برصغیر میں سیاست و سماجیت کی دانش ورانہ بنیادیں

یورپی اقوام کے تسلط نے اگرچہ ایشیاء اور افریقہ کی اکثر اقوام کو اپنا غلام بنایا، مگر برصغیر میں غلامی کے تجربے نے سیاست اور سماجیات کو جو دانشورانہ بنیادیں فراہم کیں اس کی م…ثال نہیں ملتی۔ 1857ء کی جنگ آزادی اگرچہ منصوبہ بندی کے ساتھ شروع ہوئی نہ منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھی، مگر اس جنگِ آزادی کو مسلمانوں نے جہاد کا رنگ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو جہاں جہاں جزوی کامیابی حاصل ہوئی وہ اس جہادی تناظر ہی کا حاصل تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ کے لیے تحریکِ خلافت چلائی۔ اس تحریک کی پشت پر مذہبی‘ تہذیبی‘ تاریخی اور سیاسی تناظر پوری شدت کے ساتھ موجود تھا۔ تحریکِ خلافت نے ثابت کیا کہ برصغیر کے مسلمان غلامی میں بھی امت کے تصور کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ برصغیر کے مسلمانوں نے انگریزوں سے عسکری محاذ پر شکست کھائی ہے‘ تاہم ان کی تہذیبی روح اور تاریخی شعور میں بڑا دم خم ہے۔ اگرچہ تحریک خلافت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوئی اور اس کی کامیابی کا کوئی امکان بھی نہ تھا، مگر اس تحریک نے مسلمانوں کو منظم‘ متحد اور متحرک کیا اور انہیں بتایا کہ اپنے مقاصد کے لیے نظریہ سازی کیسے کی جاتی ہے اور بڑی تحریک کس طرح برپا ہوتی ہے۔

[shahnawazfarooqi.com]

Continue reading

تخلیق — شاہنواز فاروقی

انسانی زندگی میں تخلیق کی اہمیت اتنی بنیادی ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال نے کہا ہے۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
اقبال اس کے شعر کا مفہوم واضح ہے اور وہ یہ کہ صرف تخلیق و ایجاد کی صلاحیت انسان کو ’’زندہ‘‘ کہلانے کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص تخلیق و ایجاد کی صلاحیت سے محروم ہے وہ زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں ہے۔ ا…س کی وجہ یہ ہے کہ تخلیق ہی آدم کی زندگی کا ’’راز‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کنُ کہا اور اس پوری کائناب کو خلق کردیا ۔ انسان کی کو اس ’’کنُ‘‘ کی بازگشت ہونا چاہیے۔ اقبال کے نزدیک دنیا میں وہی شخص یا وہی قوم مرکزیت حاصل کرتی ہے جو تخلیق کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ اقبال نے اس سلسلے میں کہا ہے۔
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
جو عالم ایجاد میں ہو صاحب ایجاد
اس کے معنی یہ ہیں کہ تخلیق وایجاد کی صلاحیت زندگی کی ’’قوت ثقل‘‘ یا اس کی Gravitational Force ہے اور دنیا نے خود کو اس قوت کے طواف پر مجبور پایا ہے۔ لیکن اقبال کے نزدیک تخلیق کا مفہوم کیا ہے؟ اس حوالے سے اقبال نے کہا ہے۔
جہاں تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اقبال کی نظر میں تخلیق کا مطلب نئے خیالات یا نیا علم ہے۔ انسان کی پوری تاریخ اقبال کے اس دعوے کا ثبوت ہے کہ نئی دنیا ’’ہمیشہ‘‘ نئے علم سے پیدا ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اینٹوں اور پتھروں سے نئی دنیا تعمیر ہوتی ہے وہ زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ واضح رہے کہ یہاں ’’سنگ وخشت‘‘ سے مراد صرف اینٹ پتھر نہیں طاقت اور دولت بھی ہیں۔ اس لیے کہ یہ نیا علم ہے جو دولت اور طاقت کو نئی دنیا کی تعمیر کا ’’ذریعہ‘‘ بناتا ہے۔ نیا علم نہ ہوتو طاقت اور دولت بھی سنگ وخشت کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے سنگ وخشت جن سے کسی کا سر تو پھوڑا جاسکتا ہے مگر ان سے کوئی پھول نہیں کھلا یا جاسکتا۔ کوئی زخم نہیں سیا جاسکتا۔ یعنی نئے علم کے بغیر دولت اور طاقت تخریبی قوت تو ہوسکتی ہیں، تعمیری قوت ہر گز نہیں ہوسکتیں۔ لیکن ہمارے زمانے میں تخلیق کے تصور کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ منسلک ہوگیا ہے۔

Continue reading

پاکستانی معاشرے کا خطرناک علمی رجحان

ہماری دنیا سیاسی اعتبار سے ہی نہیں علمی اعتبار سے بھی بھیڑ چال کا منظر پیش کررہی ہے۔ یہ بھیڑ چال اُن معاشروں میں زیادہ سنگین ہے جہاں قیادت کا بحران اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ علمی بھیڑچال کا مفہوم کیا ہے؟
اس سوال کا جواب آسان ہے۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی عظیم اکثریت ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ معاشرے میں علم طب یا فنِ تعمیر سے عشق کا رجحان پیدا ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر اور انجینئر بن کر زیادہ بہتر روزگار حاصل کیا جاسکتا تھا، اور ڈاکٹر اور انجینئر کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ کسی میں اہلیت ہو یا نہ ہو مگر وہ اُس زمانے میں ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتا تھا۔ اُس زمانے میں والدین بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا خواب تو یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنائیں۔ لیکن پھر زمانے نے کروٹ لی اور کامرس میں زیادہ پیسہ اور نام نہاد عزت آگئی، چنانچہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی پٹری تبدیل کرلی اور وہ بی کام ‘ ایم کام‘ ایم بی اے اور سی اے کے خواب دیکھنے لگے۔ اہم بات یہ تھی کہ جس طرح ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا رجحان علمی اور شعوری نہیں تھا اسی طرح ایم بی اے اور سی اے کرنے کا رجحان بھی علمی اور شعوری نہیں تھا۔ جس طرح پیسے اور سماجی تکریم کی ’’ہوس‘‘ نے ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کیے اسی طرح پیسے اور سماجی عزت کا عشق ایم بی اے اور سی اے پیدا کرنے لگا۔ لیکن یہ رجحان بھی اپنی اصلی حالت پر باقی نہ رہا۔ دنیا میں اچانک انفارمیشن ٹیکنالوجی کا رجحان وبا بن کر پھوٹ پڑا، اور اس کا اثر پاکستان پر بھی مرتب ہوا۔ چنانچہ کافی طلبہ کامرس کے کھونٹے سے رسّی تڑاکر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم پر جاکھڑے ہوئے، اور اب یہ صورت حال ہے کہ ہمارے طلبہ و طالبات کی عظیم اکثریت یا تو کامرس کے مضامین میں مہارت پیدا کرنا چاہ رہی ہے یا وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ’’بل گیٹس‘‘ بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب طلبہ کی بڑی تعداد ڈاکٹر اور انجینئر بھی نہیں بننا چاہتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں شعبوں میں محنت زیادہ ہے اور اس کا ’’معاشی صلہ‘‘ بہت کم ہے۔ ایک طالب علم پانچ سال تک ایم بی بی ایس کی ڈگری کے لیے جان مارتا ہے، اور ایم بی بی ایس کرنے کے بعد اسے کہیں آٹھ دس ہزار سے زیادہ کی نوکری نہیں ملتی۔ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی سماجی عزت بھی ہمارے لیے اسی وقت اہم ہے جب اس کے ساتھ پیسہ بھی ہو۔ پیسہ نہ ہو تو خالی خولی سماجی عزت ہمارے لیے اتنی اہم نہیں ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے ایک طالب علم پانچ سال کی محنت شاقہ سے گزرے۔ اس صورت حال کو دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ تجارتی علم‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مادی علوم کا معاشرہ بن کر رہ گیا ہے۔

[shahnawazfarooqi.com]

Continue reading