پاکستان کی سیاست اور صحافت میں تعصبات کا خطرناک کھیل

قرآنِ مجید فرقانِ حمید مسلمانوں سے صاف کہتا ہے کہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ ’تفرقہ‘ فرق سے ہے، اور جو لوگ ایک خدا، ایک کتاب اور ایک رسول کو مانتے ہوں اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ قرآن ’’قبیلوں‘‘ کو نہیں مانتا۔ مانتا ہے، مگر کہتا ہے کہ انسانوں کو قبیلوں میں صرف اس لیے تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کی شناخت ہوسکے۔ پہچان اور تعصب میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہچان ’’حلال‘‘ ہے اور تعصب ’’حرام‘‘ ہے۔ تعصب میں مبتلا ہونے کے معنی ہیں کہ تعصب میں مبتلا ہونے والے فرد یا گروہ نے اللہ کی رسّی کو چھوڑ دیا۔ سیرتِ طیبہؐ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب مدینے میں مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم ہوگئی تو ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ غصے کے عالم میں مہاجر نے اپنے قبیلے کو آواز دی اور انصاری نے اپنے قبیلے کو پکارا۔ یہ دیکھ کر ایک صحابیؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لائے۔ یہ سن کر کہ ایک مہاجر اور ایک انصاری نے قبائلی عصبیت کو آواز دی ہے، آپؐ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ ہوگیا۔ آپؐ نے اس موقع پر جو کچھ فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ میں تمہیں جن تعصبات سے نکال کر لایا ہوں تم پھر انہی تعصبات کے گڑھے میں گرے جارہے ہو۔ یہاں کہنے کی بات یہ ہے کہ فرقہ صرف قبائلیت کی بنیاد پر وضع نہیں ہوتا۔ انسان نسل، رنگ، زبان، جغرافیے، ذات، برادری اور مسلک کی بنیاد پر بھی تعصب میں مبتلا ہوتا ہے اور اللہ کی رسّی کو چھوڑ دیتا ہے۔ بلکہ پاکستان میں تو سیاسی جماعتیں تک سیاسی فرقوں کا کردار ادا کررہی ہیں۔ حد یہ کہ جرنیلوں نے فوج کو بھی ایک ’’قومیت‘‘ میں ڈھال دیا ہے۔ یہاں ہمیں اقبال کی صدا یاد آرہی ہے، انہوں نے فرمایا ہے ؎

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر

اگر ایک لمحے کے لیے جنوبی ایشیا کو پوری دنیا تصور کرلیا جائے تو برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان کے لیے گنگا اور جمنا کے ساحل سے بلوچستان کے آخری کونے تک ’’حرم‘‘ کی پاسبانی کے لیے ایک ہوکر دکھایا ہے۔ حرم خانۂ خدا ہے اور پاکستان کو اسلامی بن کر خانۂ خدا کی علامت بننا تھا۔ مگر پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے پاکستان کے لوگوں کو اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے پر مائل کرنے کے بجائے انہیں اللہ کی رسّی کو تیزی سے چھوڑنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا پاکستان ہر طرح کے تعصبات سے بھر گیا ہے۔
یہ 2013ء کے انتخابات کے روز کی بات ہے، ہم صبح 9 بجے کے قریب بیکری سے ڈبل روٹی وغیرہ خریدنے کے لیے اپنے فلیٹ سے نکلے تو دیکھا کہ ہمارے اپارٹمنٹ میں رہنے والے ایک پروفیسر صاحب کہیں تشریف لے جارہے ہیں۔ ہم نے پوچھا: ’’کہاں کا قصد ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’ووٹ ڈالنے جارہے ہیں۔ ہمیں معلوم تھا وہ کس کو ووٹ ڈالیں گے، مگر ہم نے ازراہِ تفنن اُن سے پوچھا: ’’اور آپ ووٹ کس کو دیں گے؟‘‘ کہنے لگے: ’’ہماری تو ایک ہی پارٹی ہے ایم کیو ایم‘‘۔ ہم نے حیرت سے کہا: ’’آپ جیسا پڑھا لکھا شخص، ایک پروفیسر ایم کیو ایم کو ووٹ دے گا؟‘‘ ہم نے کھڑے کھڑے انہیں یاد دلایا کہ ایم کیو ایم دہشت گرد ہے۔ بوری بند لاشوں کا کلچر تخلیق کرنے والی جماعت ہے۔ بھتہ خور ہے۔ اس نے مہاجروں کی مذہبیت، تہذیب اور علم کو ہڑپ کرلیا۔ کہنے لگے: ’’یہ تو ٹھیک ہے، مگر فاروقی صاحب اگر ہم ایم کیو ایم کو ووٹ نہیںدیں گے تو سندھی، پنجابی اور پٹھان ہمیں کھا جائیں گے‘‘۔ ہم نے کہا: ’’یہ ایک مفروضہ ہے۔ سندھی، پنجابی اور پٹھان تو ابھی مہاجروں کو کھائیں گے، مگر ایم کیو ایم تو پہلے ہی مہاجروں کو کھا چکی‘‘۔ کہنے لگے: ’’آپ تو صحافی ہیں، آپ سے کون بحث کرے؟‘‘ تعصب اس کو کہتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کو ایم کیو ایم کے ہر عیب کا علم تھا مگر اُن کا ووٹ پھر بھی ایم کیو ایم کے لیے ہی وقف تھا۔ اب آپ اس سے بھی آگے کا قصہ سنیے۔
