سیرت طیبہ اور امت کی دنیاپرستی

آئینہ صرف انسان کے ظاہر کو منعکس کرتا ہے، مگر سیرتِ طیبہؐ وہ آئینہ ہے جو بیک وقت انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو آشکار کرتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم صرف سیرتِ طیبہؐ کے ذریعے یہ جان سکتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا ہیں اور ہم کیا ہوگئے ہیں؟ صرف سیرتِ طیبہؐ کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ ہمارے عروج و زوال کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ صرف سیرتِ طیبہؐ کے ذریعے ہم جان سکتے ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کتنی روحانی یا کتنی غیر روحانی ہے؟
بلاشبہ مسلمانوں کی زندگی کو قرآن مرکز ہونا چاہیے، لیکن ہم سیرتِ طیبہؐ کے مطالعے کے بغیر قرآن کو بھی سمجھنے کی طرح نہیں سمجھ سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کتاب اللہ ہونے کے باوجود بھی صرف اصولوں کو بیان کرتا ہے۔ اس کے برعکس سیرتِ طیبہؐ بتاتی ہے کہ قرآن عمل کیسے بنتا ہے؟ قرآن ٹھوس تجربے میں کیسے ڈھلتا ہے، اور اصول چلتے پھرتے انسان میں کیسے تبدیل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت تو قرآن کے معنی سے بھی آگاہ نہیں، لیکن قرآن پاک پڑھنے والوں کی بڑی تعداد بھی سیرت سے اس طرح آگاہ نہیں جس طرح اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فی زمانہ مسلمان سیرتِ طیبہؐ کے نمونۂ کامل سے اتنے دور ہیں کہ کہیں نہ کہیں ان کو لگتا ہے کہ سیرتِ طیبہؐ ’’ماضی کا قصہ‘‘ ہے۔ ہمارے ایک دوست نے ایک نجی محفل میں ہم سے کہا کہ سیرتِ طیبہ نمونہ تو ہے مگر عہدِ حاضر میں اس پر عمل ناممکن ہے۔ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ریاست مدینہ کو ماضی کا قصہ خیال کرتے ہیں۔ غور کیا جائے تو یہ خیالات پیدا ہی اس لیے ہوئے کہ ہم اسلام کی فکر اور اس پر عمل کی یکجائی کے تصور سے دور ہوگئے ہیں۔ حالات یہی رہے تو آج لوگوں کو سیرتِ طیبہؐ پر عمل دشوار نظر آرہا ہے، آنے والے وقت میں انہیں قرآن مجید ایسی کتاب نظر آئے گا جس کی آیات لوگوں کے لیے ایسی آسمانی باتوں کی طرح ہوں گی جن کا زمین سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ بہرحال اس حوالے سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ عہدِ حاضر میں امت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
اس چیلنج کی نشاندہی کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین احادیث کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ سیرتِ طیبہؐ کا مشہور واقعہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ راستے میں بکری کا بچہ مرا ہوا پڑا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے قریب ٹھیر گئے۔ آپؐ نے صحابہ سے پوچھا: تم میں سے کون ہے جو اس بچے کو خریدنا چاہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: ایک تو یہ بکری کا بچہ ہے، اس پر مرا ہوا بھی ہے، چنانچہ ہم تو اسے مفت بھی لینا پسند نہیں کریں گے۔ آپؐ نے یہ سنا تو فرمایا: یاد رکھو دنیا بکری کے اِس مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کےسامنے دنیا اور آخرت کا موازنہ ایک مثال کے ذریعے بیان فرمایا۔ آپؐنے صحابہ سے پوچھا، سمندر میں انگلی ڈال کر نکال لی جائے تو انگلی پر کتنا پانی لگے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میری چھنگلی انگلی پر لگے ہوئے چند قطروں کی طرح ہے اور آخرت اس سمندر کی طرح۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ہر امت کا ایک فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا فتنہ مال ہے، اور مال دنیا کا ایک حصہ ہے۔ خود دنیا کا حقیقی تصور یہ ہے کہ وہ بکری کے مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔ دنیا کی ضد یا دنیاکا Opposit آخرت ہے، اور آخرت سمندر ہے اور دنیا اس کے مقابلے پر چند قطروں کے برابر۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دنیا بکری کے مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے، مگر امت کی عظیم ترین اکثریت کا حال یہ ہے کہ دنیا اس کی زندگی کا مرکز ہے اور دین مضافات۔ دین آرزو ہے اور دنیا جستجو۔ دین قول ہے اور دنیا عمل۔ دین تجرید ہے اور دنیا ٹھوس تجربہ۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت سمندر ہے اور دنیا کی حیثیت چند قطروں سے زیادہ نہیں، مگر امت کی عظیم ترین اکثریت کا یہ حال ہے کہ اُس کے لیے دنیا نقد ہے اور آخرت ادھار۔ دنیا اصل ہے اور آخرت محض ایک خیال۔ دنیا موجود ہے اور آخرت محض ایک ممکن۔ دین اور دنیا کا اصل تعلق یہ ہے کہ دین مسلمان کی ’’محبت‘‘ ہے اور دنیا مسلمان کی ’’ضرورت‘‘۔ مگر مسلمانوں کی اکثریت کے لیے دین محض ایک ’’ضرورت‘‘ ہے اور دنیا ’’محبت‘‘۔ مسلمانوں کے لیے دنیا قائد ہے اور دین مقلّد۔ دین تقریر ہے اور دنیا تدبیر۔ دین تصویر ہے اور دنیا تعمیر۔ دین جبر ہے اور دنیا آزادی۔ دین خواب ہے اور دنیا تعبیر۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاکو بکری کے مرے ہوئے بچے سے تشبیہ دے کر مسلمانوں میں دنیا کے لیے کراہیت پیدا کی، مگر ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں میں کون ہے جو دنیا سے کراہیت محسوس کرتا ہو؟ اس کے برعکس ہمیں دنیا سے زیادہ بامعنی اور حسین و جمیل کوئی شے نہیں لگتی۔ چنانچہ ہم صبح سے شام تک صرف دنیا کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ صبح سے شام تک دنیا کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ صبح سے شام تک دنیا کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ صبح سے شام تک دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہماری کامیابی کا پیمانہ دنیا ہے۔ ہماری ناکامی کا معیار دنیا ہے۔ ہماری خوشی دنیا سے وابستہ ہے۔ ہمارے سارے غم دنیا سے متعلق ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں تو دنیا کے لیے۔ ہم اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں تو دنیا کے لیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے عہد کا مسئلہ تھا آخرت، آخرت، آخرت۔ ہمارا اور ہمارے عہد کا مسئلہ ہے دنیا، دنیا اور صرف دنیا۔ بلاشبہ ہم نے اسلام تو ترک نہیں کردیا ہے مگر دنیا کی محبت ہمارے قلوب اور اذہان پہ اس طرح طاری ہے کہ دنیا کی اہمیت بنیادی ہے اور دین کی اہمیت ثانوی۔ یہاں سے دین اور دنیا کے امتزاج کا تصور پیدا ہوا ہے۔ لوگ کہتے ہیں دین اور دنیا کا امتزاج ضروری ہے۔ بلاشبہ دین دنیا کی ضد نہیں ہے، لیکن دین اور دنیا میں حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے۔ دین حاکم ہے اور دنیا محکوم۔ دین استاد ہے اور دنیا طالب علم۔ حاکم محکوم کو بتاتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ استاد طالب علم کو بتاتا ہے کہ درست کیا ہے اور نادرست کیا ہے۔ مگر ہماری دنیا میں دنیا یا تو دین کی حاکم بن گئی ہے یا وہ اسے محکوم بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ دوسری جانب دنیا کہہ رہی ہے کہ مجھے اپنی تعلیم کے لیے کسی استاد کی حاجت نہیں، میں اپنی استاد خود ہوں اور میں خود طے کرسکتی ہوں کہ اچھا کیا ہے، برا کیا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ دین ہمہ گیر ہے اور دنیا صرف ایک پہلو کی حامل ہے، مگر عہدِ حاضر میں دنیا کہہ رہی ہے کہ میں جامع ہوں، میں ہمہ گیر ہوں، اور دین زندگی کا محض ایک جزو ہے۔ چنانچہ مسلمان دین کو صرف عقائد، عبادات اور اخلاقیات تک محدود رکھیں اور ریاست و سیاست، معیشت و معاشرت اور آرٹ اور کلچر پر اسے اثرانداز نہ ہونے دیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے جس حصے کو امت کے لیے سب سے خطرناک قرار دیا ہے وہ مال ہے۔ اس وقت امت کی زندگی کے دو مراکز ہیں: مال اور طاقت۔ مال اور طاقت کا باہمی تعلق یہ ہے کہ مال سے طاقت بڑھتی ہے اور طاقت سے مال۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جس طرح کافروں اور مشرکوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی مال مرکز اور طاقت مرکز بنی ہوئی ہے ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کی عظیم ترین اکثریت کی زندگی بھی مال مرکز اور طاقت مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس زندگی کے دائرے میں خدا اور رسولؐ اور دین موجود تو ہیں مگر مؤثر یا Functional نہیں ہیں۔ مؤثر اگر ہے تو مال یا طاقت۔ زندگی کے اس دائرے میں اگر خدا، رسولؐ اور دین مؤثر نہیں ہیں تو تقویٰ یا علم کی کیا اوقات ہوگی؟ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امت کی زندگی مال اور طاقت کے پیدا کردہ کلچر سے اٹی ہوئی ہے۔
مال کے حوالے سے امت کے دو طبقات ہیں۔ ایک طبقہ جو مال دار ہے، اُس کے لیے مال کی کثرت فتنہ بن گئی ہے۔ یہ طبقہ عیش پرستی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس طبقے کا نعرہ ہے:

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

انسان عیش پرست ہوجاتا ہے تو وہ دین کیا دنیا کے بھی قابل نہیں رہتا۔ چنانچہ امت کے مالدار طبقے کے پاس نہ علم ہے نہ مہارت۔ اُس کے پاس دنیا کو بدلنے کا کوئی خواب نہیں۔ مال کے فتنے کا دوسرا مظہر وہ طبقہ ہے جو مال کی قلت میں مبتلا ہے۔ اس طبقے کے لیے مال کی قلت فتنہ بن گئی ہے۔ چنانچہ یہ طبقہ مال کی خواہش میں زندگی بسر کررہا ہے۔ یہ طبقہ بالائی طبقات کی مذمت بھی کرتا ہے مگر انہی کی طرح بننے کی تمنا بھی رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ طبقہ معاشی اعتبار سے بالائی طبقات کے ساتھ ایک طرح کی Love Hate Relationship استوار کیے ہوئے ہے۔ اس تعلق میں نفرت مصنوعی ہے اور محبت حقیقی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث شریف میں امت کے اس زمانے کا ذکر فرمایا ہے جب امت دنیا کی محبت اور موت کی نفرت میں مبتلا ہوجائے گی۔ ہمارا زمانہ ایسا ہی زمانہ ہے۔ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت یا اس سے کراہیت میں ایک ربطِ باہمی پایا جاتا ہے۔ انسان کے دل میں دنیا کی محبت جتنی بڑھتی جاتی ہے موت کی کراہیت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح موت کی کراہیت یا اس سے نفرت جتنی بڑھتی ہے اتنا ہی دنیا کی محبت میں ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ حقیقت راز نہیں کہ جس دل میں دنیا کی محبت ہوتی ہے اُس دل میں خدا موجود نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ خدا غیر کو سخت ناپسند کرتا ہے اور دنیا حقیقی معنوں میں خدا کی غیر ہے۔ خدا کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ جب دل میں خدا آجاتا ہے تو پھر دنیا کے ایک ریزے کے لیے بھی جگہ نہیں بچتی۔ دنیا کا مزاج توسیع پسندانہ ہے۔ دنیا دل میں آتی ہے تو ایک ذرے کے برابر آتی ہے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ پورے دل پر قابض ہوجاتی ہے اور کسی دوسری چیز کے لیے دل میں جگہ باقی نہیں بچتی۔ خدا کے لیے بھی نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا بھی اپنے غیر کو سخت ناپسند کرتی ہے، اور دنیا کا غیر کہیں دین ہے، کہیں خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت۔
امت کا المیہ یہ ہے کہ دنیا پرستی میں صرف عوام ہی مبتلا نہیں بلکہ خواص، یہاں تک کہ خواص الخواص بھی دنیا پرستی کی لعنت میں گرفتار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ خواص اور خواص الخواص کہیں مال کی محبت میں مبتلا ہیں، کہیں طاقت کے اسیر ہیں، کہیں انہیں عہدہ و منصب درکار ہے، اور کہیں وہ شہرت کی تمنا میں مرے جارہے ہیں۔ مسلم دنیا کے حکمران اس حوالے سے امت کا بدترین طبقہ ہیں۔ نہ عملاً ان کا کوئی خدا ہے، نہ عملاً ان کا کوئی رسول ہے، نہ ان کا کوئی دین ہے، نہ ان کی تہذیب اور تاریخ ہے، یہاں تک کہ ان کی کوئی قوم بھی نہیں۔ وہ قوم کا لفظ استعمال ضرور کرتے ہیں مگر ان کا تصورِ قوم یہ ہے کہ عام افراد ان کے غلام، ان کے ہاری، بونے اور بالشتیے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنے زمانے میں طبقۂ علماء کو مخاطب کرتے ہوئے ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے علمائے وقت کو ’’احمقو‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ اگر آج شاہ ولی اللہ پھر آجائیں تو وہ نہ جانے آج کے علما کی عظیم اکثریت کو کیا کہہ کر مخاطب کریں گے؟ صحافت کبھی ایک مشن تھی مگر اب کاروبار بن گئی ہے۔ طوائفیں اپنا جسم بیچتی ہیں، اور عہدِ حاضر کے میڈیا ٹائی کونز اور صحافیوں کی اکثریت اپنی روح، اپنا ضمیر اور اپنی آزادی فروخت کرتی ہے۔ چنانچہ کہیں صحافت بادشاہوں کے جوتے چاٹ رہی ہے، کہیں جرنیلوں کی باندی بنی ہوئی ہے، کہیں طاقت ور سول حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کی رکھیل بنی ہوئی ہے۔ اصلاح کرنے والوں کا یہ حال ہو تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ معاشرے کا کیا حال ہوگا! دانش وروں، شاعروں، ادیبوں اور اساتذہ کا حال بھی خستہ ہے۔ ان طبقات میں بھی دنیا پرستی انتہا کو چھو رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان طبقات کی تکریم ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ تکریم نہ ڈنڈے کے زور سے حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ اسے پیسے سے خریدا جا سکتا ہے۔ تکریم کردار سے پیدا ہوتی ہے، اور ہماری تہذیب میں کردار ہمیشہ خدا پرستی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور دین کی الفت اور فہم سے پیدا ہوا ہے۔
دنیا اور اُس کی محبت ہر دور میں ایک مسئلہ رہی ہے، مگر ہمارے زمانے تک آتے آتے دنیا ہاتھی سے ڈائناسار بن گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ ایک زمانے تک دنیا صرف چند مخصوص طبقات کے لیے تھی، مگر صنعتی انقلاب اور جدید معیشت و تجارت کے ماڈل نے دنیا کو ہر کسی کے لیے قابلِ حصول بنادیا ہے۔ چنانچہ دنیا اور اس کی محبت چھوت کی ایک بیماری بن گئی ہے اور پورا عالم اس کے نرغے میں آگیا ہے۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کی محبت ایک فلسفہ بن گئی ہے۔ اس فلسفے کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک دن ایک ’’مذہبی دانش ور‘‘ ہم سے کہنے لگے کہ اسلام دنیا کا حریف تھوڑی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ربنا اٰتنا فی الدنیا سنا ڈالی۔ کہنے لگے: اس دعا میں دنیا کے حسنات کا ذکر بھی ہے اور آخرت کے حسنات کا ذکر بھی۔ ان کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ دنیا کے حسنات میں مال و دولت شامل ہوتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یقینا مال و دولت کو پسند فرماتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت ایسی تھی کہ اگر آپؐ سونے کے محل میں بھی رہتے تو آپؐ کی روحانیت پر اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ مگر آپ ؐ نے مال و اسباب کی جانب دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ ایک مرحلے پر آپؐ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپؐ کہیں تو احد پہاڑ کو سونے کا بنادیں؟ مگر آپؐ نے فرمایا: مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن پیٹ بھر کھانا کھائوں اور تیرا شکر کروں۔ دوسرے دن شکم خالی رہے اور میں صبر کروں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے حسنات میں سے ایک شکر ہے اور دوسرا صبر۔ دنیا کے حسنات میں ایک فقر ہے، ایک قناعت۔ دنیا کے حسنات میں سے ایک علم ہے اور ایک حلم۔ حضرت عمرؓ کے دور میں مصر فتح ہوا تو اہلِ مصر نے کہا کہ ہم شہر کی کنجی خلیفۂ وقت کو پیش کریں گے۔ حضرت عمرؓ طویل مسافت طے کرکے مصر کے قریب پہنچے تو آپؐ کے ایلچی نے ایک مقام پرآپؓ کا استقبال کیا۔ اُس نے دیکھا کہ آپؓ کے کپڑے طویل سفر سے گرد آلود ہوگئے ہیں۔ ایلچی نے کہا: اہلِ مصر نفاست پسند ہیں، آپ لباس بدل لیں تو اچھا ہے۔ یہ ایک معمولی بات اور معمولی مطالبہ تھا۔ اور بظاہر درست بھی۔ مگر حضرت عمرؓ نے کہا: ہماری عزت اسلام کی وجہ سے ہے لباس کی وجہ سے نہیں۔ بعدازاں اسلامی سلطنت مزید وسیع ہوگئی تو ایک روز حضرت عائشہؓ نے حضرت عمرؓ کو یاد فرمایا۔ آپؓ حاضر ہوئے تو کہا: اب مسلمانوں کے پاس مال و اسباب آگیا ہے، آپ سے مختلف ممالک کے سفراء اور حکومتوں کے نمائندے ملنے آتے ہیں، اگر آپ بہتر لباس زیب تن کرلیا کریں تو اچھا ہو۔ سامنے حضرت عائشہؓ تھیں اس لیے حضرت عمرؓ نے جواب میں توقف کیا مگر پھر کہا تو صرف یہ: میں اپنے دونوں رفیقوں یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے طریقے کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امت کا بڑا حصہ سیرتِ طیبہؐ کے نمونے کا باغی بنا کھڑا ہے۔ یہ عہدِ حاضر میں امت کے زوال کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اس لیے کہ مسلمان اگر دنیا پرستی میں مبتلا رہیں گے تو ان کے دل جہنم بنے رہیں گے، اور جہنم خدا سے دوری کی علامت ہے۔ کاشف غائر کا شعر ہے ؎

دل جہنم سے کم نہیں غائرؔ
دل میں دنیا ہے بے پناہ بھری

سوال یہ ہے کہ جن دلوں میں خدا نہیں ہے بلکہ دنیا بھری ہوئی ہے ان دلوں پر خدا کیوں رحم فرمائے گا؟ اور کیوں ان کی مدد کرے گا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا مسلمان خدا کی مدد کے بغیر دنیا میں کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ اقبال نے جوابِ شکوہ میں خدا کی زبان سے کہلوایا ہے ؎

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس شعر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا کا مفہوم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے سوا کچھ نہیں۔ ہم آپؐ کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے دنیا سے بے نیاز نہیں ہوں گے تو نہ ہمارا روحانی ارتقا ہوگا، نہ اخلاقی ارتقا ہوگا، نہ ہمارے نفس کا تزکیہ ہو سکے گا اور نہ ہم کتاب و حکمت کے علم سے آراستہ ہو سکیںگے۔ اصول ہے: جیسی انسان کی روح، جیسا انسان کا قلب اور جیسا انسان کا نفس ہوتا ہے، انسان کا علم اور کردار بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ جیسا انسان کا علم اور کردار ہوتا ہے ویسی ہی اس کی تقدیر ہوتی ہے۔ یہ اصول صرف فرد پر نہیں قوموں، ملّتوں اور امتوں پر بھی منطبق ہوتے ہیں۔
اِس وقت سیرتِ طیبہ سے ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے، اسے سمجھنے کے لیے پاکستان میں ملعونہ آسیہ کے کیس کو سمجھ لینا کافی ہے۔ ملعونہ آسیہ کا جرم ثابت ہے۔ اس نے واقعتاً توہینِ رسالتؐ کی تھی۔ یہ بات اسٹیبلشمنٹ کو بھی معلوم ہے، سپریم کورٹ بھی اس سے آگاہ ہے، عمران خان بھی اس پر مطلع ہیں۔ مگر امریکہ اور یورپی یونین کا دبائو تھا کہ اگر پاکستان نے آسیہ کو رہا نہ کیا تو پاکستان کو جی ایس پی پلس کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ یعنی پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر یورپ محصولات عائد کردے گا اور پاکستان کو اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے پاکستان کی فوجی، سیاسی اور عدالتی قیادت نے آسیہ کو رہا کردیا۔ اس رہائی کا امریکہ، یورپ اور اقوام متحدہ نے خیرمقدم کیا۔ ملعونہ آسیہ کے وکیل نے یورپ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسے یورپی ممالک اور اقوام متحدہ نے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے حبس بے جا میں رکھا گیا۔ آسیہ کے شوہر نے امریکہ کے صدر اور برطانیہ و کینیڈا کے وزرائے اعظم سے مدد کی اپیل کی۔ ہالینڈ کے نائب وزیراعظم نے فرمایا کہ ان کا ملک آسیہ کو تحفظ مہیا کرے گا۔ ان خبروں میں ہر طرف امریکہ اور یورپ موجود ہے، اور کون نہیں جانتا کہ امریکہ اور یورپ صرف اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ لیکن آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے بعد دو مزید اہم خبریں اخبارات کی زینت بنیں۔ ایک خبر یہ آئی کہ جنرل باجوہ کے گھر محفلِ میلاد کا انعقاد کیا گیا۔ ہماری تہذیب میں میلاد کی محفل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کی علامت ہے۔ اس طرح جنرل باجوہ نے اپنے گھر پر میلاد کی محفل برپا کرکے اپنے عاشقِ رسولؐ ہونے کا اظہارکیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنرل باجوہ نے اپنے طویل کیرئیر میں اس سے قبل کبھی اپنے گھر پر میلاد کی محفل برپا کی؟ جنرل باجوہ کی تاریخ اس سلسلے میں خاموش دکھائی دے رہی ہے۔ چنانچہ جنرل باجوہ کے یہاں محفل میلاد پر ایک حربے یا Tactic کا گمان ہورہا ہے۔ حربے کی نفسیات یہ ہے کہ آپ ہوتے کچھ ہیں اور بتاتے کچھ اور ہیں۔ یعنی Appearance کچھ اور ہوتی ہے اور Reality کچھ اور۔ یہاں Appearance یہ ہے کہ جنرل باجوہ نے محفل میلاد کا انعقاد کرایا ہے۔ Reality یہ ہے کہ ملک میں توہینِ رسالت کی ایک مجرمہ کو رہا کیا گیا ہے۔ عام تاثر اور تاریخ یہ ہے کہ ہماری اعلیٰ عدالتیں ہمیشہ اہم مقدمات کے فیصلے اسٹیبشلمنٹ کے زیراثر کرتی ہیں۔ ایک خبر عمران خان کے حوالے سے بھی آئی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس کراچی کی خبر کے مطابق آسیہ کی رہائی کے بعد عمران خان اور ان کی حکومت نے بین الاقوامی سطح کی سیرت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ کمال ہے، ایک جانب عمران خان کے عہد میں توہینِ رسالت کی مجرمہ امریکہ اور یورپ کے دبائو پر رہا ہورہی ہے، اور دوسری جانب عمران عشقِ رسولؐ میں ڈوبے جارہے ہیں۔ یہاں بھی عمران خان کی سیرت کانفرنس Appearance ہے اور ملعونہ آسیہ کی رہائی عمران خان کی اصل حقیقت، ان کی اصل Reality۔ ہمارے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بھی پہلی بار نہ صرف یہ کہ فیصلہ اردو میں لکھا بلکہ انہوں نے اپنے فیصلے کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے بھی آراستہ کیا۔ ذرا چیف جسٹس صاحب بتائیں کہ انہوں نے پورے عدالتی کیرئیر میں کبھی کوئی فیصلہ اردو میں لکھا؟ اور کب اپنے فیصلے کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے سجایا؟ کیا چیف جسٹس صاحب کو قرآن و سنت صرف ملعونہ آسیہ کے مقدمے میں ہی یاد آئے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت کے تو ہر فیصلے کو قرآن و حدیث سے آراستہ ہونا چاہیے۔ تجزیہ کیا جائے تو یہاں بھی دل کا چور کلام کرتا نظر آتا ہے۔ تینوں مثالیں بھی یہی بتا رہی ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا انکار تو نہیں کرسکتے مگر بہرحال ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مرکز و محور دنیا اور اس کے مفادات ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کی حرمت جنرل باجوہ، عمران خان اور جسٹس ثاقب نثار کو عزیز ہوگی، مگر ثانوی طور پر۔ ہماری دنیا محفوظ ہوجائے تو ہم اپنے گھر میں محفل میلاد برپا کرسکتے ہیں اور ملک میں بین الاقوامی سطح کی سیرت کانفرنس منعقد کرسکتے ہیں۔ بقول شاعر ؎

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

آئیے کالم کے ابتدائی فقروں کو پھر دہراتے ہیں: آئینہ صرف انسان کے ظاہر کو منعکس کرتا ہے، مگر سیرتِ طیبہؐ وہ آئینہ ہے جو بیک وقت انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو آشکار کرتا ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا، تو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں