The 1857 war: Some bitter realities

جنگِ آزادی 1857 اور تلخ حقائق — شاہنواز فاروقی

امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے عراق کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جن سے امریکا اور دیگر مغربی ملکوں کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ لیکن بالآخر ثابت ہوا کہ عراق کے پاس ایسے ہتھیار نہیں تھے۔ اس صورتِ حال کے بعد برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اچانک پینترا بدلا اور فرمایا کہ ہمیں یقین ہے کہ تاریخ ہمارے اقدام کو صحیح قرار دے گی۔ ٹونی بلیئر نے یہ بات اس طرح کہی جیسے مستقبل میں تاریخ نویسی کا کام انہی کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ اپنی جارحیت کے بارے میں جو چاہیں گے لکھ سکیں گے۔ ایسا نہ ہوتا تو ٹونی بلیئر کو معلوم ہوتا کہ تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔ وہ دودھ اور پانی کو الگ کردیتی ہے، بلکہ حال کے دکھ ماضی کی تلخیوں کو بھی زندہ کردیتے ہیں۔ اس کا تازہ ترین ثبوت یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد مغربی دنیا نے اسلام اور مسلمانوں کو اس طرح دہشت گردی اور انتہا پسندی سے وابستہ کیا ہے کہ مسلمان یورپی طاقتوں کے نوآبادیاتی تجربات کو بھی یاد کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مسلمانوں کا ایک بہت ہی بڑا تلخ نوآبادیاتی تجربہ 1857ء کی جنگِ آزادی ہے۔ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو اس جنگ ِآزادی سے دور رکھنے کے لیے یقین دلایا کہ اگر وہ مجاہدینِ آزادی سے دور رہا تو اس کی بادشاہت اور مراعات کو کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ لیکن انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر سے کیے گئے عہد کو پورا نہ کیا۔ اس کے برعکس انہوں نے شہزادوں کے سر کاٹ کر بہادر شاہ ظفر کو تحفے کے طور پر بھیجے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بہادر شاہ ظفر کو ہندوستان میں مرنے اور دفن بھی نہ ہونے دیا۔ دنیا کی عظیم الشان سلطنت کا مالک رنگون کے ایک کمرے میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگیا اور گمنامی میں مرگیا۔ اس بے بسی اور کسمپرسی کا اظہار بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں ہوا ہے جس کی علامت اُس کا یہ شعر ہے ۔
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
لیکن بہادر شاہ ظفر کا ذاتی المیہ 1857ء کی جنگ آزادی کا محض ایک فیصد ہے۔ انگریزوں نے جنگ آزادی کو غدر اور بغاوت کا نام دیا، حالانکہ انگریزوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ جنگِ آزادی زیادہ سے زیادہ ’’خانہ جنگی‘‘ کہلانے کی مستحق تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا، اور ہندو ہی نہیں مسلمان بھی انگریزوں کی ’’رعیت‘‘ تھے، اور رعیت حکمرانوں سے ناراض ہو تو اس کو قتل عام اور نسل کشی کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ اس سے بات چیت کی جاتی ہے، مذاکرات کا اہتمام کیا جاتا ہے، رعایا کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے اور اسے مطمئن کرکے ’’زیادہ وفادار‘‘ بنایا جاتا ہے۔ اس کی مثال برطانیہ اور آئرلینڈ کی جنگ ِآزادی لڑنے والی تنظیم شین فین کے تعلقات ہیں۔ شین فین نے کئی دہائیوں تک مرکزی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی، مگر برطانیہ نے آئرلینڈ کو قتل گاہ میں تبدیل نہیں کیا، بلکہ بالآخر اس نے شین فین کے ساتھ مذاکرات کیے اور پُرامن بقائے باہمی کی صورت نکالی۔ لیکن1857ء کی جنگِ آزادی کی ہولناکی اتنی بڑھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ جنگِ آزادی کے حوالے سے لکھی جانے والی کتابوں کے مطابق چند روز کے اندر صرف دِلّی میں 27 ہزار افراد شہید کیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ہندوستان میں تقریباً 52 ہزار علماء کو شہید کیا گیا۔ انگریزوں کے فوجیوں پر طاقت اور انتقام کا بھوت اس طرح سوار تھا کہ صرف مسلمان ہونا بھی جرم بن گیا تھا۔ انگریزوں کے فوجی لوگوں کو پکڑتے اور پوچھتے ہندو ہو یا مسلمان؟ جیسے ہی یہ معلوم ہوتا کہ پکڑا جانے والا مسلمان ہے تو اسے قتل کردیا جاتا۔ انگریزوں کا ایک زخمی فوجی دِلّی کے ایک محلے میں داخل ہوا اور اس نے ایک گھر کے زنان خانے میںگھسنے کی کوشش کی۔ اہلِ خانہ نے اسے ایسا کرنے سے روکا، اور صرف اتنی مزاحمت پورے محلے کا سنگین جرم بن گئی۔ محلے کے تمام مردوں کو جمع کرکے جمنا کے کنارے لے جایا گیا اور کہا گیا کہ جو جمنا کے پانی کی طرف بھاگ کر جان بچا سکتا ہے بھاگ جائے، اور جو نہیں بھاگ سکتا مرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جمنا کی ریت خونِ مسلم سے تربتر ہوگئی۔ جن لوگوں نے بھاگ کر جمنا میں چھلانگ لگائی وہ جمنا میں ڈوب کر مرگئے۔ جنگِ آزادی نے انگریزوں کی اخلاقیات اور نفسیات کو کتنا پست کردیا تھا اس کا اندازہ انگریز مصنف باس ورتھ اسمتھ کے اس اقتباس سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ باس ورتھ لکھتا ہے:
’’بعض افسر رومی بربریت کے جوش میں اصرار کررہے تھے کہ دلّی شہر کو جو ہندوستان کا سرمایۂ افتخار اور اس کا دارالحکومت تھا… ڈھاکر زمین کے برابر کردیا جائے اور زمین کو شور زار بنادیا جائے۔ دوسرے اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہبی جنون میں اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جامع مسجد کو جو دنیا کی شاندار ترین اور نفیس ترین عمارتوں میں سے ایک تھی، کھدوا دیا جائے یا کم از کم اس کے کلس پر صلیب نصب کرکے اسے گرجے میں تبدیل کرایا جائے۔‘‘
باس ورتھ کے مطابق بعض انگریزوں نے دہلی میں ہل چلوانے کی تجویز دی۔ بڑی تعداد میں مساجد کو بارکوں میں تبدیل کیا گیا۔ وہاں کتے رکھے جاتے اور خنزیر ذبح کیے جاتے۔ دہلی کے باہر دیگر شہر اور دیہات بھی انگریزوں کی درندگی سے نہ بچے۔ یہ مسلمانوں کی مزاحمت اور حکمت عملی تھی کہ وہ اپنا وجود بچانے میں کامیاب رہے، ورنہ انگریزوں نے نسل کشی میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ انگریزوں کا دور ظلم وجبر اور ریاستی دہشت گردی کا دور تھا جس میں مسلمانوں کے خاتمے کی کوشش کی گئی۔ یہ یہودیوں کے خلاف ہٹلر کے ہولوکاسٹ سے بھی بڑا ہولوکاسٹ تھا جس میں ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کا خون بہایا گیا۔
ان حقائق کے باوجود برطانیہ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے جمہوریت کی ماں ہے۔ انسانی حقوق کے منشور میگناکارٹا کا مرکز ہے۔ تہذیب و شائستگی کی علامت ہے۔ فکر وتدبر کا استعارہ ہے۔ ڈپلومیسی کا مینارہ ہے، اور ان کا وزیراعظم پانچ برس میں چھ لاکھ مسلمانوں کو نگل جانے والی جارحیت ایجاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تاریخ ہمارے اقدام کو سراہے گی، اس کا جواز پیش کرے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اگر مغربی دنیا کے خلاف گواہ بن کر کھڑی ہوگئی تو اہلِ مغرب صدیوں تک کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
لیکن 1857ء کی جنگِ آزادی میں صرف منفی پہلو ہی نہیں ہیں۔ اس جنگ ِآزادی نے برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ کو غلامی کی نفسیات کا اسیر ہونے سے بچالیا اور برصغیر کے مسلمان اس جنگ کے صرف 80 سال بعد اس قابل ہوگئے کہ وہ برصغیر میں ایک آزاد وطن کے قیام کے لیے ایک عظیم الشان تحریک برپا کرسکیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا جس بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان ہوا اسے جذب کرنا آسان نہ تھا، مگر برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ نے اسے جذب کرکے دکھادیا، اور ثابت کیا کہ وہ انتہائی منفی تجربوں سے بلند ہوکر سوچ اور عمل کرسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو تحریکِ پاکستان کبھی بھی پُرامن نہیں ہوسکتی تھی۔

بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟

بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟ — شاہنواز فار وقی

ہمارے زمانے میں اکثر بڑے اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے کہنے کے باوجود مطالعہ نہیں کرتے۔ لیکن عام طور پر یہ شکایت 15، 20 سال کے ’’بچوں‘‘ کے بارے میں کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ بننا ہوتا ہے 8، 10 سال کی عمر تک بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بچپن کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو 4، 5 سال کی عمر سے پڑھنے والا بنانا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 4، 5 سال کی عمر کے بچوں کو پڑھنے والا کیسے بنایا جاسکتا ہے۔؟

Photo: ‎بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟ -- شاہنواز فار وقی</p><br /><br />
<p>ہمارے زمانے میں اکثر بڑے اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے کہنے کے باوجود مطالعہ نہیں کرتے۔ لیکن عام طور پر یہ شکایت 15، 20 سال کے ’’بچوں‘‘ کے بارے میں کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ بننا ہوتا ہے 8، 10 سال کی عمر تک بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بچپن کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو 4، 5 سال کی عمر سے پڑھنے والا بنانا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 4، 5 سال کی عمر کے بچوں کو پڑھنے والا کیسے بنایا جاسکتا ہے۔؟<br /><br /><br />
اس مسئلے کا تمام روایتی تہذیبوں باالخصوص اسلامی تہذیب نے ایک زبردست حل تلاش کیا ہوا تھا اور وہ یہ کہ پڑھنے والوں کو پہلے ’’سننے والا‘‘ بنائو۔ یعنی Reader کو پہلے Listener کے ’’مرتبے‘‘ پر فائز کرو۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ہند اسلامی تہذیب نے اس کی ابتدائی صورت یہ پیدا کی تھی کہ بچوں کو شیرخوارگی کی عمر سے طرح طرح کی ’’لوریاں‘‘ سنائی جائیں۔ مثلاً ایک لوری تھی۔<br /><br /><br />
حسبی ربیّ جل اللہ<br /><br /><br />
مافی قلبی غیر اللہ<br /><br /><br />
نور محمد صل اللہ<br /><br /><br />
لا الہٰ الا اللہ<br /><br /><br />
غور کیا جائے تو چار مصرعوں کی اس لوری میں پوری توحید اور رسالت موجود ہے۔ اس میں جامعیت بھی ہے اور اختصار بھی۔ اس لوری میں صوتی حُسن بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ جو بچے اس لوری کو سنتے تھے وہ اسلام کی بنیاد سے بھی آگاہ ہوتے تھے ان کے مزاج میں ایک شاعرانہ آہنگ بھی پیدا ہوجاتا تھا اور زبان کا ایک سانچہ بھی انہیں فراہم ہوجاتا تھا۔ ایک بچہ تین، چار سال کی عمر تک یہ لوری ہزاروں بار سنتا تھا اور یہ لوری اس کے شعور میں راسخ ہوکر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی تھی۔ لیکن لوریوں کی دنیا صرف اس لوری تک محدود نہ تھی۔ ایک لوری جو ہم نے ہزاروں بار سنی یہ تھی۔<br /><br /><br />
آری نندیا آجا<br /><br /><br />
’’فلاں‘‘ کو سُلا جا<br /><br /><br />
فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے<br /><br /><br />
فلاں کا سوہنا نام بتا جا<br /><br /><br />
آتی ہوں بھئی آتی ہوں<br /><br /><br />
فلاں کو سلاتی ہوں<br /><br /><br />
فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے<br /><br /><br />
فلاں کا سونا نام بتاتی ہوں<br /><br /><br />
آگئی لو آگئی<br /><br /><br />
فلاں کو سلا گئی<br /><br /><br />
فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے<br /><br /><br />
فلاں کا سوہنا نام بتا گئی<br /><br /><br />
لائو جی لائو میری مزدوری دو<br /><br /><br />
لو جی لو تم لڈو لو<br /><br /><br />
لڈو میں سے نکلی مکھی<br /><br /><br />
فلاں کی جان اللہ نے رکھی<br /><br /><br />
اس لوری میں لوری سننے والے کا نام بدلتا رہتا تھا مگر مگر لوری یہی رہتی تھی۔ کہنے کو یہ لوری مذہبی نہیں ہے مگر اس لوری میں مذہب سطح پر موجود ہونے کے بجائے اس کی ’’ساخت‘‘ اور اس کی معنوی بُنت میں موجود ہے۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ یہ لوریاں بچوں میں مذہبی شعور، شاعرانہ مزاج اور زبان وبیان کی عمدہ اہلیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔<br /><br /><br />
بچے 4، 5 سال کی عمر کے ہوتے تھے تو ان پر کہانیوں کی دنیا کا در کھل جاتا تھا۔ کہانیاں سنانے والے گھر کے لوگ ہوتے تھے۔ بظاہر دیکھا جائے تو کہانی پڑھنے اور سننے میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کہانی پڑھنے او رسننے کے اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کہانی سننے کے عمل میں کہانی سنانے والے کی شخصیت سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس میں ایک ’’انسانی عنصر‘‘ در آتا ہے جو کہانی کو حقیقی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کہانی کی سماعت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کہانی سنتے ہوئے سامع کا تخیل پوری طرح آزاد ہوتا ہے اور وہ کہانی کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ کہانی سنانے والی کی آواز کا اتار چڑھائو کہانی میں ڈرامائیت پیدا کردیتا ہے جس سے کہانی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر کہانی سنانے والا کہانی سناتے ہوئے ہاتھوں کی مخصوص حرکت اور چہرے کے تاثرات کو بھی کہانی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ جس سے ایک جانب کہانی کی فضا اور ماحول پیدا ہوتا ہے اور دوسری جانب کہانی کو برجستگی کا لمس فراہم ہوتا ہے۔ کہانی پڑھنے کے اپنے فوائد ہیں مگر کہانی کی سماعت کا اپنا لطف اور اپنا اثر ہے اور بچپن میں کہانی کی سماعت کہانی کو پڑھنے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔<br /><br /><br />
بچپن میں یہ بات کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کہانی سنانے والے رات ہی کو کیوں کہانی سناتے ہیں۔ دن میں کہانی کیوں نہیں سناتے۔ بلکہ ہم ان سے دن میں کہانی سنانے کی ضد کرتے تھے تو وہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے دن میں کہانی نہیں سنتے ورنہ ماموں راستہ بھول جاتے ہیں اور ہم ماموں کو راستے پر گم ہونے سے بچانے کے لیے کہانی سننے کی ضد ترک کردیتے تھے۔ لیکن اب اس عمر میں تھوڑا بہت پڑھنے اور غور کرنے سے معلوم ہوا کہ کہانی اور رات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دن میں کہانی کا اثر گھٹ کر آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات اسرار کا سمندر ہے اور رات کا لمس عام کہانی کو بھی پراسرار بنا دیتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو رات کی کہانی میں جہاں عمودی جہت یا Vertical Dimension پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب وہ کہانی میں وہی کردار ادا کرتی ہے جو فلم یا ٹیلی ڈرامے میں سیٹ اور روشنیاں پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ کہانی کی سماعت بچوں کو مطالعے پر مائل نہیں ’’مجبور‘‘ کر دیتی ہے۔ اس لیے کہ سماعت شاعری اور کہانی کو سامع کی شخصیت کا جز بنادیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے بچوں کو پڑھنے والا بنانا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ بچوں کو ابتداء ہی سے ادب کی مختلف ہستیوں یا Forms کا سامع بنائیں۔ سماعت مطالعے کو صرف شوق نہیں بناتی ذوق بھی بناتی ہے۔ آج سے 30، 40 سال پہلے عام اسکولوں کے طلبہ بھی 10، 12 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک ڈیڑھ درجن نظموں کے ’’حافظ‘‘ ہوجاتے تھے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حافظہ انہیں ’’مشاعروں‘‘ تک لے جاتا تھا اور مشاعرے انہیں ’’شعری مجموعوں‘‘ کے مطالعے پر مجبور کردیتے تھے۔ لیکن ہماری معاشرتی زندگی سے ادب کی سماعت کا پورا منظر نامہ غائب ہوچکا ہے۔ اب نہ کہیں لوریاں ہیں۔ نہ کہانیاں۔ پہیلیاں ہیں نہ نظموں کا حافظ ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ جس بچے نے دس، پندرہ سال تک شاعری یا کہانی کے ذیل میں کچھ بھی نہیں سنا وہ اچانک ادب پڑھنے والا بن جائے۔ یہ دیوار میں در بنانے کی خواہش ہے۔ اس کے برعکس بچپن سے فراہم ہونے والی شعر وادب کی ’’سماعت‘‘ شخصیت کو ایک ایسی عمارت بنا دیتی ہے جس میں دروازے اور کھڑکیاں فطری طور پر عمارت کے نقشے کے حصے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔<br /><br /><br />
بچوں کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں موجود بڑوں کی نقل کرتے ہیں چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی معاشرے میں بڑے کتاب نہ پڑھ رہے ہوں اور بچوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کتاب پڑھیں۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بنیادی ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو کتاب پڑھتے ہوئے اور کتاب کی اہمیت پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو بچوں میں مطالعے کا رحجان شوق بنے گا اور شوق ذوق میں تبدیل ہوگا۔ کتاب کے سلسلے میں بچوں ہی کو نہیں بڑوں کو بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کتاب بیک وقت دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے سستی چیز ہے۔ کتاب دنیا کی مہنگی ترین چیز اس لیے ہے کہ ایک کھرب ڈالر صرف کرکے بھی ایک شیکسپیئر ایک میر تقی میر اور ایک مولانا مودودیؒ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ کتاب دنیا کی سستی ترین چیز اس لیے ہے کہ جو کلیات میر ایک کھرب ڈالر خرچ کر کے بھی تخلیق نہیں کی جاسکتی وہ ہمیں بازار سے  5سو روپے میں مل جاتی ہے۔‎