رئیسہ موہانی مولانا حسرت موہانی کی بھتیجی ہیں۔ وہ ایم کیو ایم کی بزرگ سیاسی کارکن کہلاتی ہیں۔ ان کا ایک انٹرویو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے کچھ سوالات اور ان سوالات کے جوابات ملاحظہ کیجیے:
’’رئیسہ موہانی کہتی ہیں کہ الطاف حسین مجھے ’بڑی باجی‘ کہتے تھے اور خاص طور پر میرے مشوروں کو سنتے اور عمل کرتے تھے۔ ہمارا اگلا سوال ایم کیو ایم کے تشدد میں ملوث ہونے سے متعلق تھا، جس کا انہوںنے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے تشدد دیکھا ہی نہیں!‘‘
ہم نے کہا ’’کچھ لڑکے تو تشدد میں ملوث ہوئے؟‘‘
جس پر وہ بولیں کہ وہ کوئی اور لڑکے تھے، جو شامل ہوگئے، لیکن ہمارے لڑکے تشدد کرنے والے نہ تھے۔ ہم نے دوبارہ کارکنان پر تشددکے الزام کا ذکر کیا تو وہ بولیں کہ ’’الزام ایک علیحدہ چیز ہے، یہ لڑکے کبھی تشدد کرنے والے نہ تھے، یہ تو پاکستان سے محبت کرنے والے تھے!‘‘
ہم نے کہا ’’محبت کرنے والے تو تھے، لیکن ردعمل میں کبھی جذباتی ہوکر تو پُرتشدد ہوئے؟‘‘ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ موافقت میں کام کیا اور نوجوانوں کے تعلیمی مسائل کے حل اور روزگار فراہم کرنے کی جدوجہد کی۔
’’اسلحہ وغیرہ بھی تو تھا لڑکوں کے پاس؟‘‘ ہم نے براہِ راست استدلال کیا تو وہ بولیں ’’ہمارے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔ عزیزآباد میں کہیں اور سے اسلحہ لاکر جمع کیا اور کچھ متعصب عناصر نے مہاجروں کے خلاف ماحول بنایا‘‘۔
ایم کیو ایم کے اب تک حاصل اہداف کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’’مہاجر قوم زندہ ہے… یہ ہدف ہے!‘‘
’’اتنے لڑکے بھی تو مارے گئے؟‘‘ ہم نے پوچھا تو وہ بولیں ’’کچھ بھی ہوا، مگر زندہ ہیں اور آج بھی کام کررہے ہیں‘‘۔
ایم کیو ایم کی الطاف حسین سے لاتعلقی کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ ’’وہ تو سیاست چلتی رہتی ہے‘‘۔ ہم نے پوچھا ’’آپ کے خیال میں ان میں سے کون ٹھیک ہے؟‘‘ تو بولیں ’’اس کا مجھے نہیں پتا، بس اپنا بتا سکتی ہوں، میں ٹھیک ہوں!‘‘
ہم نے پوچھا کہ ’’ایم کیو ایم کو سیاست میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے 30 برس ہوگئے ہیں، آپ کے خیال میں انہوں نے کیا غلطیاں کیں؟‘‘ اس کا جواب بھی انہوں نے نفی میںدیا، تو وہ ہمیں ایک ایسی ماں کے روپ میں دکھائی دیں کہ جسے اپنی اولاد میں صرف خوبیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ یہ بات تو الطاف حسین نے بھی مانی کہ ان کے کچھ لڑکے ’چائنا کٹنگ‘ (قبضے) اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوئے؟ جس پر وہ نیم اثبات کا اظہار کرتے ہوئے گویا ہوئیں کہ ’’ہمارے زمانے میں کچھ لڑکے ایسے شامل ہوئے، تو ہم نے انہیں ایسی کسی بھی سرگرمی سے باز رکھا‘‘۔
(روزنامہ ایکسپریس، کراچی۔ یکم جنوری 2019ء)
رئیسہ موہانی کے انٹرویو کے مندرجات ایسے ہیں کہ مولانا حسرت موہانی قبر میں بھی شرمندگی محسوس کررہے ہوں گے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایم کیو ایم کے جو عیب ساری دنیا کو نظر آتے ہیں وہ رئیسہ موہانی کو نظر ہی نہیں آرہے! یہ ہوتا ہے تعصب۔ یہ ہوتا ہے اللہ کی رسّی کو چھوڑنا۔ یہ ہوتا ہے تفرقے میں پڑنے کا نتیجہ۔
