Existence of women

 وجود زن — شاہنواز فاروقی

انسانی تاریخ میں عورت کے بارے میں دو گواہیاں تواتر کے ساتھ فراہم ہوئی ہیں۔ ایک کہ کہ عورت ایک نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے۔ عورت کے بارے میں دوسری گواہی یہ ہے کہ عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بظاہر یہ دونوں آراء ایک دوسرے کی ضد نظر آتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے بارے میں یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ فرق یہ ہے کہ عورت سے محبت کی جائے تو وہ نغمہ ہے اور اس کو سمجھنا آسان ہے اور اگر عورت سے محبت نہ کی جائے تو عورت ایک معما ہے اور اس کو سمجھنا دشوار ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا زمانہ عورت کے حوالے سے نحوغا برپا کرنے کا زمانہ ہے اس سے محبت کا زمانہ نہیں۔ چنانچہ عورت ایک ایسا معما بن کر کھڑی ہوگئی ہے جس کی درست تفہیم کے لیے پوری تہذیب کی تفہیم بھی کم پڑتی نظر آتی ہے۔ چنانچہ مغربی تہذیب میں جہاں عورت کی آزادی اور اس کے حقوق کا سب سے زیادہ شور برپا ہے عورت سب سے زیادہ غلام بنی دکھائی دیتی ہے اور اس کی شخصیت کی تفہیم وہاں سب سے زیادہ دھندلا گئی ہے۔ تو کیا مغربی دنیا میں عورت کی تفہیم کا کوئی حوالہ موجود ہی نہیں؟

ایسا نہیں ہے۔ ڈی ایچ لارنس نے اپنی تنقید اور اپنے فکشن میں عورت کی تفہیم کے لیے زاویے مہیا کیے ہیں جو مغرب میں نایاب اور مشرق میں کمیاب ہیں۔ لارنس کا مضمون Give Her a Pattern جو پہلی بار 1929 میں شائع ہوا عورت کی شخصیت کی تفہیم کے سلسلے میں ایک حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مضمون میں لارنس نے کہا ہے کہ ہر دور میں عورت کی تفہیم مردوں کے ’’تصور عورت‘‘ کے مطابق کی جانی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت نے تاریخ کے ہر دور میں خود کو مردوں کی خواہش اور تصور کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے۔ مردوں کو جب ’’شوہر پرست‘‘ عورت درکار تھی تو عورت نے خود کو شوہر پرست بنانے کی کوشش کی۔ مردوں کو پیشہ ور عورت میں خوبیاں نظر آنے لگیں تو عورت پیشہ ور بن گئی۔ لارنس اس سلسلے میں یہاں تک کہہ گیا ہے کہ انسانی سماج میں طوائف کا کردار بھی مردوں کی طلب اور تصور سازی نے پیدا کیا۔ لیکن لارنس اتنی سی بات کہہ کر نہیں رہ جاتا۔ لارنس نے کہا ہے کہ عورت کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ مرد کی خواہش کے مطابق بن جاتی ہے بلکہ اس کا مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی وہ مرد کے تصور کے مطابق بنتی ہے مرد لاشعوری طور پر ہی اسے ناپسند کرنے لگتا ہے اور اسے کسی اور طرح کی عورت درکار ہوجاتی ہے لیکن عورت مرد کے اس تضاد کو سمجھ نہیں پاتی اور وہ جب مرد کے مطابق بن کر بھی اس کی محبت اور اس کی قربت سے محروم رہتی ہے تو وہ پھر جھنجلا کر اپنی ضد بن جاتی ہے اور عورت کے بجائے ’’قاتل عورت‘‘ بن جاتی ہے۔ لارنس کے بقول مردوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اب یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں دراصل کس طرح کی عورت پسند ہے۔ لارنس کے بقول ’’ جد ید مرد‘‘ اس سلسلے میں احمقوں کے بھی چچا ہیں۔ اس لیے کہ ان کو اس بات کی ہوا بھی نہیں لگی کہ انہیں کس طرح کی عورت درکار ہے۔ لارنس کے بقول اس وقت مغرب میں مرد اور عورت کے تعلق میں جتنا زہر گُھلا ہوا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اب مردوں کاکوئی تصور عورت ہی نہیں ہے اور ہے تو وہ تصور ’’حقیقی عورت‘‘ کی ضد ہے چنانچہ عورتیں، عورت کے حقیقی تصور کے بجائے اس کے مفروضے یا دھوکے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔
محمد حسن عسکری لارنس کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے مگر انہوں نے اپنے معرکہ آراء مضمون ’’جدید عوت کی پر نانی‘‘ میں عورت کے حوالے سے لارنس کے تجزیے سے نہ صرف یہ کہ اتفاق کیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ مغرب میں عورت اور مرد کے تعلق میں خرابی کی ابتداء کب اور کیوں ہوئی۔؟ عسکری صاحب کے مطابق مغرب میں نشاۃ ثانیہ سے پہلے وہاں بھی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد مذہبی تصورات پر تھی۔ ان تصورات کی رو سے ہر چیز کی اصل ہے لہٰذا مستقل بالذات صرف خدا ہے۔ اس کے سوا ہر چیز اضافی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کائنات کا جو نظام بنایا ہے اس میں ہر چیز کی ایک جگہ ہے اور وہ چیز اس جگہ کی وجہ سے مخصوص معنوں میں مستقل بھی ہے اور اہم بھی۔ اس اصول کی رو سے سیاسی زندگی میں بادشاہ کو سیاسی اقتدار حاصل تھا اور گھرمیں مرد کو برتری حاصل تھی لیکن نہ بادشاہ کا اقتدار قائم بالذات تھا اور نہ مرد کی برتری۔ چنانچہ مخصوص معنوں میں بادشاہ کے مقابلے پر رعایا کو اور مرد کے مقابلے میں عورت کو زیادہ اہمیت حاصل ہوسکتی تھی۔ مطلب یہ کہ اس نظام حیات میں نہ تو مرد مطلقاً بہتر تھا نہ عورت بلکہ دونوں مل کر ازدواجی رشتے کی تکمیل کرتے تھے۔ اس لیے دونوں کا اپنی اپنی جگہ پر رہنا اور ایک دوسرے کی حیثیت کا احترام کرنا ضروری تھا۔ اس نظام میں خلل اس وقت پڑا جب یورپ میں پروٹسٹنٹ تحریک چلی اور لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ مذہبی معاملات میں ہر شخص کو ’’ذاتی رائے‘‘ رکھنے اور خدا سے براہِ راست تعلق پیدا کرنے کا حق حاصل ہے۔ مغرب میں جب یہ اصول مذہبی زندگی میں رائج ہوگیا تو پھر آہستہ آہستہ انسانی رشتوں میں بھی اس کا سکہ چلنے لگا۔ جس طرح لوگ خدا سے ذاتی رشتہ قائم کرنے کا دعویٰ کرنے لگے اسی طرح ازدواجی تعلقات بھی ذاتی چیز بننے لگے۔ لیکن عسکری صاحب کے بقول ہم کسی سے ذاتی رشتہ اس وقت قائم کرتے ہیں جب اس میں کوئی خوبی دیکھیں۔ پہلے تو ہر شخص کو یہ خوبی حاصل تھی کہ وہ اپنی جگہ قدروقیمت رکھتا ہے لیکن جب پورا نظام ہی ٹوٹ گیا تو ہر شخص کی یہ مستقل خوبی اپنے آپ غائب ہوگئی۔ اب ہر شخص کو ایک ذاتی اور شخصی خوبی دکھانی پڑتی تھی۔ سماجی رشتے قائم کرنے کے لیے بھی یہ لازم ہوا کہ آدمی اپنی خوبی دوسروں سے منوائے اور دوسرے خوبی کو اس وقت مانتے ہیں جب یہ خوبی خارجی شکل میں نظر آئے۔ لہٰذا اب یہ لازم ہوا کہ آدمی کچھ کرکے دکھائے۔ یعنی آدمی کی تو کوئی قدروقیمت نہ رہی۔ قدروقیمت پیدا ہوئی تو خارجی مناسبات کی۔ یعنی اب سماجی تعلق میں طاقت، مال ودولت، سماجی رتبہ وغیرہ اہم ہوگئے۔ اس تبدیلی سے مرد اور عورت کے رشتے کی سماجی اور حیاتیاتی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔ چونکہ حیاتیات پر عورت کا انحصار زیادہ ہے اس لیے اس کی شخصیت مرد سے زیادہ مسخ ہوئی۔ اس کا سب سے موثر اظہار شیکسپئر کے ڈراموں باالخصوص لیڈی میکبتھ میں ہوا۔
مسلم تہذیب میں مرد اور عورت کے تعلق کی جیسی تفہیم شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے یہاں نظر آتی ہے وہ کسی اور صوفی یا عالم دین کے یہاں دکھائی نہیں دیتی۔ عسکری صاحب نے اپنے زیر بحث مضمون میں شیخ اکبر کا حوالہ دیا ہے۔ شیخ اکبر نے فرمایا ہے ہر کل اپنے جز سے محبت کرتا ہے چنانچہ خدا کو مرد سے محبت ہے اور مرد کو عورت سے۔ چونکہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے اس لیے عورت مرد سے محبت کرتی ہے اور مرد خدا سے۔ یہ حقیقت ایک سطح پر لارنس کے بھی علم میں تھی جس نے کہا ہے کہ مرد کی نظر خدا پر رہنی چاہیے اور عورت کی نظر اس خدا پر جو مرد کے اندر ہے۔ لیکن مغربی دنیا میں خدا مرد اور عورت کے تعلق سے یکسر خارج ہوگیا ہے اور مغرب کی عورت ان تصورات کے پیچھے بھاگ رہی ہے جن کی چاٹ اسے خود مردوں نے لگائی ہے اور جن کو حقیقت بنا کر عورتیں سمجھتی ہیں کہ وہ مردوں کے دل جیت سکتی ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ مرد عورت کا جو تصور پیش کرتے ہیں جب عورت ٹھیک اس کے مطابق بن جاتی ہے تو مرد اس عورت کو نظر انداز کرکے کسی ’’اور طرح‘‘ کی عورت کی تمنا کیوں کرنے لگتے ہیں۔؟ مغرب میں اس سوال کا ایک تناظر یہ ہے کہ عیسائیت کی مخصوص تعلیم اور تاریخ میں عورت کو گناہ کا سرچشمہ سمجھا گیا ہے اس لیے مردوں میں عورت کو Manage کرنے کی نفسیات پیدا ہوئی اور مردوں کے مذکورہ طرزعمل کا ایک پہلو اس Management سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ خلقی طور پر عورت مرد میں ’’وحدت‘‘ اور مرد عورت میں ’’کثرت‘‘ کو تلاش کرتا ہے اس لیے کہ کائناتی بندوبست میں مرد اصول وحدت اور عورت اصول کثرت کی نمائندہ ہے اور وہ اپنی ضد میں دلکشی اور رغبت محسوس کرتے ہیں۔ مذکورہ سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ عورت کا مخصوص تصور اس کے پورے وجود کی علامت نہیں ہوتا بلکہ وہ عورت کے وجود کا محض ایک جز ہوتا ہے اور جز سے کل کی تسکین حاصل نہیں ہوسکتی۔
مسلم معاشروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں عورت کی حیثیت مغربی معاشروں سے بدرجہا بہتر ہے لیکن مغرب اب کسی جغرافیے کا نام نہیں۔ وہ ایک نفسیات ہے اور اس نفسیات کا مسلم معاشروں کے بالائی طبقوں پر گہرا اثر ہے۔ مسلم معاشروں کا متوسط طبقہ چونکہ مذہب کے زیادہ زیر اثر ہوتا ہے اس لیے اس طبقے میں شادی کے ادارے کو شادی کی مذہبیت اور اس کی تقدیس کا کچھ نہ کچھ فیضان ضرور پہنچتا ہے لیکن متوسط طبقے میں بھی عورت اپنے پورے وجود سے کلام کرتی نظر نہیں آتی۔ یہاں بھی مردوں نے اس کی کچھ اقسام یا اس کے Typesبنا دیے ہیں اور عورتیں خود کو ان اقسام کے مطابق ڈھالنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔
اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں
, , ,