Articles

مغربی دنیا اور اس کا ہولناک نظام

’’جدیدیت‘‘ کے نام پر مغربی تہذیب کی گمراہیوں کی اصل جڑ کیا ہے؟ مولانا مودودیؒ جیسے مہذب آدمی نے مغربی تہذیب کو چار ہولناک نام دیے ہیں۔ مولانا نے فرمایا ہے: جدید مغربی تہذیب ’’باطل‘‘ ہے، یہ ’’جاہلیتِ خالصہ‘‘ ہے، یہ ’’تخم خبیث‘‘ ہے، یہ ’’شجر خبیث‘‘ ہے۔ مولانا سے پہلے اقبالؒ مغربی فکر کی اصل حقیقت آشکار کرتے ہوئے ہوئے فرما چکے ہیں: دانشِ حاضر حجابِ اکبر است بت پرست و بت فروش و بت گر است ٭٭٭ محسوس پر بنا ہے علومِ جدید کی اس دَور میں ہے شیشہ عقاید کا پاش پاش اقبال کہہ رہے ہیں کہ…

مزید پڑھئے

ریاست

اقبال نے کہا تھا ان تازہ خدائو میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے اقبال نے یہ بات 20 ویں صدی کی قوم پرستی کے دبائو کے پیش نظر کہی تھی۔ اس لیے کہ 20 ویں صدی میں نسل، جغرافیہ اور زبان قوموں کے تشخص کا تعین کرنے والی چیزیں بن گئے تھے۔ لیکن 20 ویں صدی میں وطن پرستی کا ایک اور سبب بھی تھا۔ اس صدی میں ریاست کے ایسے تصورات سامنے آئے جو ریاست سے ایسی عقیدت وابستہ کرنے والے تھے کہ ریاست ایک ماورائی حقیقت کا درجہ…

مزید پڑھئے

شہر اور قہر

شہر اور قہر کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جہاں قہر ہوگا وہاں افراد معاشرہ کی شخصیتوں میں زیادہ عدم استحکام ہوگا اور جہاں شخصیتوں میں زیادہ عدم استحکام ہوگا وہاں نفسیاتی مسائل بھی یقیناً زیادہ ہوں گے۔ شہری تمدن کے لوگ خواہ یہ تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شہروں کے لوگوں کی نسبت دیہات میں زندگی بسر کرنے والے زیادہ مستحکم شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ معذرت گھڑلی گئی ہے کہ چونکہ شہر میں آباد افراد پر صنعتی زندگی کا دبائو زیادہ ہوتا…

مزید پڑھئے

آزادیٔ افکار

نئی دنیا نئی فکر سے تعمیر ہوتی ہے اور نئی فکر کے لیے آزادیٔ افکار ناگزیر ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا ہے۔ جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا امام غزالیؒ اسلامی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی خود نوشت المنقذ من الضلاح میں لکھا ہے کہ ’’جب میں نے اپنے ماحول میں موجود مذہبی فکر پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے اپنے زمانے کی مذہبی تعبیرات میں نقائص نظر آنے لگے اور میرے اندر ان تعبیرات کے حوالے سے تذبذب پیدا ہوگیا۔…

مزید پڑھئے

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی

جاوید چودھری پاکستان کے ایک ایسے کالم نگار ہیں جن کو بتوں سے تو امیدیں ہیں مگر جنہیں خدا سے کوئی امید نہیں۔ چنانچہ ان کی تحریریں پڑھ کر ہمیں اکثر اقبال کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے جاوید چودھری صرف خدا سے ناامید ہیں ورنہ انہیں سیکولرازم سے امیدیں ہیں۔ لبرل ازم سے امیدیں ہیں چین کے سوشلزم سے امیدیں ہیں، بھارت اور اسرائیل کی قوم پرستی سے امیدیں ہیں مگر انہیں آج تک اسلام سے امیدیں وابستہ کرتے نہیں دیکھا جاسکا ہے۔…

مزید پڑھئے

عمران خان پر قاتلانہ حملہ:پاکستان کی دھماکہ خیز سیاسی صورتِ حال

بدقسمتی سے ہمارے جرنیلوں نے فوج کو ایک سیاسی جماعت بناکر کھڑا کردیا ہے۔ دنیا میں پاکستان کے سوا شاید ہی کوئی ملک ہو جس کے بارے میں 75 سال سے کہا جارہا ہو کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان 1947ء میں قائم ہوا تو کہا جارہا تھا کہ ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک کا خزانہ خالی تھا، ملک کا دفاع کمزور تھا، ایک کروڑ سے زیادہ افراد ہجرت کرکے پاکستان آرہے تھے، ہندوستان نے ہمارے حصے کی رقم روک لی تھی اور طاقت کے زور پر…

مزید پڑھئے

علامہ محمد اقبال اور پاکستان

پاکستان اقبال کا خواب ہے۔ اس خواب کی عظمت یہ ہے کہ محمد علی جناح نے اس خواب کو تعبیر دی اور محمد علی جناح سے قائداعظم بن گئے۔ لیکن قائداعظم کے بعد جو لوگ اقتدار میں آئے انھوں نے شعوری یا لاشعوری طور پر اقبال کے خواب کو ’’خواب و خیال‘‘ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کون سی لایعنی بحث ہے جو پاکستان میں نہیں اٹھی اور سب سے فضول بحث تو پاکستان کی بنیاد کے بارے میں ہے۔ کسی کو تحریک پاکستان کی پشت پر صرف اقتصادی محرکات نظر آتے ہیں۔ کسی کو محض سیاسی عوامل دکھائی…

مزید پڑھئے

اسلام، پاکستان اور جاوید چودھری کی جہالت

دنیا کی ہر ریاست اپنے بنیادی عقیدے اپنے بنیادی تشخص کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہے۔ کوئی شخص اس کے عقیدے اور تشخص پر حملہ کرتا ہے تو ریاست اس کا منہ توڑ جواب دیتی ہے۔ سابق سوویت یونین سوشلزم کا مرکز تھی۔ اس کا عقیدہ سوشلزم یا مارکسزم تھا۔ لینن نے روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا کرکے اسے سوویت یونین میں ڈھالا تھا۔ ٹروٹسکی ایک بڑا انقلابی سوشلسٹ دانش ور تھا۔ اسے لینن سے سوشلزم کی تعبیر کے سوال پر اختلاف ہوگیا۔ ٹروٹسکی غدار نہ تھا۔ وہ دل و جان سے سوشلزم پر ایمان رکھتا تھا مگر لینن…

مزید پڑھئے

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کمزور یا طاقت ور؟

غیر سیاسی جرنیلوں کی سیاسی پریس کانفرنس   آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر ڈالا ہے۔ انہوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ غدار ہیں تو آپ آج بھی اُن سے چھپ چھپ کر کیوں ملتے ہیں؟ آپ نے انہیں تاحیات توسیع کی پیشکش کیوں کی؟ ماضی میںجنرل باجوہ کی تعریفوں کے پُل کیوں باندھے تھے؟ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ رات کے اندھیرے میں اُن سے ملیں اور دن کی روشنی میں انہیں…

مزید پڑھئے

اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیو ایم

امریکا کے حکمرانوں نے پوری دنیا کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ یورپ صدیوں تک کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلتا رہا۔ بھارت کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ نے پورے جنوبی ایشیا کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کی گردن پر پائوں رکھ کر کھڑا ہے۔ لیکن اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا کی سیاسی یا فوجی اسٹیبلشمنٹ خود امریکا کی کمزوری کے لیے کام کرے گی۔ یہ سوچنا بھی ممکن نہیں کہ بھارت کا حکمران طبقہ خود بھارتی معاشرے کو تقسیم کرے گا۔ جنرل میک آرتھر دوسری جنگ عظیم میں امریکا کے ہیرو…

مزید پڑھئے