Continue reading

Qazi Hussain Ahmed

قاضی صاحب — شاہنواز فاروقی

جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد اسلام آباد میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک ایسے دور میں جب دل کی جگہ سل نے لے لی ہے دل کا دورہ بھی صاحب دل ہونے کی علامت بن گیا ہے اور قاضی حاحب تو یوں بھی دل والوں کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ تھے۔
مفکر اسلام سید ابو الاعلی مودودیؒ کی شخصیت کے تین پہلو تھے۔ تقویٰ، علم اور سیاسی تحرک۔ مولانا کی شخصیت کے ان تینوں پہلوئوں کا کچھ نہ کچھ اثر مولانا کے بعد امارت پر فائز ہونے والوں پر مرتب ہوا ہے۔ لیکن میاں طفیل محمد ان تینوں پہلوئوں میں تقوے کی سب سے نمایاں علامت تھے۔ یعنی میاں صاحب کو جس طرح مولانا کے تقوے سے حصہ فراہم ہوا کسی اور کو نہیں ہوا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو قاضی صاحب کی شخصیت مولانا مودودیؒ کے سیاسی تحرک یا Political Activism کا استعارہ تھی۔ قاضی صاحب کے اس سیاسی تحرک نے کاروانِ دعوت ومحبت تخلیق کیا۔ قاضی صاحب کے اس سیاسی تحرک نے آئی جے آئی کی سیاسی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ قاضی صاحب کے اس سیاسی تحرک نے پاکستان اسلامی فرنٹ کا تجربہ ایجاد کیا۔ قاضی صاحب کے اس سیاسی تحرک نے پاسبان کی صورت گری کی۔ قاضی صاحب کے سیاسی تحرک نے متحدہ مجلس عمل کی بنیاد فراہم کی۔ ان تمام چیزوں نے جماعت اسلامی کی سیاسی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ یہ قاضی صاحب کی بڑی کامیابی تھی مگر اس بڑی کامیابی کی ناکامی یہ تھی کہ سیاسی تحرک مولانا مودودیؒ کی شخصیت کا جز تھا لیکن قاضی صاحب نے اس جز پر اتنی توجہ مرکوز کی اور اس پر اتنا اصرار کیا کہ جز کل بن گیا۔ ہم نے کئی بار قاضی صاحب سے عرض کیا کہ بلاشبہ جماعت اسلامی میں پڑھنے لکھنے کی صورت حال دوسری جماعتوں سے بدرجہا بہتر ہے مگر اس کی سطح وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ قاضی صاحب کو اس مسئلے کا علم تھا اور وہ کہتے تھے کہ بلاشبہ جماعت اور جمعیت میں مطالعے کا رحجان کم ہوا ہے مگر وہ اس مسئلے کو بہت بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعت کے لیے اصل چیز تحرک یا Activism ہے اور اس Activism سے ہر کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس نقطۂ نظر کی وجہ یہ تھی کہ وہ ’’صاحب عمل‘‘ تھے اور اکثر صاحبِ عمل لوگوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ’’عمل‘‘ کو ہر چیز کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عمل کی بنیاد ’’علم‘‘ ہوتا ہے جیسا جس کا علم ہوتا ہے ویسا اس کا عمل ہوتا ہے۔ صحیح عمل کے لیے صحیح علم ناگزیر ہے اور علم کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔
قاضی صاحب ملک کے واحد سیاست دان تھے جو اقبال کی اردو اور فارسی شاعری پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ انہیں اقبال کے سیکڑوں اشعار یاد تھے اور وہ اپنی تحریروں میں اقبال کا حوالہ اس سہولت اور برجستگی کے ساتھ دیتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ اقبالیات کے سلسلے میں ان کا علم اور فہم اقبال کے بہت سے ماہرین سے بھی زیادہ تھا۔ اقبال سے ان کا تعلق ادبی نہیں نظریاتی تھا۔ یعنی وہ اقبال کے فن سے زیادہ اس کے نظریات سے دلچسپی رکھتے تھے اور یہ دلچسپی زندگی کے کسی ایک دور سے متعلق نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنی عمر کے ایک بڑے حصے میں اقبال کو پڑھا اور جذب کیا تھا۔ اقبال کی تفہیم کے سلسلے میں قاضی صاحب کی غیر معمولی لسانی اہلیت کا بھی دخل تھا۔ پشتو قاضی صاحب کی مادری زبان تھی لیکن وہ اردو بھی اہل زبان کی طرح بولتے اور لکھتے تھے۔ ان کی فارسی زبان کی اہلیت اتنی اور ایسی تھی کہ وہ اقبال جیسے شاعر کے کلام کو فارسی میں پڑھ سکتے تھے۔ انگریزی اور عربی بھی قاضی صاحب کو اچھی خاصی آتی تھی۔ اتنی زبانوں کا علم اب اہل سیاست کیا علماء اور دانش وروں میں بھی کمیاب ہے۔

[shahnawazfarooqi.com]

Naat is Praise and Appreciation to Muhammad PBUH ﷺ

نعت — شاہنواز فاروقی

نعت اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور توصیف ہے تو نعت کے تصور کو شاعری تک محدود سمجھنا ٹھیک نہیں۔ غور کیا جائے تو سیرت نگاری دراصل ’’نثر کی نعت‘‘ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلامی تہذیب میں نعت کی روایت ایک بحرِ زخار ہے جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِ شان ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نعت کو سرے سے شاعری نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ نعت محض عقیدت کا اظہار ہے اور اس میں ’’شاعرانہ عنصر‘‘ یا تو ہوتا ہی نہیں، یا ہوتا ہے تو بہت کم۔ لیکن یہ ایک غلط خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت کیا نعت کا تصور بھی شاعرانہ ہے۔ مگر اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟
دنیا میں شاعری کا بڑا حصہ محبوب اور اس کی محبت کے تجربے کا بیان ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ آپؐ انسانوں ہی کے نہیں اس کائنات کے خالق ومالک کے بھی محبوب ہیں۔ آپؐ انسانِ کامل ہیں۔ خاتم الانبیاء ہیں۔ باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں۔ چنانچہ آپؐ سے بڑھ کر شاعری کا موضوع اور کون ہوسکتا ہے! اور نصف سے زیادہ شاعرانہ صنف اور کون سی ہوسکتی ہے! مگر مسئلہ یہ ہے کہ نعت لکھنا غزل، نظم، قطعہ یا رباعی لکھنے سے ہزار گنا زیادہ مشکل ہے۔ اس مشکل کی بہت بڑی بڑی وجوہ ہیں۔

shahnawazfarooqi.com

Blasphemy: what is the problem of the Western world?

توہین رسالت: مغربی دنیا کا مسئلہ کیا ہے؟ (شاہنواز فاروقی)

توہینِ رسالتؐ مغربی دنیا میں کبھی برسوں میں رونما ہونے والا واقعہ تھا مگر اہلِ مغرب نے اسے ’’معمول‘‘ بنادیا ہے۔ اہلِ مغرب کبھی توہینِ رسالتؐ ’’علم‘‘ کی آڑ میں کیا کرتے تھے، مگر اب یہاں یہ بھیانک کام ’’فلم‘‘ کی اوٹ میں ہورہا ہے۔ اس طرح اہلِ مغرب نے توہینِ رسالتؐ کے سلسلے میں اپنے علم اور فلم کو ایک کردیا ہے۔ فلم بنیادی طور پر تفریح کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اہلِ مغرب کے لیے اب توہینِ رسالتؐ ایک ’’تفریح‘‘ بن گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے حوالے سے مغرب کا مسئلہ کیا ہے؟

shahnawazfarooqi.com

Why Family System is breaking apart

خاندان کا ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں؟ …شاہنواز فاروقی

ایک وقت تھا کہ خاندان ایک مذہبی کائنات تھا۔ ایک تہذیبی واردات تھا۔ محبت کا قلعہ تھا۔ نفسیاتی حصار تھا۔ جذباتی اور سماجی زندگی کی ڈھال تھا… ایک وقت یہ ہے کہ خاندان افراد کا مجموعہ ہے۔ چنانچہ جون ایلیا نے شکایت کی ہے ؎
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

ٹوکنے کا عمل اپنی نہاد میں ایک منفی عمل ہے۔ مگر آدمی کسی کو ٹوکتا بھی اسی وقت ہے جب اُس سے اس کا ’’تعلق‘‘ ہوتا ہے۔ جون ایلیا کی شکایت یہ ہے کہ اب خاندان سے ٹوکنے کا عمل بھی رخصت ہوگیا ہے۔ یہی خاندان کے افراد کا مجموعہ بن جانے کا عمل ہے۔ لیکن خاندان کا یہ ’’نمونہ‘‘ بھی بڑی نعمت ہے۔ اس لیے کہ بہت سی صورتوں میں اب خاندان افراد کا مجموعہ بھی نہیں رہا۔ اسی لیے شاعر نے شکایت کی ہے ؎
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

shahnawazfarooqi.com

منشی پریم چند کا اردو افسانہ عیدگاہ”

منشی پریم چند کو اردو افسانے کا بنیاد گزار کہنا غلط نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو میں افسانے کو نہ صرف یہ کہ شکل و صورت فراہم کی بلکہ افسانے کا دریا بھی بہادیا۔ مگر… پریم چند کی مشکل یہ تھی کہ وہ حقیقت نگار تھے اور ترقی پسند بھی۔ یعنی کریلا اور نیم چڑھا۔ ادب میں حقیقت نگاری کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی ایک مادی اور سماجی حقیقت ہے، اس کی کوئی مابعدالطبیعاتی یا ماورائی جہت نہیں ہے۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے حقیقت نگاری کے تصور کو معاشیات تک محدود کردیا اور کہا کہ انسان کے تمام رشتے اپنی اصل میں معاشی ہیں اور معاشیات زندگی کی تعریف متعین کرنے والی واحد حقیقت ہے۔ منشی پریم چند پر ان تصورات کا گہرا اثر تھا۔ ان کا سب سے مشہور افسانہ ’’کفن‘‘ ہے۔ اس افسانے میں پریم چند نے دکھایا ہے کہ غربت کچھ اور کیا انسانی فطرت کو بھی فتح کرکے مسخ کردیتی ہے، اور انسان کو اتنا بے حس بنادیتی ہے کہ انسان حیوان کی سطح سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ افسانے کے مرکزی کردار گھیو اور مادھو ہیں۔ گھیو باپ ہے اور مادھو اس کا بیٹا۔ دونوں نچلی ذات کے ہندو ہیں اور بے انتہا غریب۔ افسانے کے ایک منظر میں مادھو کی بیوی کمرے میں دردِ زہ سے تڑپ رہی ہے اور باپ بیٹا کمرے کے باہر آلو بھون کر کھا رہے ہیں۔ گھیو مادھو سے کہتا ہے کہ جا اندر جاکر بیوی کو دیکھ آ۔ مگر مادھو کو خوف ہے کہ وہ اندر گیا تو اس کا باپ سارے آلو کھا جائے گا۔ چنانچہ وہ کمرے میں نہیں جاتا اور باپ بیٹے آلو کھاکر کمرے سے باہر مزے سے سوجاتے ہیں، اور مادھو کی بیوی کمرے میں اکیلے تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہے۔ گھیو اور مادھو کو صبح جب اس المناک واقعے کا علم ہوتا ہے تو وہ اس کے کریا کرم یعنی کفن دفن کے لیے گائوں کے امیر لوگوں سے رقم جمع کرنے نکلتے ہیں، اور تھوڑی ہی دیر میں ان کے پاس اچھی خاصی رقم جمع ہوجاتی ہے۔ رقم لے کر دونوں کفن لینے بازار پہنچتے ہیں، مگر کفن خریدنے کے بجائے شراب خانے میں گھس کر آدھی سے زیادہ رقم کھانے پینے اور شراب میں اڑادیتے ہیں اور بالآخر شراب خانے میں نشے سے بے ہوش ہوکر گرپڑتے ہیں۔ پریم چند کا یہ افسانہ اپنے زمانے میں ہی نہیں آج بھی ’’تہلکہ خیز‘‘ سمجھا جاتا ہے، اور اسے اردو کے ترقی پسند ادب میں غربت کے سماجی و نفسیاتی اثرات پر ایک بڑی تخلیقی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔

[shahnawazfarooqi.com]

Continue reading