نواز شریف کی رہائی، پس پردہ”ڈیل یا ڈھیل”؟۔

ایک بار پھر قوم پر یہ تلخ حقیقت آشکار ہوگئی کہ پاکستان کی سیاست کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ، شریف خاندان، ملک کا پورا نظامِ انصاف، عمران خان اور ان کی جماعت، ذرائع ابلاغ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ گزشتہ قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ اپنے طاقتور لوگوںکو اُن کے جرائم کی سزا سے محفوظ رکھتی تھیں اور اپنے معاشرے کے کمزور لوگوں پر سزائیں مسلط کرتی تھیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے کہا ہے کہ معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں مگر انصاف کے بغیر نہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوجی اور سول اشرافیہ کے لیے ان باتوں کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ ان کے لیے ان کے مفادات ہی ان کا مذہب ہیں۔ ان کی فکری گمراہیاں ہی ان کا الہام ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ انصاف کرو کیوں کہ انصاف ’’تقو ےٰ‘‘ کے قریب ہے۔ مگر پاکستان کے حکمرانوں کے نزدیک انصاف وہ ہے جو ’’بٹوے‘‘ اور ’’ڈنڈے‘‘ کے قریب ہے۔
ان تمام حقائق کا تازہ ترین مظہر میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی رہائی ہے۔ اس رہائی نے معاشرے میں عدل، انصاف، قانون، حُسن، خیر، صداقت، اخلاق، کردار غرض یہ کہ ہر اُس قدر کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے جس سے معاشرہ، معاشرہ بنتا ہے۔ لوگ قانون شکنی دیکھتے ہیں تو اسے جنگل کا قانون قرار دیتے ہیں، لیکن پاکستان کے حکمران طبقے نے جنگل کے قانون کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستانی معاشرہ جنگل کے قانون کے نہیں، جرنیلوں اور اُن کے باج گزار سیاست دانوں کے قانون کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ مگر ان باتوں کا مفہوم کیا ہے؟
تاریخ میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ کسی ایک واقعے، کسی ایک حادثے اور کسی ایک سانحے کی وجہ سے حکمران طبقات کا ’’اجتماعی باطن‘‘ ایک ’’اشتہار‘‘ بن کر سامنے آجاتا ہے۔ ’’شریفوں‘‘ کی رہائی ایک ایسا ہی سانحہ ہے۔
اس سانحے کے حوالے سے سب سے پہلے ذرائع ابلاغ میں موجود اسٹیبلشمنٹ کے ترجمانوں کا حال سامنے آیا۔ ان میں سے کوئی حیران تھا، کوئی پریشان تھا، کسی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، کوئی ہکلا رہا تھا، کوئی تتلا رہا تھا، کوئی گفتگو کو مربوط نہیں کر پارہا تھا۔ اس کی وجہ ظاہر تھی۔ ان میں سے کسی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ انصاف کے گلے پر چھری چلائی جانے والی ہے، عدل کے منہ پر تھوکا جانے والا ہے، قانون کی پگ زور والوں کے پائوں تلے آکر دھجیاں ہونے والی ہے۔ چنانچہ انہوں نے سارا غصہ نیب کے وکیلِ استغاثہ پر نکالا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے اپنا مقدمہ ٹھیک طرح پیش کرنے میں ناکام رہے۔ وہ شریف خاندان کے جرائم کے سلسلے میں ٹھوس شہادتوں کو سامنے نہ لاسکے۔ چنانچہ نیب کے کان کھینچنے کی ضرورت ہے۔ فرض کیجیے کہ استغاثہ نے واقعتا وہی کیا جو ذرائع ابلاغ میں موجود اسٹیبلشمنٹ کے ترجمانوں نے کہا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا استغاثہ نے ازخود ایسا کیا، یا اسے ’’ہدایت‘‘ ہی یہ تھی؟ ظاہر ہے اصل مسئلہ ’’ہدایت‘‘ ہی ہے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان اپنے “Bosses” کی طرف انگلی اٹھائیں تو کیسے؟
عمران خان کے نفسِ امّارہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے عمران خان اور ان کی پارٹی کے باطن کو الم نشرح کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ کوئی ڈھیل دی گئی ہے۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالتی تو حکومت ان تینوں کو دنیا میں کہاں کہاں تلاش کرتی پھرتی؟ فواد چودھری کی یہ بات بالکل درست ہے، مگر یہی بات ہے جس نے ڈیل اور ڈھیل سے متعلق فواد چودھری کے دعوے کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔ اس کی دلیل حاضر ہے۔ روزنامہ ڈان کراچی کی خبر کے مطابق ’’پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ 21 اگست 2018ء کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا فیصلہ 19 ستمبر 2018ء کو کیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ فواد چودھری کی ’’ڈیل اور ڈھیل‘‘ کی اطلاع عمران خان اور ان کی حکومت کے پاس ایک ماہ پہلے سے موجود تھی اسی لیے انہوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر شریفوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے۔ بدقسمتی سے یہ ’’نیک کام‘‘ بھی انہوں نے خود نہیں کیا ہوگا بلکہ انہیں جو ’’حکم‘‘ دیا گیا ہوگا وہی انہوں نے کرڈالا ہوگا۔ عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اگر کرکٹر نہ ہوتے تو آج ریٹائرڈ فوجی ہوتے۔ عمران خان کے اس بیان میں ایک ’’ملال‘‘ ہے۔ عمران خان کو کوئی بتائے کہ انہیں ملول ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہیں بہت سے سمجھ دار لوگ اب بھی ریٹائرڈ فوجی ہی سمجھتے ہیں۔ اتفاق سے حالات بھی یہی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جیسے کہ ڈیل اور ڈھیل سے متعلق بیان اور ای سی ایل میں شریفوں کے نام ڈالنے کا باہمی تعلق۔
میاں نوازشریف نے رہائی کے بعد فرمایا کہ مجھے یقین تھا کہ میں بے گناہ ہوں اور میرا ضمیر مطمئن ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ حق و انصاف کا ساتھ دیتا ہے اور وہ مجھے انصاف دے گا۔ (روزنامہ جنگ کراچی۔ 20 ستمبر 2018ء)
شریف خاندان کا تصورِ ذات یہ ہے کہ مریم نواز نے اپنی ایک تقریر میں میاں نوازشریف کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے Compare کیا ہے اور خود کو حضرت فاطمہؓ سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ میاں نوازشریف کو اگر رہائی کے بعد بہت زور سے خدا یاد آیا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ہمیں ان کا بیان پڑھ کر اپنی غزل کا ایک شعر یاد آگیا:

کھڑی ہوئی ہے مصلّے پہ با وضو ہو کر
برے ہوں دن تو عبادت گزار ہے دنیا

لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ جب میاں صاحب کو اپنی بے گناہی کا یقین بھی ہے اور انہیں احساس ہورہا ہے کہ خدا ضرور اُن کے ساتھ انصاف کرے گا تو پھر رہائی کے بعد میاں نوازشریف اور مریم نواز ماضی کی طرح ’’خلائی مخلوق‘‘ اور اس کی ’’آلہ کار عدلیہ‘‘ پر گرجے برسے کیوں نہیں؟ وہ تو اسلام آباد سے لاہور تک سڑک پر مارچ کرنے کے ’’عادی‘‘ ہیں، مگر اڈیالہ جیل سے رہا ہوکر وہ جلوس کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور کیوں نہیں گئے اور انہوں نے خاموشی کے ساتھ طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر کیوں کیا؟ کیا میاں نوازشریف کا شیر بکری بن گیا ہے یا اس نے داڑھی مونچھیں کٹوا کر کلین شیو ہونا پسند کرلیا ہے؟ میاں صاحب کو گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے شکایت تھی کہ عدلیہ ان کے نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے، مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے معلوم ہوا کہ عدلیہ میاں نوازشریف یعنی انصاف کے ساتھ ہے۔ چنانچہ رہائی کے بعد میاں صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ حریفوں کو ماضی کی طرح للکارتے اور قوم کو بتاتے کہ دیکھو میرا کہا سچ ہوگیا ہے۔ مگر میاں صاحب اور ان کی شعلہ بیان بیٹی دونوں ہی خاموشی کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور چلے گئے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ جی نہیں۔ آیئے اس سلسلے میں دو سیاسی تجزیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
دنیا نیوز کے کامران خان اور روزنامہ دنیا کے سلمان غنی، میاں صاحب کے لیے کلماتِ خیر کہتے رہتے ہیں، بلکہ بسا اوقات تو وہ میاں صاحب کے صحافتی وکیل کا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے شریفوں کی رہائی کے بعد کیا فرمایا۔ کامران خان نے لکھا:
’’نوازشریف یقینا حزبِ اختلاف کی اہم سیاسی شخصیت رہیں گے، مگر توقع ہے کہ اس سے پہلے نوازشریف کی جو جارحانہ سیاست رہی ہے شاید وہ اس انداز سے حزبِ اختلاف کے رہنما کا کردار ادا نہ کرسکیں۔ ہم انہیں متحرک دیکھیں گے چاہے ہم جارح سیاست دان کی حیثیت سے انہیں نہ دیکھیں۔‘‘ (روزنامہ دنیا کراچی۔ 20 ستمبر 2018ء)
اب سلمان غنی کا تجزیہ بھی ملاحظہ کرلیجیے، لکھتے ہیں:
’’سزا کی معطلی کا حقیقی اور سیاسی پیغام یہی ہے کہ مایوس ن لیگ کو ریلیف ملا ہے، ان کی پارٹی کو تقویت حاصل ہوگی، لیکن اس جیت اور خوشی کو ہضم کرنا ضروری ہوگا اور غالباً یہی شریف قیادت کا اصل امتحان ہوگا۔ جہاں تک رہائی کے اس عمل میں شہبازشریف کے کردار کا تعلق ہے تو فیصلہ تو عدالتی ہے لیکن شہبازشریف کی سرگرمیاں، اُن کا وقت سے پہلے عدالت میں پہنچنا اور اُن کے چہرے کا اعتماد یہ ظاہر کررہا تھاکہ اب کورٹ سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے، اور بالآخر وہ اپنے بڑے بھائی نوازشریف کو جاتی امراء لے آئے ہیں، اس میں اُن کے کریڈٹ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیوںکہ وہ ہمیشہ عوامی سطح پر ایک شعر پڑھتے نظر آتے رہے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ رستہ یہیں سے نکلے گا۔ تو ان پر اس سوال کا جواب واجب ہوگا کہ وہ بتائیں کہ رستہ کہاں سے نکلا اور کیا رہائی کا یہ عمل عارضی ہے یا مستقل؟ اس کا جواب صرف وہی بتانے کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ (روزنامہ دنیا کراچی۔ 20 ستمبر 2018ء)
ان دونوں تجزیوں نے، جو یقینا ’’اطلاعات‘‘ کی بنیاد پر لکھے گئے ہیں، کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ کامران خان کو آخر ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میاں نوازشریف حزبِ اختلاف کے اہم رہنما تو رہیں گے مگر وہ شاید ’’جارحانہ سیاست‘‘ نہیں کرسکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ’’پسِ پردہ ڈیل‘‘ نہیں ہوئی ہے اور کوئی ’’ڈھیل‘‘ نہیں دی گئی ہے تو میاں صاحب کیوں جارحانہ سیاست سے اجتناب کریں گے؟ اب تو ملک کی ایک اعلیٰ عدالت نے ان کا ساتھ بھی دے دیا ہے۔ سلمان غنی صاحب فرما رہے ہیں کہ میاں صاحب اور ان کی پارٹی کو جو ’’جیت‘‘ اور جو ’’خوشی‘‘ ملی ہے اسے ’’ہضم‘‘ کرنا ضروری ہوگا اور اسے ہضم کرنا ہی شریف خاندان کا اصل امتحان ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب میاں صاحب اپنے دعوے کے مطابق بے گناہ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ خدا نے ان کے ساتھ انصاف کرنا شروع کردیا ہے، اور احسن اقبال بھی کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ None PCO انصاف کی ایک مثال ہے تو آخر شریف خاندان کے لیے اپنی رہائی اور خود کو ملنے والے ’’ریلیف‘‘ کو ’’ہضم‘‘ کرنا کیوں ضروری ہوگا؟ اور ہضم کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ شریف خاندان کا امتحان کیوں ہوگا؟ سلمان غنی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ شہبازشریف فیصلے کے دن اسلام آباد ہائی کورٹ کے کورٹ روم میں وقت سے پہلے بھی پہنچے اور ان کے چہرے کے اعتماد سے یہ بھی ظاہر ہورہا تھا کہ وہ خالی ہاتھ نہیں جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہبازشریف کو معلوم تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو ’’معزز جج صاحبان‘‘ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ سلمان غنی نے یہ بھی لکھا ہے کہ شہبازشریف عوامی اجتماعات میں ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ:
مجھے یقین ہے رستہ یہیں سے نکلے گا
یہ مصرع کوٹ کرکے سلمان غنی نے کہا ہے کہ اب شہبازشریف کا فرض ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ رستہ کہاں سے نکلا ہے؟ قوم صرف شہبازشریف سے نہیں میاں نوازشریف، مریم نواز، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی پوچھ رہی ہے کہ قانون و انصاف پر تھوک دینے کا راستہ اِس بار کہاں سے نکلا ہے؟ امریکہ سے؟ یورپ سے؟ سعودی عرب سے؟ سعودی عرب کی ممکنہ امداد سے؟ ترکی سے؟ میاں نوازشریف کی پسندیدہ اس پنجابی قوم پرستی سے جسے میاں صاحب کے صحافتی مہارتھی حذیفہ رحمن اور سعیداظہر اپنے کالموں میں پیش کررہے تھے۔ ممکن ہے ’’رستہ‘‘ کئی محرکات کی یکجائی سے نکلا ہو۔ بہرحال حقیقت جو بھی ہو، قوم کے علم میں آنی چاہیے۔ آپ نے دیکھا پاکستان کی سیاست کے حمام میں کون کون ننگا ہے؟
مذکورہ بالا سطور 21 ستمبر 2018ء کے روز تحریر کی گئی تھیں۔ 23 ستمبر 2018ء کے دن میاں نوازشریف کے ترجمان اخبار روزنامہ جنگ کے صفحہ اوّل پر نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا ایک چشم کشا بیان شائع ہوا ہے۔ بیان یہ ہے:
’’مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ میڈیا کے بعض حصوں میں پارٹی قائد نوازشریف کی سیاسی ملاقاتوں سے متعلق آنے والی اطلاعات حقائق پر مبنی نہیں ۔ میڈیا کو جاری بیان میں مریم اورنگ زیب نے نوازشریف کی سیاسی ملاقاتوں کے حوالے سے خبروں کی ’’سختی سے تردید‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قائد اپنی اہلیہ کے انتقال کے باعث کسی سے نہیں مل رہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ جب کوئی ڈیل ہوئی اور نہ ڈھیل ملی تو نوازشریف کی ’’انقلابی ترجمان‘‘ میاں صاحب کی سیاسی ملاقاتوں کی سختی سے تردید پر کیوں مجبور ہیں؟ خاص طور پر اس صورت میں جب کہ میاں نوازشریف کے بقول سزا کی معطلی اور ان کی رہائی سے ان کی ’’بے گناہی‘‘ ثابت ہوچکی ہے۔
میاں شہبازشریف ظاہر ہے کہ میاں نوازشریف کے بھائی اور شریف خاندان کے ایک اہم رکن ہیں۔ میاں صاحب کو اپنی رہائی کے حوالے سے خدا یاد آیا تو شہبازشریف کو قرآن پاک کی ایک آیت یاد آگئی۔ روزنامہ دنیا کے مطابق شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر قرآن مجید کی آیت کا یہ ترجمہ Share کیا:
’’حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔‘‘ (روزنامہ دنیا، کراچی۔ 20 ستمبر 2018ء)
لیجیے شہبازشریف نے ڈیل اور ڈھیل کے شرم ناک، بے ہودہ، لچر، غلیظ اور ابلیسی تماشے کو حق و باطل کی کشمکش سے ملا دیا اور شریف خاندان کو ’’حق‘‘ اور نہ جانے کسے ’’باطل‘‘ قرار دے ڈالا۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ قرآن مجید اور حق و باطل کی کشمکش کی کھلی توہین اور تذلیل ہے۔ مگر بدقسمتی سے شہبازشریف ہی نہیں، پورا شریف خاندان قرآن کی توہین اور تذلیل کا عادی ہے۔ اس کی ایک مثال چودھری شجاعت حسین نے اپنی خودنوشت ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں پیش کی ہے۔ ان کے بقول چودھری برادران اور شریف خاندان میں شراکتِ اقتدار کے حوالے سے معاہدہ ہوا تو شہبازشریف قرآن مجید کا نسخہ اٹھا لائے اور قرآن کو گواہ بناکر کہا کہ شریف خاندان چودھریوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گا۔ مگر چودھری شجاعت کے بقول بعدازاں شریف خاندان اپنے وعدوں سے پھر گیا۔ بہرحال شہبازشریف سے یہاں پوچھنا یہ ہے کہ میاں نوازشریف یا شریف خاندان تو حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ باطل کون ہے جو حق کے آنے سے مٹ گیا؟ عمران خان؟ جنرل باجوہ؟ فوج؟ سپریم کورٹ؟ غور کیا جائے تو ان میں سے ہر کوئی ’’شریفوں‘‘ کی رہائی کے باوجود اپنی جگہ موجود ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ شہبازشریف نے باطل کے مٹ جانے کا جو دعویٰ کیا ہے وہ بھی جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر شریف خاندان کتنا جھوٹ بولے گا؟
اصول ہے ’’جیسی روح ویسے فرشتے‘‘۔ جیسا شریف خاندان ویسے اس کے حامی۔ ’’شریفوں‘‘ کے حامیوں میں سے ایک الطاف حسن قریشی صاحب ہیں۔ انہوں نے ’’شریفوں‘‘ کی ’’رہائی‘‘ کے بعد 21 ستمبر 2018ء کے جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں شریفوں کی رہائی کو جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی فتح قرار دیا ہے۔ کوئی بھی معقول شخص یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ عدالت کے کام سے جمہوریت کا کیا تعلق؟ جمہوریت، جمہوریت ہے اور عدالت، عدالت۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرتی ہے عدل کے مطابق کرتی ہے، اکثریت اور اقلیت کے مطابق نہیں۔ چنانچہ کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے سلسلے میں جمہوریت کا ذکر کرنا جمہوریت، عدل اور عدلیہ تینوں پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ’’شریفوں‘‘ کی رہائی کو ’’آزاد عدلیہ‘‘ کی فتح کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کے حامی جس عدلیہ کو گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے گالیاں دے رہے تھے اور ’’غلام‘‘ باور کرا رہے تھے، وہ اچانک ’’آزاد‘‘ کیسے ہوگئی؟ ڈارون کا اصولِ ارتقا تسلیم کہ انسان بندر کی اولاد ہے، مگر ڈارون کے مطابق اس ارتقا میں لاکھوں سال لگ گئے ہیں۔ چونکہ ’’شریفوں‘‘ کے مطابق عدلیہ دو سال سے ’’غلام‘‘ تھی، جانب دار تھی، اس لیے عدلیہ کو ’’آزاد‘‘ اور ’’غیر جانب دار‘‘ بننے کے لیے دس پندرہ سال یا کم از کم دس پندرہ ماہ تو درکار تھے، مگر شریفوں اور خود الطاف حسن کا خیال یہ ہے کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے کھل جا سم سم کی طرح ’’آزاد ہو جا عدلیہ‘‘ کہہ دینا کافی تھا۔ شریفوں نے دل میں ’’آزاد ہو جا عدلیہ‘‘ کہا اور عدلیہ ایک لمحے میں ’’آزاد‘‘ ہوگئی۔ واہ کیا علم پروری ہے؟ کیا دانش وری ہے؟ کیا صحافت ہے؟ ڈیل اور ڈھیل جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی فتح ہیں؟
شریفوں کے ایک صحافتی وکیل رئوف طاہر بھی ہیں۔ انہوں نے 21 ستمبر 2018ء کے روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے کالم میں فرمایا ’’اگر کیس ہی میں کچھ نہ ہو تو سزا معطل اور شریف رہا ہی ہوں گے‘‘۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ڈیل اور ڈھیل کتنی چلے گی، لیکن ایک بات طے ہے کہ شریف خاندان اسٹیبلشمنٹ کے منہ کو آیا تو کیس میں اچانک سب ہی کچھ پیدا ہوجائے گا اور خود رئوف طاہر بھی کسی نہ کسی دن اس کی گواہی دینے پر تیار ہوجائیں گے۔ لیکن یہ اس مسئلے کا محض ایک پہلو ہے۔ اس مسئلے کا اصل پہلو یہ ہے کہ شریف خاندان کے جرائم اظہر من الشمس ہیں مگر اس کے پرستار ڈیل اور ڈھیل کے شرمناک فعل کو بھی شریفوں کی ’’بے گناہی‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمیں یاد ہے میاں نوازشریف جنرل پرویز کے ساتھ ’’ڈیل‘‘ اور ’’ڈھیل‘‘ تخلیق کرکے اس کے سائے میں سعودی عرب فرار ہوگئے۔ معروف کالم نگار عطا الحق قاسمی نے اپنے کالم میں ایک خاتون کے حوالے سے لکھا کہ مدینے والے نے شریفوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ اکبر۔ یہ کالم ہمارے پاس موجود ہے اور ان شاء اللہ بہ وقتِ ضرورت کام آسکتا ہے۔
معروف صحافی اور کالم نگار رئوف کلاسرا نے شریفوں کو مہیا کی گئی ڈیل اور ڈھیل کو ایک اور تناظر میں دیکھا ہے۔ انہوں نے 21 ستمبر 2018ء کے روزنامہ دنیا میں ’’سوامی بنام نوازشریف‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا ہے:
’’فقیرکبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ فقیر کو ہمیشہ خیرات ملتی ہے۔ وہ خیرات لے کر اپنے پیچھے اپنے لیے نفرت چھوڑ جاتا ہے۔ چلیں نفرت نہ سہی لیکن یہ خیال ضرور پیچھے چھوڑ جاتا ہے کہ یہ کم تر انسان ہے۔ ہوسکتا ہے فقیر بھیک تو لے جائے لیکن اس بھیک سے وہ کبھی لطف نہیں اٹھا سکتا۔‘‘
رئوف کلاسرا کے کالم کے اس اقتباس کا مفہوم عیاں ہے۔ رئوف کلاسرا انتہائی باخبر صحافیوں میں سے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف ڈیل اور ڈھیل کے تحت رہا ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں میاں صاحب ’’فقیر‘‘ ہیں اور انہیں جو کچھ ملا ہے وہ ’’بھیک‘‘ ہے۔ مگر میاں نوازشریف اس بھیک میں خدا اور اس کے انصاف کو گھسیٹ لائے ہیں۔ میاں شہبازشریف کو بھیک کے حوالے سے قرآن مجید اور حق و باطل کی کشمکش یاد آگئی ہے اور اُن کا خیال ہے کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کو بھیک جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی فتح نظر آرہی ہے۔ رئوف طاہر کا بھیک کے حوالے سے کہنا ہے کہ مقدمے میں کچھ نہیں تھا تو رہائی کیوں نہ ملتی؟ مزے کی بات یہ ہے کہ رئوف کلاسرا کو یہ تو نظر آگیا کہ میاں نوازشریف فقیر یعنی گداگر ہیں اور انہیں ملنے والی ڈیل اور ڈھیل ’’بھیک‘‘ کے سوا کچھ نہیں، مگر انہیں یہ ہولناک حقیقت نظر نہیں آرہی کہ بھیک لینے والوں ہی نے نہیں، بھیک دینے والوں نے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے اساسی تصورِ انصاف کو بھیک میں ڈھال کر ذلیل کردیا ہے، اور انہوں نے ملک کے ہر ادارے سے کروڑوں پاکستانیوں کے اعتبار کو ختم کردیا ہے۔ کروڑوں لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جرم کمزور اور بے وسیلہ لوگوں کا جرم ہے۔ جرم ’’شریف خاندان‘‘ کرے تو کبھی دس سالہ معاہدہ ہوسکتا ہے اور شریف خاندان کو اچانک سعودی عرب فرار کراکے اسلام کے تصورِ عدل پر تھوکا جاسکتا ہے، کبھی شریف خاندان کے ساتھ ڈیل اور ڈھیل ہوسکتی ہے اور شریفوں کو اچانک جیل سے رہا کیا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلے کے تین بنیادی فریق ہیں: انصاف کی بھیک ’’دینے والے‘‘۔ انصاف کی بھیک ’’دلانے والے‘‘، اور انصاف کی بھیک ’’لینے والے‘‘۔ یہ تینوں خدا کے مجرم ہیں، اللہ کی کتاب کے مجرم ہیں، اللہ کے رسولؐ کے مجرم ہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مجرم ہیں، پاکستانی قوم کے مجرم ہیں۔ قرآن کہتا ہے: فتنہ قتل سے زیادہ اشد ہے۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں انصاف اور اس کی تقدیس مہیا کرنے والے اداروں کو بے توقیر کرنا معاشرے میں ایک بہت ہی بڑا فتنہ پیدا کرنا ہے۔ ایسا فتنہ جو ریاست اور معاشرے دونوں کو برباد کرسکتا ہے۔ مغربی پاکستان کے ظالم حکمران طبقے نے بنگالیوں کے ساتھ ناانصافی کی، انہیں اقتدار، مالی وسائل، اختیارات اورمادی حیثیت سے محروم کیا، اور ہم آدھا پاکستان کھو بیٹھے۔ کیا پاکستان کا حکمران طبقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز دے کر بچے کھچے پاکستان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا ہے؟ ہمیں یونیورسٹی کے زمانے کی اپنی ایک غزل کے دو شعر یاد آگئے:

ہے ندامت زندگی یہ گفتگو
مر چکا ہے جب سوالِ آبرو
تبصرہ حکام پر کیسے کروں
مجھ کو فرصت ہی نہیں ہے آخ تُھو

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں