ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی خرابی کا ذمے دار پاکستان کا حکمران طبقہ ہے۔ اس کے برعکس خرابی کی ابتدا ہندو قیادت نے کی۔ اس قیادت نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس قیادت نے پاکستان کو اس کے حصے کے وسائل دینے سے انکار کردیا۔ اس قیادت نے قیام پاکستان کے فوراً بعد مسلم کش فسادات کرائے جس میں دس لاکھ مسلمان شہید ہوگئے۔ ان فسادات میں 80 ہزار مسلم خواتین لاپتا ہوئیں۔ ہندو قیادت نے طاقت کے زور پر حیدر آباد دکن، جونا گڑھ اور کشمیر کو ہتھیا لیا۔ ہندو ذہن اتنا متشدد تھا کہ اس نے کسی اور کو کیا گاندھی کو بھی قتل کردیا اس لیے کہ یہ ذہن گاندھی کو قیام پاکستان کا ذمے دار سمجھتا تھا۔ یہ سب کچھ نہ ہوتا تو قائداعظم نے فرمایا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ویسے ہی تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں جیسے امریکا اور کینیڈا کے درمیان ہیں۔ بڑا دشمن اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتا ہے۔ بڑا دشمن آپ کو زیادہ ذمے دار بنا دیتا ہے۔ مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے بھارت کو کبھی حقیقی معنوں میں بڑا دشمن سمجھا ہی نہیں۔ سمجھتے تو پاکستان کو حقیقی معنوں میں نظریاتی ریاست بناتے۔ وہ ملک میں انصاف قائم کرتے۔ ایسا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی ہم سے جدا نہ ہوتا۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے بھارت کو مسئلہ سمجھا ہوتا تو وہ بھارت کی جمہوریت کا جواب زیادہ بہتر جمہوریت سے دیتا مگر پاکستان کے حکمرانوں نے بھارت کی جمہوریت کا جواب فوجی آمریت سے دیا۔ بھارت نے قومی اتحاد کے لیے اپنی فلم انڈسٹری کو مذہب کی طرح استعمال کیا۔ ہمارے حکمران طبقے نے اسلام کی قوت تک کو قومی اتحاد کے لیے بروئے کار لا کر نہ دیکھا۔ بڑا دشمن ایک چیلنج ہوتا ہے اور چیلنج کے ساتھ انسان کے تعلق کی دو ہی صورت ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ چیلنج کو قوت محرکہ یا Motivational force میں ڈھال لیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے بوجھ بنا کر اس کے نیچے دب کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے بھارت کو قوتِ محرکہ میں ڈھالا ہوتا تو آج پاکستان علاقے کی سب سے بڑی طاقت ہوتا۔

Leave a Reply