خورشید ندیم ملک کے معروف کالم نویس ہیں۔ فکری میدان میں وہ جاوید احمد غامدی کے شاگرد ہیں اور صحافت کے دائرے میں وہ میاں نوازشریف کے عاشقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل روزنامہ ’دنیا‘ میں ’’پنجاب کا لیڈر کون؟‘‘ کے عنوان سے کالم تحریر کیا تھا۔ اس کالم کے کچھ حصے ملاحظہ کیجیے۔ خورشید ندیم لکھتے ہیں:
’’کیا پنجاب کو طویل عرصہ قیادت سے محروم رکھا جا سکتا ہے؟
پنجاب کی قیادت کم و بیش چالیس سال سے نوازشریف صاحب کے پاس ہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی ان کی مقبولیت میں قابلِ ذکر کمی نہیں آئی۔ بعض فیصلوں نے انہیں پارلیمانی سیاست سے الگ کردیا، لیکن ان کی مقبولیت پر اثرانداز نہ ہوسکے۔ نون لیگ کی فطری قیادت آج بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کسی اور کو منتقل نہیں ہوسکی۔ اگر یہ کبھی منتقل ہوئی تو آثار یہی ہیں کہ مریم ہی ان کی سیاسی وارث ہوں گی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کچھ فیصلوں کے ذریعے ان کی قیادت کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے؟ کیا پنجاب میں کوئی متبادل قیادت پیدا کی جا سکتی ہے؟
تحریک انصاف کے پاس نہ تو کوئی ایسی شخصیت ہے جو پنجاب میں نوازشریف کا متبادل بن سکے، اور نہ ہی ایسی قیادت پیدا کرنا اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ عمران خان پنجاب کے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسے وزیراعلیٰ کا انتخاب جسے حلقۂ انتخاب کے باہر کوئی نہیں جانتا، یہی ظاہر کررہا ہے۔ عمران خان صاحب کی اپنی سیاسی اٹھان ایسی ہے کہ وہ کسی صوبے کی بطور خاص نمائندگی نہیں کرتے۔ روایتی سیاست کا حصہ نہ ہونے کے باعث، وہ ان سیاسی عصبیتوں کے نمائندہ نہیں ہیں جن سے ہمارے ملک کی سیاست ترتیب پاتی ہے۔
نوازشریف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ روایتی سیاست سے ابھرکر سامنے آئے ہیں۔ وہ پہلے پنجاب کے رہنما بنے۔ یہ سیاست ان کے قومی کردار کی اساس بن گئی، جب جنرل ضیا الحق کو بھٹو مخالف قوتوں کو مجتمع کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یوں وہ صوبے سے مرکز تک پہنچے، اور اس دوران میں پنجاب کی سطح پر ان کی عوامی اساس مضبوط ہوگئی۔ یہی معاملہ پیپلزپارٹی کا ہے۔ بدترین حالات میں بھی سندھ کی سیاست پر اس کی گرفت مضبوط ہے۔ سارے ملک میں مقبولیت کھونے کے باوجود پیپلزپارٹی کو اقتدار کی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکا۔
اگر تحریک انصاف کے پاس پنجاب میں کوئی لیڈر موجود نہیں اور نوازشریف صاحب کو بھی پنجاب کی سیاست سے الگ کرنے کی کوشش ہوتی ہے توکیا پنجاب کے لوگ تادیر اس صورتِ حال کو گوارا کریں گے؟ کیا یہ ممکن ہوگا کہ پنجاب کسی لیڈر کے بغیر چلتا رہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ پنجاب کے معاملات کو مرکز سے کنٹرول کیا جاتا رہے؟
ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ پنجاب بغیر کسی لیڈرکے زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔ یہ غیرفطری ہے۔ مرکز سے معاملات کو ریاستی گرفت میں رکھنا بھی ایک ردِعمل پیدا کرتا ہے جو وفاق کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں، ہم اس کے نتائج دیکھ چکے۔ بلوچستان اور سندھ کی سیاست پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم دراصل اس بے چینی کو روکنے کی ایک کوشش تھی جس کا اظہار صوبوں کی طرف سے ہورہا ہے اور جو مرکز کی غیرضروری مداخلت سے ناخوش تھے۔
سوال یہ ہے کہ ماضی میں پنجاب میں ایسے جذبات کیوں پیدا نہیں ہوئے؟ اس کے دو اسباب رہے۔ ایک یہ کہ ریاست کے مرکزی اداروں میں پنجاب کے لوگوں کی اکثریت رہی۔ دیگر صوبوں میں پنجاب اور مرکز کو مترادف سمجھا گیا۔ 1970ء کے بحران سے پہلے مشرقی پاکستان میں پنجاب ہی کو مغربی پاکستان سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو پختونوں، بلوچوں یا سندھیوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ بلکہ شیخ مجیب الرحمن اور پنجاب کے استثنا کے ساتھ، دیگر قومیتوں کے نمائندے ایک سیاسی جماعت میں تھے۔
پنجاب ہی چونکہ مرکز تھا، اس لیے یہاں ایسی کوئی تحریک نہیں ابھری جو پنجاب کے حقوق کی بات کرے یا انہیں یہ شکایت ہو کہ حکومتی امور میں ان کا عمل دخل نہیں ہے۔ پنجاب میں بھٹو صاحب کی پذیرائی اس بات کا اظہار تھا کہ اس صوبے میں اس نوعیت کی کوئی عصبیت نہیں پائی جاتی۔ نوازشریف کی سیاست کی بنیاد پنجاب تھا لیکن اپنی سیاست کے ابتدائی دور میں، وہ ریاست کے اداروںکا انتخاب تھے۔ اس لیے یہاں محرومی کا احساس پیدا نہیں ہوا۔
آج صورتِ حال بدل چکی۔ پنجاب کے لیڈر کو بھی اب مرکز سے وہی شکایات پیدا ہوگئی ہیں، جو دیگر صوبوں کو تھیں۔ اس لیڈر کا کوئی متبادل بھی موجود نہیں۔ اگر پنجاب میں یہ احساس بڑھتا ہے کہ اس کے لیڈر کو غیر فطری طور پر اقتدار سے محروم رکھا جارہا ہے تو اس کے سیاسی اثرات ملک کے لیے خوشگوار نہیں ہوں گے۔ اس کی مثال جنوبی پنجاب ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ خود تحریک انصاف نے 2018ء میں یہاں کی محرومی کو اپنے حق میں استعمال کیا۔‘‘
(روزنامہ دنیا۔ 27 دسمبر 2018ء)
خورشید ندیم کے کالم میں کہیں اس بات کا سراغ نہیں ملتا کہ میاں نوازشریف ہی نہیں اُن کا پورا خاندان بدعنوان ہے۔ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جنرل درانی اپنی کتاب ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں صاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ میاں نوازشریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کو ایک کرنے کے منصوبے پر کام کررہے تھے، مگر خورشید ندیم کے لیے اس بات کا بھی کوئی مفہوم نہیں، اگر ہوتا تو ان کے کالم سے اس کا کچھ نہ کچھ اظہار ضرور ہوتا۔ خورشید ندیم کے لیے ایک ہی بات اہم ہے، اور وہ یہ کہ میاں نوازشریف پنجاب کے لیڈر ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ میاں صاحب تاثر دیتے ہیں کہ وہ ملک اور پوری قوم کے لیڈر ہیں مگر خورشید ندیم صاحب کا اصرار ہے کہ وہ صرف ’’پنجاب‘‘ کے لیڈر ہیں۔ آخر میاں صاحب کے پنجاب کے لیڈر ہونے کا کیا مفہوم ہے؟ کیا پنجاب کوئی ’’ملک‘‘ ہے؟ جیسا کہ سب جانتے ہیں پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے۔ تو کیا خورشید ندیم یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں نوازشریف صوبائی سطح کے لیڈر ہیں؟ خورشید ندیم نے اپنے کالم میں میاں صاحب پر کلام کرتے ہوئے ’’سیاسی عصبیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس سے اُن کی مراد شاید یہ ہے کہ میاں نوازشریف ایک ’’سیاسی عصبیت‘‘ کی علامت ہیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کا کوئی نظریہ ہی نہیں، چنانچہ میاں نوازشریف کسی ’’نظریاتی عصبیت‘‘ کی علامت نہیں۔ بدقسمتی سے میاں نوازشریف اور ان کی جماعت ’’جمہوری‘‘ بھی نہیں ہیں۔ اس لیے میاں صاحب ’’جمہوری عصبیت‘‘ کی علامت بھی نہیں ہوسکتے۔ لے دے کے میاں صاحب کا نسلی، لسانی اور صوبائی تشخص ہی باقی رہ جاتا ہے۔ تو کیا اسی تشخص کے معنوں میں میاں صاحب پنجاب کے لیڈر ہیں؟ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے، خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ بدترین حالات میں بھی سندھ پر پیپلزپارٹی کی گرفت مضبوط ہے اور اسے اقتدار کی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پیپلزپارٹی کبھی ایک وفاقی پارٹی تھی اور سب ہی اسے ایک وفاقی پارٹی سمجھتے تھے۔ مگر سب جانتے ہیں کہ اب پیپلزپارٹی صرف سندھ کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے، اور پیپلزپارٹی کی قیادت جب چاہتی ہے ’’سندھ کارڈ‘‘ سے کھیلنے لگتی ہے۔ تو کیا خورشید ندیم صاحب کے نزدیک انہی معنوں میں اب میاں صاحب صرف پنجاب کے لیڈر ہیں، اور وہ بھی پنجاب کارڈ کی سیاست کررہے ہیں یا کریں گے؟ خورشید ندیم صاحب نے کہا ہے کہ پنجاب ماضی میں بھٹو صاحب کی حمایت کرچکا ہے اس لیے اسے متعصب نہیں کہا جانا چاہیے۔ بالکل ٹھیک، پنجاب کے بغیر بھٹو صاحب کبھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ خورشید ندیم موجودہ حالات میں پنجاب کے اس کردار پر اعتبار اور انحصار کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟ انہیں کیوں لگ رہا ہے کہ عمران خان بھٹوکی طرح پنجاب کے رہنما نہیں بن سکتے؟ کیا عمران خان کی جماعت پنجاب کی دوسری بڑی جماعت نہیں ہے؟ بلاشبہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے یہ حیثیت دلائی ہے، مگر خود میاں صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر بیٹھ کر ملک کے وزیراعظم اور ’’پنجاب کے لیڈر‘‘ بنے ہیں۔ خورشید ندیم صاحب میاں صاحب کو ’’پنجاب کا لیڈر‘‘ باور کرانے کے حوالے سے اتنے ’’جذباتی‘‘ ہیں کہ انہوں نے میاں نوازشریف کا موازنہ شیخ مجیب الرحمن، اور پنجاب کا مقابلہ سابق مشرقی پاکستان سے کر ڈالا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اگر مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کا متبادل ہوتا تو مشرقی پاکستان میں مرکز مخالف جذبات کو قابو میں رکھا جاسکتا تھا۔ جب وہ واحد نمائندہ بن گئے تو اُس وقت ایک ہی حل تھاکہ مرکز اُن کے ساتھ معاملہ کرے۔ مرکز نے انہیں ختم کرنے کا متبادل اختیار کیا۔ انجام ہمارے سامنے ہے۔
آج اگر پنجاب میں نوازشریف کا کوئی متبادل نہیں ابھرتا تو پھر مرکز کو اُن سے معاملہ کرنا پڑے گا۔ سیاسی استحکام کا یہی راستہ ہے۔ اگر اُن کو دیوار سے لگانے کا عمل اسی طرح جاری رہا اور ساتھ متبادل بھی سامنے نہ آیا تو معاملات کو سنبھالنا مشکل تر ہوجائے گا۔ میرا احساس ہے کہ پنجاب میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس کو قیادت سے محروم رکھنے کے اس عمل کو روکنا ضروری ہے۔‘‘
(روزنامہ دنیا۔ 27 دسمبر 2018ء)
غلط یا صحیح‘ سابق مشرقی پاکستان کے لوگوںکی شکایت تھی کہ 1947ء سے 1971ء تک ان کا استحصال کیا گیا۔ ان کی آبادی 56 فیصد تھی مگر فوج میں ان کی نمائندگی دس پندرہ فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ملک کی آبادی کا 56 فیصد تھے مگر Parity کے اصول کے تحت انہیں خود کو آبادی کا صرف 50 فیصد سمجھنے پر مائل یا مجبور کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے لوگوں کی شکایت بھی یہ ہے کہ انہیں 1947ء سے 2018ء تک ’’محرومی‘‘ کا شکار رکھا گیا ہے؟ کیا ملک کی آبادی کا 60 فیصد ہونے کے باوجود پنجاب کے لوگوں کی فوج میں نمائندگی صرف دس پندرہ فیصد ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، مگر اس کے باوجود خورشید ندیم میاں صاحب کا موازنہ شیخ مجیب الرحمن سے کررہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ اگر میاں صاحب کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری رہا تو جس طرح مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اس طرح پنجاب بھی پاکستان سے الگ ہوسکتا ہے یا علیحدگی کی راہ پر چل سکتا ہے۔ ان کے بقول حالات کسی بھی وقت خراب ہوسکتے ہیں۔ اللہ اکبر۔
دنیا بھر میں فوج ایک ادارہ ہے مگر ہمارے جرنیلوں نے فوج کو بھی ایک ’’قومیت‘‘ بنادیا ہے۔ فوج کو ’’قومیت‘‘ بنایا جائے گا تو اس قومیت کی ’’عصبیت‘‘ بھی پیدا ہوگی۔ یہ عصبیت صحافت میں کس طرح کلام کرتی ہے اور کرسکتی ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔
ہارون الرشید ملک کے معروف کالم نگار ہیں۔ انہوں نے روزنامہ ’دنیا‘ میں لکھا:
’’اللہ کا شکر ہے کہ دہشت گردی کا عفریت مررہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کل بھوشن یادیو، اس طرح بلوچستان میںمٹرگشت کیا کرتا، گویا وہ بھارت کا ایک صوبہ ہے۔ جاتی امرا کے محلات میں، نریندر مودی کے ساتھ، شریف خاندان کی میزبانی کا لطف اٹھانے والے اجیت دووال نے دعویٰ کیا تھا کہ جس وقت وہ چاہیں گے، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو کاٹ کر الگ کردیں گے۔ کل بھوشن یادیو اب جیل میں پڑا ہے اور خارجیوں کا سب سے سفاک سرغنہ ملا فضل اللہ جہنم واصل ہوچکا ہے۔ ایک ممتاز مذہبی جماعت کے وہ معزز سربراہ اب اپنی خلوت میں خاموش پڑے ہیں، جنہوں نے خارجی قاتلوں کو شہید قرار دیا تھا۔‘‘
(روزنامہ دنیا، 8 جولائی، 2018ء)
ہارون الرشید صاحب نے اپنے کالم میں ملک کی ممتاز مذہبی جماعت کے جس سربراہ کو ’’بے نام‘‘ رکھا ہے، انہیں ہارون الرشید کے فرزندِ ارجمند بلال الرشید نے روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ’’نام‘‘ دے دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’یہ زعم تقویٰ اور پارسائی کی نفسیات ہر کہیں موجود ہے۔ ایک واٹس ایپ گروپ میں، مَیں شامل تھا۔ ایک شخص اکثر ایک دعا شیئر کرتا، جس کے آخری الفاظ اس طرح کے ہوا کرتے: اے خدا میری چاہت، عشقِ رسولؐ اور محبتِ الٰہی!! ایک دن ایک صاحب نے سب کے سامنے اُن سے یہ فرمایا کہ یہ دعا تو آپ اکیلے میں بھی مانگ سکتے ہیں۔ سب کے سامنے کیوں مانگتے ہیں؟ کیا آپ کے دل میں حُبِّ جاہ نے ڈیرے لگا لیے ہیں؟ آپ بداخلاقی اور بدگمانی کے لیول کا اندازہ لگائیں۔ کچھ دیر تک تو دوستوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، جب باز نہ آئے، تو پھر طبیعت صاف کرنی پڑی۔ اس سے کسی حد تک افاقہ ہے۔ یہ زعمِ تقویٰ ہر کہیں ہے۔ سید منورحسن تو اس زعمِ پارسائی میں اتنے اندھے ہوچکے تھے کہ پاک فوج کے جوانوں کو شہید ماننے پر تیار نہیں تھے۔ خودکش حملوں کی مذمت پر تیار نہیں تھے۔ پھر دیکھیں، قوم نے انہیں کس گمنامی کے حوالے کیا۔‘‘
(روزنامہ دنیا، 13 اگست 2018ء)
دیکھا جائے تو ہارون الرشید اور بلال الرشید کے کالموں میں سید منورحسن کے حوالے سے ’’جو ’’ہم سے‘‘ ٹکرائے گا، پاش پاش ہوجائے گا‘‘ کا انداز ملتا ہے۔ اصول ہے:

باپ پہ پُوت پتا پر گھوڑا
زیادہ نہیں تو تھوڑا تھوڑا

مگر سوال یہ ہے کہ سید منورحسن کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی کوئی بنیاد بھی ہے؟ سید منورحسن نے جو کچھ کہا تھا ایک مذہبی اصول کی بنیاد پر کہا تھا۔ اصول یہ ہے کہ اسلام اسلامی مملکت کا ایک رتی برابر بھی باطل یا دشمن کے حوالے کرنے کے خلاف ہے، اور یہاں جنرل پرویز نے پوری ریاست امریکہ کے حوالے کردی تھی اور پاکستان کی فوج کو کرائے کی فوج بناکر رکھ دیا تھا۔ یہ بات تو اب اسٹیبلشمنٹ کی علامت عمران خان بھی کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ اب ہم کسی کے لیے کرائے کی بندوق نہیں بنیں گے۔ سید منور حسن بھی اسی بات پر ناراض تھے کہ ہم دشمن کے لیے کرائے کے فوجی کیوں بن گئے ہیں؟ وہ سوال اٹھا رہے تھے کہ امریکہ کی جنگ لڑنے والے کو شہید کیسے کہا جاسکتا ہے؟ سید منورحسن کی بات سے اختلاف کیا جاسکتا تھا اور کیا جاسکتا ہے، مگر اس کے لیے سند اسلام ہی سے لانی ہوگی۔ اس کے لیے آئی ایس پی آر سے سند نہیں لائی جاسکتی۔ اسلام کا ایک اصول یہ ہے کہ باطل کی مزاحمت کرتے ہوئے مارا جانے والا شہید ہے۔ سید منورحسن نے انہی معنوں میں بیت اللہ محسود کو شہید کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بیت اللہ محسود ملک کے اندر قتل و غارت گری کررہا ہے تو بہت اچھا کررہا ہے۔ اگر ایک شخص کے بارے میں آپ کو معلوم ہو کہ وہ ڈاکو اور قاتل ہے مگر کسی ایک مرحلے پر جاکر وہ اسلام کے لیے بروئے کار آکر مارا جائے تو اس کے ماضی کو فراموش کیے بغیر یہ کہا جائے گا کہ وہ بہرحال شہید ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں ایسے کئی واقعات ہوئے کہ لوگ اسلام لائے اور فوراً کسی غزوے میں شریک ہوکر شہید ہوگئے۔ اسلام نے ان کے کفر کو فراموش کرکے ان کے ایمان کو یاد رکھا، اور ہماری تاریخ نے ان کی شہادت کی گواہی دی۔ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جس نے پاکستان کے لیے ہر محاذ پر قربانی دی ہے۔ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی طرح لڑی اور اب تک اس کی قیمت ادا کررہی ہے۔ وہ جہادِ افغانستان میں فوج کی طرح شریک ہوئی اور جہاد کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ کشمیر میں وہاں جاکر لڑی جہاں پاک فوج بھی نہیں لڑی، اور جہادِ کشمیر کی داستان جماعت اسلامی کے نوجوانوں کے خون سے لالہ زار بنی ہوئی ہے۔ ہارون الرشید اور ان کے فرزندِ ارجمند اور کچھ نہیں تو جماعت اسلامی کی اس تاریخ ہی کا خیال کرلیتے۔ مگر ان کی وفاداری حق کے ساتھ نہیں، ایک ’’قبیلے‘‘ کے ساتھ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے قبیلے ہی کا دفاع بھی کیا ہے۔ بلال الرشید نے اپنے کالم میں کہا ہے کہ جماعت کے لوگ اپنے تقوے کے زعم میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ بہت ہی بری بات ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بلال الرشید تو سول ہوکر’’فوجی زعم‘‘ میں مبتلا ہیں۔ ایسا فرد کسی کے تقوے کے زعم کا مذاق اڑاتا ہوا اچھا نہیں لگتا۔ ہارون الرشید صاحب نے سید منورحسن کی ’’خلوت‘‘ اور بلال الرشید نے ان کی ’’گمنامی‘‘ کا دل لگا کر تذکرہ کیا ہے۔ ہارون الرشید صاحب کے لیے عرض ہے کہ بامعنی خلوت ’’بے معنی‘‘ جلوت سے لاکھ گنا بہتر ہے۔ رہی سید صاحب کی گمنامی، تو اس شخص کو بھلا کون گمنام کہے گا جو پوری مسلم دنیا میں جانا جاتا ہو۔ دوسری یہ بات ہمارا مذہب بتاتا ہے کہ اللہ کے بعض ولی ایسے ہوتے ہیں کہ نہ انہیں کوئی جانتا ہے اور نہ کوئی انہیں عزت دیتا ہے، مگر وہ ہوتے اللہ کے ولی ہیں۔ یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہےکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر اُن طالبان کی ’’اتحادی ‘‘بن گئی ہے، جنہیں وہ کبھی پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا کرتی تھی۔اس نےامریکہ کے مطالبے پر طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے کیا اسٹیبلشمنٹ نے افغان طالبان سے اُن پاکستانی طالبان کی مذمت کرالی ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے تھے؟ اگر نہیں تو اسٹیبلشمنٹ نے بالواسطہ طور پر دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کر لیا ہے۔ آخر اسٹیبلشمنٹ کاسیاسی حلال و حرام اتنی تیزی سے کیوںبدلتا ہے!
مذہبی زندگی کے دائرے میں تعصبات کا گزر بھی نہیں ہونا چاہیے، مگر ہمارے مذہبی تشخص کے حصار میں بھی طرح طرح کے تعلقات کام کررہے ہیں۔ کہیں فرقہ واریت چل رہی ہے، کہیں مسلک پرستی کا راج ہے، کہیں مکتبہ فکر ہی کو عصبیت کی بنیاد بنالیا گیا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کے 10 فروری 2018ء کے شمارے میں جمعیت علمائے اسلام کے سابق رہنما مفتی امتیاز مروت کا انٹرویو شائع ہوا تھا۔ مفتی صاحب نے انٹرویو نگار اے۔اے۔ سید کو بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے ایک دن انہیں بلایا اور کہاکہ آپ مولانا مودودیؒ کے خلاف ایک کتاب لکھیں۔ مفتی امتیاز مروت نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ اپنی ایک کتاب میں مولانا مودودیؒ کا موازنہ مرزا غلام احمد قادیانی سے کرچکے ہیں، لیکن اُن کے بقول انہوں نے مولانا مودودیؒ پر کتاب لکھنے کی غرض سے جب مولانا کو پڑھا تو مولانا کے بارے میں اُن کی رائے تبدیل ہوگئی اور وہ بالآخر جمعیت علمائے اسلام کو چھوڑ کر جماعت اسلامی میں آگئے۔ مگر یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن قاضی صاحب کے ساتھ مل کر متحدہ مجلس عمل کی سیاست کرچکے تھے، مگر اس کے باوجود وہ مولانا مودودیؒ کے خلاف کتاب لکھوانے کے لیے بے تاب تھے۔ مولانا مودودیؒ نے اسلامی تاریخ کی کئی بڑی شخصیات سے اختلاف کیا ہے، چنانچہ خود مولانا مودودیؒ سے بھی اختلاف کیا جاسکتا ہے اور ان پر تنقید ہوسکتی ہے، مگر مولانا سے اختلاف ایک چیز ہے اور مولانا کو ’’فتنہ‘‘ اور ’’گمراہ‘‘ قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی بہت ہی مختلف بات ہے۔
اسلام مسلمانوں کے سامنے امت کا تصور رکھتا ہے۔ امت کا تصور ایک سمندر کی طرح ہے۔ اس کے برعکس تعصب خواہ مذہبی ہو یا نسلی… لسانی ہو یا صوبائی… فرقہ وارانہ ہو یا مسلکی… انسان کو کنویں کا مینڈک بنادیتا ہے اورانسان اعلان کے بغیر امت کے تصور پر تھوک دیتا ہے۔ امت کے تصور پر تھوکنا دراصل اسلام ہی پر تھوکنا ہے۔ امت کے تصور کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ’’تنوع‘‘ ہے، امت کے تصور میں امتیاز ہے، اختلاف ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو شخص امت کے تصور پر یقین رکھتا ہے وہ تنوع، امتیاز اور اختلاف کو جذب کرنے والا ہوتا ہے۔ البتہ ہمارے تنوع، ہمارے امتیاز اور ہمارے اختلاف کو ایک ’’اصول واحد‘‘ کے تابع ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہوگا تو ہمارا ’’تنوع‘‘ ہمارا ’’تضاد‘‘ بن جائے گا۔ ہمارا امتیاز کشمکش پیدا کرے گا۔ اور ہمارا اختلاف جھگڑے کو جنم دے گا۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب مسلمان تعصب سے بلند ہوئے ہیں انہوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ مثلاً پاکستان کا وجود انسانی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ ہے۔ یہ کارنامہ انجام نہیں پاسکتا تھا اگر برصغیر کی پوری ملتِ اسلامیہ پاکستان کے لیے بروئے کار نہ آتی۔ مگر جب پاکستان کے حکمران طبقے نے مشرقی پاکستان کے اندر ناانصافیوں اور ظلم کی تاریخ رقم کی تو بنگالیوں کا نارمل تشخص ایک تعصب میں ڈھل گیا اور ہم نے آدھا پاکستان کھو دیا۔ اقبال نے شاعر کو دیدۂ بینا قرار دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ادب اور ہماری صحافت کی سرحدیں ملتی تھیں۔ اُس وقت ہماری صحافت بھی ’’دیدۂ بینا‘‘ ہی تھی۔ مگر بدقسمتی سے ہماری صحافت اب مدتوں سے قوم کے لیے ’’دیدۂ نابینا‘‘ بنی ہوئی ہے۔ ہماری صحافت کا ایک بہت ہی بڑا جرم یہ ہے کہ 1971ء میں ملک ٹوٹ رہا تھا اور ہماری صحافت قوم کو بتاہی نہیں رہی تھی کہ ملک میں کیا ہورہا ہے، بلکہ بعض صحافی تو فرما رہے تھے کہ مشرقی پاکستان میں فوج کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے، حالانکہ وہاں فوج کے خلاف ہر طرف نفرت کی آگ لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ سقوطِ ڈھاکا ہوا تو پوری قوم حیران رہ گئی اور بدترین صدمے سے دوچار ہوئی۔ اس صدمے میں ملک ٹوٹنے کے صدمے کے ساتھ ساتھ مطلع نہ ہونے کا صدمہ بھی شامل تھا۔ کراچی میں 30سال تک قتل و غارت گری ہوتی رہی، بھتہ خوری کا راج رہا مگر ہماری صحافت منہ میں گھونگھنیاں ڈالے بیٹھی رہی۔ اِس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ کسی اخبار، کسی کالم نویس اور کسی چینل پر اسٹیبلشمنٹ کی مہر لگی ہے… کسی اخبار، کالم نویس اور چینل پر نواز شریف کی مہر لگی ہوئی ہے۔ انگریزی صحافت ملک میں ’’فرقہ مغربیہ‘‘ کا منظر پیش کررہی ہے۔ یہ قوم کے اتحاد کا نہیں، قوم کے انتشار کا منظر ہے۔ بہت سال پہلے ایک قول کہیں پڑھا تھا، قول یہ تھا:
’’زنجیر کی کمزور کڑی اس کی سب سے اہم کڑی ہوتی ہے، کیونکہ یہ کڑی جب چاہے زنجیر کو توڑ سکتی ہے‘‘۔
مگر تعصبات نے ہماری سیاست اور ہماری صحافت کی زنجیر کی مضبوط کڑیوں کو بھی ہماری کمزور کڑیاں بنادیا ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں