اسلام اور امت سے بیزاری — شاہنواز فاروقی

مسلمانوں میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا ہے جسے اسلام اور امت مسلمہ سے چڑ ہے۔ اس طبقہ کے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف بغض بھرا رہتا ہے مگر یہ لوگ اسلام کے خلاف اپنے حقیقی خیالات کا اظہار نہیں کرسکتے اس لیے کہ وہ ایسا کریں گے تو ازخود دائرہ اسلام سے باہر چلے جائیں گے اور معاشرے کا دبائو ان کا جینا حرام کردے گا۔ چنانچہ یہ لوگ اسلام کے خلاف کھل کر کچھ نہیں کہتے۔ البتہ اسلام کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کا انہوں نے یہ طریقہ ایجاد کیا ہے کہ انہیں اسلام کو برا بھلا کہنا ہوتا ہے تو وہ ملائوں اور مولویوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ملائوں اور مولویوں میں بہت خرابیاں ہونگی۔ مگر اسلام ملائوں اور مولویوں کی ایجاد نہیں ہے۔ اسلام کے مقاصد، اس کا نظام عبادات اور اس کی اخلاقیات اللہ تعالیٰ کا حکم ہیں مگر مذکورہ طبقے کے لوگ ان حقائق پر بھی اس طرح کلام کرتے ہیں جیسے پورا کا پورا اسلام ملائوں کی تعبیر کا حاصل ہو اور وہ اسی لیے اسلام پر عمل نہ کرتے ہوں۔ تاہم امت کا معاملہ اسلام سے قدرے مختلف ہے۔ امت کا تصور اسلام کی طرح مذہبی محسوس نہیں ہوتا۔ چنانچہ یہ لوگ امت کے تصور کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں دنیا بھر میں بکھرے ہوئے کروڑوں مظلوم مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اور اگر یہ لوگ مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر بھی کرتے ہیں تو دکھاوے کے لیے اور یہ دکھاوا خود ان کی اپنی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو مسلم معاشروں میں آباد دوسرے مذاہب اور اقلیتی مذہبی طبقات کے ساتھ ہونے والے سلوک کا غم کھائے جاتا ہے۔

Continue reading