Existence of women

 وجود زن — شاہنواز فاروقی

انسانی تاریخ میں عورت کے بارے میں دو گواہیاں تواتر کے ساتھ فراہم ہوئی ہیں۔ ایک کہ کہ عورت ایک نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے۔ عورت کے بارے میں دوسری گواہی یہ ہے کہ عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بظاہر یہ دونوں آراء ایک دوسرے کی ضد نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے بارے میں یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ فرق یہ ہے کہ عورت سے محبت کی جائے تو وہ نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے اور اگر عورت سے محبت نہ کی جائے تو عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا زمانہ عورت کے حوالے سے نحوغا برپا کرنے کا زمانہ ہے اس سے محبت کا زمانہ نہیں۔ چنانچہ عورت ایک ایسا معما بن کر کھڑی ہوگئی ہے جس کی درست تفہیم کے لیے پوری تہذیب کی تفہیم بھی کم پڑتی نظر آتی ہے۔ چنانچہ مغربی تہذیب میں جہاں عورت کی آزادی اور اس کے حقوق کا سب سے زیادہ شور برپا ہے عورت سب سے زیادہ غلام بنی دکھائی دیتی ہے اور اس کی شخصیت کی تفہیم وہاں سب سے زیادہ دھندلا گئی ہے۔ تو کیا مغربی دنیا میں عورت کی تفہیم کا کوئی حوالہ موجود ہی نہیں؟