مضامین

پاکستان کی دھماکہ خیز سیاسی صورتِ حال

پاکستان کی سیاست کو اگر ایک نام دیا جائے تو کہا جائے گا کہ پاکستان کی سیاسی صورتِ حال ہمیشہ سے ’’دھماکہ خیز‘‘ ہے۔ جنرل ایوب نے 1958ء میں پہلا مارشل لا لگا دیا اور ملک کی سیاسی صورتِ حال دھماکہ خیز ہوگئی۔ جنرل یحییٰ نے ایک سہانی شام چند اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایوانِ صدر جاکر جنرل ایوب سے کہا: جنابِ صدر اب آپ کو جانا ہوگا۔ اور جنرل ایوب مستعفی ہوگئے۔ ان کے استعفے نے سیاسی صورتِ حال کو ایک بار پھر دھماکہ خیز بنادیا۔ 16 دسمبر 1971ء کو ’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ ہوگیا، ملک ٹوٹ گیا اور سیاسی…

مزید پڑھئے

بدمعاش ریاست کی شرمناک تاریخ

معلوم نہیں ان سطور کی اشاعت تک عمران خان اقتدار میں ہوں گے یا نہیں، لیکن عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں اپنی حکومت کے خلاف عالمی سازش کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ عمران خان نے جلسے میں ایک خط لہرایا اور بتایا کہ انہیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو شبہ ہے تو وہ اُسے مذکورہ بالا خط آف دی ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے اپنے خط میں کسی طاقت کا نام نہیں لیا لیکن عام خیال…

مزید پڑھئے

انا اور انانیت

بعض الفاظ ایسے ہیں جو بیک وقت مثبت معنوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور منفی معنوں میں بھی۔ ان الفاظ میں ایک لفظ انا بھی ہے۔ اس کے حامل افراد سے مثبت قدر کا حامل قرار دیتے ہیں جبکہ کسی کی انا کا شکار ہونے والے اسے ایک منفی قدر سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ دلچسپ صورت حال بھی نظر سے گزرتی ہے کہ انا کے حامل لوگ اس سے چھٹکارا پانے کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ جن کے پاس انا نہیں ہوتی وہ اس کے حصول کے تمنائی بنے دکھائی دیتے ہیں۔ بہرحال ایک بات طے…

مزید پڑھئے

پاکستان، حکمران اور دانش ور

معروف کالم نویس یاسر پیرزاد نے اپنے ایک حالیہ کالم میں یہ لکھا ہے کہ معاشروں کی بقا و سلامتی کے لیے اہداف اور مقاصد کا تعین ضروری ہوتا ہے۔ یاسر پیرزادہ کے مطابق یہ کام معاشرے کے دانش وروں اور فلسفیوں کا ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے مقاصد اور اہداف کا تعین کریں۔ یاسرپیرزادہ نے لکھا ہے کہ امریکا میں تھامس پین نے معاشرے کی رہنمائی کی۔ روس میں جیورجی یلاکو نوف معاشرے کا رہنما بن گیا۔ فرانس میں والٹیر اور روسو معاشرے کی نظر بن گئے۔ برطانیہ میں ایڈ منڈبروک معاشرے کا دماغ بن کر کھڑا ہوگیا۔…

مزید پڑھئے

اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے ؟

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک عدم اعتماد سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران فرمایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی فریق کے ساتھ نہیں بلکہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔ اتفاق سے اسٹیبلشمنٹ کی ایک تاریخ ہے، اور اس تاریخ سے شیخ رشید کے بیان کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس عدم تصدیق کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خود ہی کو قوم سمجھتی ہے، خود ہی کو پاکستان سمجھتی ہے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے اپنے ساتھ ہونے کی بات اتنی مختصر نہیں۔ جنرل ایوب خان ملک کے پہلے فوجی آمر تھے۔ انہوں نے اگرچہ مارشل لا 1958ء…

