عہد حاضر، ریاست مدینہ، تقلید اور نقل

انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والے تخلیقی مواد کا غالب حصہ اسلام دشمنی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری جانب یہ مواد یا تو سیکولر اور لبرل خیالات سے لبریز ہوتا ہے یا معروف معنوں میں اس پر سوشلسٹ نظریات کا سایہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اردو اخبارات کے تخلیقی مواد کی طرح انگریزی اخبارات کے تخلیقی مواد میں بھی کوئی گہری علمی بات نہیں ہوتی۔ البتہ کبھی کبھی انگریزی اخبارات میں ایسی تحریر شائع ہوجاتی ہے جو اسلام دشمن ہونے کے باوجود ایک طرح کی علمی گہرائی کی حامل ہوتی ہے۔
میر شکیل الرحمن کے انگریزی اخبار دی نیوز کی 22 اکتوبر 2018ء کی اشاعت میں علی عزیز داد کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے:
“Religion, Capitalism and Postmodernity”
یعنی مذہب، سرمایہ داری اور مابعد جدیدیت۔ اس مضمون کی اسلام دشمنی یہ ہے کہ اس مضمون میں ریاست مدینہ کی عہد حاضر میں بازیافت کا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مذاق کو علمی بنیاد اور علمی لہجہ مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
علی عزیز داد کے مضمون کا لب لباب یہ ہے کہ جب معاشرہ متغیرات سے دوچار ہوتا ہے تو روایتی اندازِ نظر پہلے سے زیادہ منجمد یا غیر تغیر ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی ذہن کی نظریہ سازی کی استعداد ختم ہوجاتی ہے۔ معاشرے کا تغیر نہ صرف یہ کہ نظریاتی تناظر کو بے معنی بنادیتا ہے بلکہ وہ مختلف تصورات، اداروں اور قول و عمل کے سانچوں کو بے معنی بھی بنادیتا ہے۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت نے ہمارے ہم آہنگ عالمی تناظر اور لسانی سانچے کے پرخچے اُڑا دیے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی ایسا مہا نظریہ یا Meta-Ideology موجود نہیں جو معاشروں اور ریاستوں کو ہم آہنگ طریقے سے کام کرنے کے قابل بناسکے۔ چناں چہ ہماری زندگی میں ہم آہنگی کی جگہ متناقض، قول محال یا Paradox نے لے لی ہے۔ نظریاتی خلا معاشی ضروریات اور سائبر کلچر سے پُر ہورہا ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ انسانی معاشروں کا انتظام و انصرام غیر انسانی چیزوں نے سنبھال لیا ہے جن میں ٹیکنالوجی سرفہرست ہے۔ غیر انسانی میکانزم اور ٹیکنالوجی کثیر القومی سرمائے سے منسلک ہیں۔ کثیر القومی سرمائے نے انسان کے داخل اور خارج دونوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کثیر القومی سرمائے کی موجودگی حقیقی معنوں میں عالمگیر ہوگئی ہے۔ دنیا کا کوئی کونا اس سے محفوظ نہیں۔ سرمائے کی عالمگیر رسائی ہمارے سماجی ڈھانچوں، تصورِ ذات اور تصورِ دُنیا کو تباہ کررہی ہے اور علم کے مرتبے یا Status کو تبدیل کررہی ہے۔ ان تمام تغیرات کو جمع کرلیا جائے تو مابعد جدید یا Post Modern صورتِ حال جنم لے لیتی ہے۔ مابعد جدیدیت یا Post Modernity کی ایک خصوصیت Pastiche ہے(فنی مخلوطہ) Pastiche آرٹ کی وہ صورت ہے جو کسی اور آرٹ یا زمانے کی تقلیدیا Imitation سے پیدا ہوتی ہے۔
علی داد عزیز نے تقلید یا Pastiche کے اس تصور کو عمران خان کے اس دعوے سے جوڑا ہے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کریں گے۔ یہاں علی داد عزیز نے اسلام کی توہین کی دو صورتیں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے اسلام کی توہین کی ایک صورت یہ کہہ کر پیدا کی ہے کہ ایک جانب عمران یہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو مدینے کی ریاست کی طرح بنائیں گے۔ دوسری جانب وہ اسکینڈے نیویا کی فلاحی ریاستوں کو بھی مثالی قرار دیتے ہیں۔ تیسری جانب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم چین سے بھی بہت کچھ سیکھیں گے۔ علی داد عزیز کے بقول عمران تصورات کی یہ کھچڑی اس لیے پکاتے ہیں کہ مسلمانوں کی ’’روایت‘‘ کے پاس ریاست مدینہ کو حقیقت بنانے کے لیے نہ علما دین کے پاس وسائل ہیں نہ اقتصادی اور مالی وسائل ہیں۔ عزیز علی داد نے اسلام کی توہین کی دوسری صورت یہ کہہ کر پیدا کی ہے کہ تقلید یا Pastiche ایک کھوکھلی، خالی یا Empty چیز ہے۔
یہاں ہم اسلام کی دوسری توہین کے جواب سے بات شروع کرتے ہیں۔ عزیز علی داد کا کہنا ہے کہ تقلید یا Pastiche کھوکھلی یا Empty شے ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ ریاست مدینہ کا احیا یا بازیافت ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے عزیز علی داد ایک گہری جہالت میں مبتلا ہیں۔ وہ Pastiche کو تقلید کے معنوں میں استعمال کررہے ہیں حالاں کہ تقلید اور چیز ہے اور نقل اور شے ہے۔ انگریزی میں تقلید کے لیے جو لفظ موجود ہے وہ Imitation ہے۔ اس کے برعکس انگریزی میں نقل کے لیے جو لفظ ہے وہ ہے Mimicry۔ عزیز علی داد چوں کہ ان دونوں کے فرق سے واقف نہیں اس لیے وہ Pastiche کو نقل یا Mimicry کے معنوں میں استعمال کررہے ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ تقلید ایک داخلی نامیاتی، تخلیقی، تکرار سے مبرا اور بھرپور عمل ہے اور اس کے ذریعے کوئی حقیقت یا مفہوم ہر زمانے میں خود کو ایک نئے سانچے میں دریافت کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس نقل یا Mimicry ایک خارجی، مشینی اور تکرار یا Repetition سے لبریز عمل ہے اور تقلید کی طرح اس کا کوئی باطن نہیں ہوتا صرف ظاہر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست مدینہ کی بازیافت دو سو سال پہلے بھی ممکن تھی اور دو ہزار سال کے بعد بھی ممکن ہوگی۔
اقبال کا ایک معرکہ آرا شعر ہے ؂

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اقبال کے اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے ایمان نے آگ کو گلزار بنانے کا جو معجزہ دکھایا تھا وہ سیدنا ابراہیمؑ یا ان کے زمانے سے
مخصوص نہ تھا۔ اگر آج بھی کسی کے پاس سیدنا ابراہیمؑ جیسا ایمان ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آج بھی آگ کو گلزار بناسکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تقلید یا Pastiche زندہ اصول ہے اور ہر زمانے میں اپنے کمالات دکھا سکتا ہے۔ ہماری تاریخ میں اس کے کئی دلائل اور کئی نظائر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر تجدید کا پورا ادارہ تقلید کے اصول پر کھڑا ہوا ہے۔ امتدادِ زمانہ سے اسلام کی تعلیمات گم یا مسخ ہوجاتی ہیں۔ پھر کوئی مجدد آتا ہے اور اسلام کی اصل روح کو زندہ کرکے مسلمانوں کو ان کے مرکز سے جوڑ دیتا ہے۔ بلاشبہ دنیا میں صحابہ کی طرح کا کوئی گروہ دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتا اس لیے کہ صحابہ کی طرح کسی کو بھی رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ سے براہِ راست کسبِ فیض کا موقع فراہم نہیں ہوسکتا۔ لیکن جب ہم اپنے بڑے علما اور صوفیہ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں صحابہ کے جلال اور جمال کا عکس موجود ہے۔ مثلاً امام غزالی، عطار، رومی، جنید بغدادی، نظام الدین تاج الاولیا، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، مولانا قاسم نانوتوی، احمد رضا خان بریلوی، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا مودودی اپنے اپنے زمانے میں اسی روایت کا حصہ محسوس ہوتے ہیں جس کا آغاز قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے ہوا۔ تقلید اور نقل کو شاعری کی اصطلاحوں میں سمجھنا ہو تو کہا جائے گا کہ تقلید آمد کی طرح ہوتی ہے اور نقل آورد کی طرح۔ آمد سرتاپا تخلیق ہوتی ہے اور آورد محض ہیئت کی نقل یا اس کی تکرار۔ فن اداکاری نقل پر کھڑا ہوا ہے۔ اس فن کے دائرے میں اداکار کوئی کردار ادا کرتے ہوئے کسی نہ کسی انسان کی نقل کرتا ہے۔ نقل سراسر ایک خارجی عمل ہے۔ لیکن اداکاری میں بھی کچھ اداکار اتنے غیر معمولی ہوتے ہیں کہ وہ نقل کو تقلید بنادیتے ہیں۔ یعنی وہ اپنی اداکاری کے ذریعے کردار کو تخلیق نو کے مرحلے سے گزار دیتے ہیں۔ برصغیر میں اداکاری کو نقل کی سطح سے اُٹھا کر تقلید بنانے والا اداکار دلیپ کمار ہے۔ بھارت کے ہندو دلیپ کمار کو کم اہم بنانے کے لیے امیتابھ بچن کو آسمان پر بٹھادیتے ہیں مگر امیتابھ کبھی نقل سے اوپر نہیں اُٹھ سکا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ دلیپ کمار کی اہم فلموں میں دلیپ کمار کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ دلیپ کمار نہیں وہ کردار ہے جو دلیپ کمار کو اداکاری کے لیے مہیا کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس امیتابھ ہر فلم میں پہلے امیتابھ اور پھر کوئی کردار نظر آتا ہے۔
عزیز علی داد کے بقول مغرب کے مفکرین تقلید یا ان کی اصطلاح میں Pastiche کو کھوکھلی یا سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ مغرب کی تاریخ کا تجربہ ہے۔ مغرب میں عیسائیت روبہ زوال ہوئی تو کبھی اس کی بازیافت نہ ہوسکی نہ کبھی اس کا احیا ہوسکا۔ چناں چہ مغرب اگر مذہب کو مردہ شے یا کھوکھلی چیز سمجھتا ہے تو غلط نہیں سمجھتا۔ بعض لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہندوستان میں بی جے پی کے ذریعے ہندوازم کا احیا ہورہا ہے لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ بی جے پی کا باطن سیکولر اور ظاہر مذہبی ہے۔ چناں چہ ہندوستان میں ہندوازم نقل یا Mimicry کی سطح پر بازیافت کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس احیا کا کوئی باطن نہیں۔ اس کی کوئی روح نہیں، اس کا کوئی مفہوم نہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ ہندوستان کی بڑی جماعتوں یہاں تک کہ ہندوستان کی بڑی روحانی شخصیت شری شری روی شنکر نے ہم جنس پرستی اور زنابالرضا کو دل و جان سے قبول کرلیا ہے، حالاں کہ ہندوازم کی تاریخ میں نہ کہیں ہم جنس پرستی کے لیے اجتماعی قبولیت موجود رہی ہے نہ زنابالرضا کے لیے۔ چناں چہ ہندوستان میں ہندوؤں کی بڑی تعداد بندروں کی طرح ہندوازم کے ظواہر کی نقل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ظاہر پرست ہیں مگر اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اسلام انسانوں کے باطن میں ایک مرکز پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں اسلام کے ایک بڑے ادارے یا رکن یعنی جہاد کو اپنی روح کے ساتھ زندہ ہوتے دیکھا ہے۔
عزیز علی داد کا یہ خیال بھی درست نہیں کہ عمران خان ایک ہی سانس میں ریاست مدینہ، اسکینڈے نیویاکی فلاحی ریاستوں اور چین کے معاشی تجربے کا ذکر کرتے ہیں تو اس لیے کہ اسلامی روایت بیچاری اور غریب ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ عزیز علی داد جسے ہماری روایت کی غربت سمجھتے ہیں وہ عمران خان کی شخصی، جماعتی اور گروہی غربت ہے۔ اسلامی روایت آپ اپنے لیے کافی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی روایت کا نہ علم رکھتے ہیں اور نہ اپنی روایت کو اس کی روح کے ساتھ بسر کرنے پر آمادہ ہیں۔ لیکن چوں کہ مسلمانوں کی پوری روایت عقیدے اور ایمان کی سطح پر زندہ ہے اس لیے فرد اور اجتماع دونوں کی سطح پر اس کی بازیافت کا امکان ہمیشہ موجود تھا۔ آج بھی موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ البتہ عزیز علی داد کا یہ خیال درست ہے کہ کثیر القومی سرمائے نے ہمارے داخل اور خارج پر قبضہ کرلیا ہے اور سرمائے کی عالمگیریت سماجی ڈھانچوں، ہمارے تصور زندگی اور علم کے مرتبے یا Status کو بدل رہی ہے۔ یہ ایک ہولناک صورتِ حال ہے مگر اس کا تصور عام نہیں۔ یہاں تک کہ مسلم معاشرے بھی اس حوالے سے نیند میں چلنے والوں کا منظر پیش کررہے ہیں حالاں کہ رسول اکرمؐ فرماچکے ہیں کہ ہر اُمت کا فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ بدقسمتی سے پوری امت مسلمہ مال کے فتنے میں گرفتار ہے۔ امت کا ایک چھوٹا سا حصہ وہ ہے جس کے پاس مال کی فراوانی ہے اور اس کے لیے مال کی فراوانی فتنہ بنی ہوئی ہے۔ امت کا دوسرا بہت ہی بڑا طبقہ وہ ہے جس کے پاس مال کی قلت ہے اور اس کے لیے مال کی قلت فتنہ بنی ہوئی ہے۔ جن لوگوں کے پاس بہت مال ہے وہ مال میں اضافے کے لیے مرے جارہے ہیں۔ جن کے پاس مال کی قلت ہے وہ کسی نہ کسی طرح امیر بننے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ رہا علم تو علم کو رسول اکرمؐ نے انبیا کی میراث قرار دیا ہے مگر آج مسلم معاشروں میں علم کے طالبوں کا کال پڑا ہوا ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا، تو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں