پاکستان معاشرے میں انتشار کیوں؟۔

بنیادی سبب کی ایک مختلف زاویے سے تلاش پاکستانی معاشرہ روحِ انتشار کے (ادنیٰ) غلاموں میں تبدیل ہوچکا ہے، اب اس کے بارے میں صرف ایک بات یقین سے کہی جاسکتی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کوئی بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی، اب بے اصولی ہی اس کا اصول ہے، اس کے افراد جس تن دہی کے ساتھ ہمہ جہت تخریبی عمل میں مصروف ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے باشندوں کی نظر میں اس کی تخریب ہی اس کی تعمیر ہے، اور اس کی موت ہی اس کی زندگی ہے۔ کتنی ہولناک…

مزید پڑھئے

عمران کا نیا پاکستان یعنی قادیانستان؟۔

یہ مضمون 8 ستمبر بروز ہفتہ “جسارت” کے ادارتی صفحے پر شائع ہوا، اہمیت کے پیش نظراسے قارئین کے استفادے کے لیے دوبارہ پیش کیا جارہاہے عمران خان کے نئے پاکستان کے بارے میں چند باتیں متفق علیہ ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ عمران کا نیا پاکستان اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان ہے، دوسری بات یہ کہ عمران کا نیا پاکستان Electables کا پاکستان ہے، تیسری بات یہ کہ عمران کا پاکستان سرمائے کا پاکستان ہے، چوتھی بات یہ کہ عمران کا پاکستان ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد تنظیموں سے سمجھوتے کا پاکستان ہے، پانچویں بات یہ کہ عمران کا…

مزید پڑھئے

پاکستان کے حکمرانوں کا تصور قوم کیا ہے؟

اسلام کا تصورِ انسان بے مثال ہے، اسلام کا انسان اشرف المخلوقات ہے، زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہے، اس کی جان کی حرمت کعبے سے بڑھ کر ہے، وہ کائناتِ اکبر ہے، وہ اللہ کا ہاتھ ہے، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، اس کی نظر میں خدا اور اس کی رضا کے سوا ہر چیز ہیچ ہے۔ ان تصورات کا اثر ہماری شاعری پر بھی پڑا ہے۔ میرؔ نے کہا ہے: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ذوقؔ نے فرمایا ہے: بشر جو اس تیرہ خاک…

مزید پڑھئے

غزل

ہر ایک دل کے لیے ریگزار ہے دنیا عزیز راہ نہیں ہے غبار ہے دنیا دکھا چکا ہے مجھے میرے دل کا آئینہ نگارِ مرگ کا سولہ سنگھار ہے دنیا محاصرہ ہے اَنا کا، ہوس کا، پستی کا نہ جانے کس نے کہا ہے حصار ہے دنیا نگاہ ہو تو خزاں ہی خزاں ہے چاروں طرف نظر نہ ہو تو چمن ہے بہار ہے دنیا کسے خبر ہے یہاں زندگی کے دھوکے میں ہر اک بشر کو اجل کی پکار ہے دنیا ہر اک مقام سے اس کا جدا تعلق ہے بدن پہ پھول ہے اور دل میں خار ہے…

مزید پڑھئے