مزید پڑھئے

سوشلزم کے زوال کے اسباب

سوشلزم کا زوال عہد ِ حاضر کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ سوشلزم نے نہ صرف یہ کہ روس اور چین میں انقلابات برپا کرکے دکھائے بلکہ اس نے آدھی سے زیادہ دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ 1980ء کی دہائی تک سوشلزم کا عالمی امیج یہ تھا کہ سوشلزم کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ ہم 1987ء میں جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں بی اے آنرز سال دوم کے طالب علم تھے۔ اس زمانے میں ہمارے ایک بزرگ دوست تھے۔ ان کا نام علی حیدر ملک تھا۔ ملک صاحب افسانہ نگار، نقاد اور اردو…

مزید پڑھئے

مولانا مودودیؒ اور احیا کی تحریک

امتِ مسلمہ میں اس حقیقت کا شعور عام نہیں ہے کہ امت مسلمہ کے مشہور زمانہ ’’زوال‘‘ کے قصے میں یورپی طاقتوں کی غلامی کا کردار مرکزی ہے۔ غلامی کا یہ تجزیہ نہ ہوتا تو امتِ مسلمہ کا ’’تصور ذات‘‘ کچھ اور ہوتا۔ امت کے تہذیبی، ذہنی، نفسیاتی اور سماجی و معاشی مسائل کچھ اور ہوتے۔ لیکن غلامی کے تجربے نے ہر چیز کے معنی کو بدل کر رکھ دیا۔ عہدِ حاضر میں غلامی کے تجربے کو اقبال نے جس طرح سمجھا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اقبال نے غلامی کی ہولناکی کو ظاہر کرتے ہوئے کہا…

مزید پڑھئے

اسلام، پاکستان اور قائد اعظم کے غدار

آپ سے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کارل مارکس روس کے اندر اسلامی انقلاب برپا کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا تو آپ کیا کہیں گے؟ یقینا آپ کہیں گے کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کو یہ بتائے کہ مائوزے تنگ چین میں خلافت کا نظام رائج کرنا چاہتا تھا تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ آپ کہیں گے یہ بکواس ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ عناصر 70 سال سے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ قائداعظم پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے اور ان کی زبان پکڑنے والا…

مزید پڑھئے

پاکستان میں بائیں بازو کی ناکامی کے اسباب

ضمیر نیازی صحافت کے مورخ اور بائیں بازو کے معروف صحافی تھے۔ ان کی تصنیف Press in Chains مشہور زمانہ ہے۔ ضمیر نیازی ہمارے کرم فرمائوں میں سے تھے۔ وہ ہمارے کالم نہ صرف یہ کہ شوق سے پڑھتے تھے بلکہ بائیں بازو کے ممتاز لوگوں کو فوٹو اسٹیٹ کراکے ارسال کیا کرتے تھے۔ ضمیر نیازی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ساری زندگی نظریاتی سیاست اور صحافت کے علمبردار رہے۔ ضمیر نیازی دائیں بازو ہی کے نہیں بائیں بازو کے بھی ناقد تھے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ…

مزید پڑھئے

پاکستانی سیاست کے حمام میں سب ننگے

سیاست انبیا کا ورثہ اور ایک ’’عبادت‘‘ ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسے ’’غلاظت‘‘ بنادیا گیا ہے۔ امام غزالیؒ نے ’احیاء العلوم‘ میں لکھا ہے کہ سیاست دین کے تابع ہے۔ ابن خلدون نے اپنے مشہورِ زمانہ مقدمے میں فرمایا ہے کہ اسلامی ریاست میں سیاست دین کا حصہ ہے۔ اقبال کا مشہورِ زمانہ شعر ہے: جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی عہدِ حاضر کے مجدد مولانا مودودیؒ کی پوری سیاست دین مرکز تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی بنائی تو دین کے غلبے کی جدوجہد کے لیے۔ قائداعظم…

مزید پڑھئے