میں اور میرا مطالعہ

آئیے اب کچھ شعر و ادب اور ادبی شخصیات کا ذکر ہوجائے۔
میری شخصیت پر سب سے زیادہ اثر میری خالہ رئیسہ خاتون مرحومہ، چھوٹے ماموں سید انیس حسن مرحوم اور بڑے ماموں سید نفیس حسن مرحوم کا ہے۔ مجھے اپنے مذہب، اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اُمتِ مسلمہ، پاکستان اور انسانوں سے جتنی محبت ہے وہ انہی کی وجہ سے ہے۔ ان تمام دائروں میں یہی لوگ میری Inspiration ہیں۔ شعر و ادب میں میری ایک Inspiration سلیم احمد ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم سلیم احمد کی تحریروں کا ذکر کریں، اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ متاثر ہونے یا کسی سے Inspire ہونے کا مطلب کیا ہے؟ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ Inspiration کا مطلب کسی کی نقل یا تقلید ہے۔ ایسا نہیں ہے، Inspiration کا مطلب ہے کسی کے وفورِ تخلیق کو پہچاننا، اسے سمجھنا، اسے اپنے اندر جذب کرنا، اس سے لطف اندوز ہونا اور اس سے اپنے وفورِ تخلیق کو بیدار اور توانا کرنا۔
میں سلیم احمد سے آگاہ نہیں تھا، لیکن ہمارے یہاں روزنامہ جسارت آتا تھا، سلیم احمد جسارت میں ’’روبرو‘‘ کے عنوان کے تحت ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے۔ میں نے نویں جماعت میں اُن کے کالم پڑھنے شروع کیے تو مجھے احساس ہوا کہ ان کے کالموں کے عنوانات بہت مختلف ہیں، ان کی فکری سطح دوسرے کالم نگاروں کے کالموں کی سطح سے زیادہ بلند ہے، اور ان کا اسلوب منفرد ہے۔ چناں چہ میں سلیم احمد کے کالموں کا قاری بن گیا۔ سلیم احمد کے کالموں کا یہ مطالعہ مجھے ان کی تنقید اور شاعری تک لے گیا۔ سلیم احمد کی سب سے اچھی تنقیدی کتاب ’’نئی نظم پورا آدمی‘‘ ہے۔ یوں تو اس کتاب کے تمام ہی مضامین غیر معمولی ہیں مگر کتاب کا پہلا مضمون یعنی ’’نئی نظم پورا آدمی‘‘ معرکہ آراء ہے۔ اردو تنقید میں عسکری صاحب کے چند مضامین کو چھوڑ کر اس سطح کا تنقیدی مضمون کہیں موجود نہیں۔ اس مضمون کا لب لباب یہ ہے کہ انسان ماں کے پیٹ سے تو پورا ہی پیدا ہوتا ہے مگر پھر اپنے وجود کے کسی جزو میں منحصر ہوکر اس کو کُل بنا لیتا ہے اور اس طرح ادھورا ہوجاتا ہے۔ اس ادھورے آدمی کو سلیم احمد کسری آدمی کہتے ہیں۔ انہوں نے اردو کے بڑے نظم نگاروں کے یہاں اس کسری آدمی کو تلاش کرکے دکھایا ہے اور پورے آدمی کی تہذیبی معنویت پر گفتگو کی ہے۔ سلیم احمد نے غالب، اقبال اور محمد حسن عسکری پر بھی الگ الگ کتابیں لکھی ہیں۔ ان کتابوں میں تینوں شخصیات کے ایسے پہلو اُجاگر ہوتے ہیں جو اردو تنقید میں کہیں اور دستیاب نہیں۔
غالب کے بارے میں سلیم احمد کا خیال یہ ہے کہ ان کا بنیادی مسئلہ انا ہے اور انہوں نے اپنی بڑی انا سے بڑا آرٹ پیدا کرکے دکھایا ہے۔ اقبال کے بارے میں سلیم احمد کی دریافت یہ ہے کہ ان کا مسئلہ نہ خودی ہے نہ مومن، بلکہ ان کا مسئلہ موت ہے۔ سلیم احمد کے نزدیک محمد حسن عسکری کی بنیادی کشمکش یہ ہے کہ وہ انسان ہیں اور انسان سے آدمی بننا چاہتے ہیں۔ آپ سلیم احمد سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان نکات پر انہوں نے ایسی گفتگو کی ہے جو عام قاری کو نہیں، بہت پڑھے لکھے قاری کو بھی مبہوت کرسکتی ہے۔
جدید اردو شاعروں میں بڑی شاعری کا امکان دو شاعروں میں تھا۔ ایک عزیز حامد مدنی اور دوسرے سلیم احمد۔ سلیم احمد اپنی شاعری کے بارے میں ایک طرح کی معذرت خواہی کا شکار رہے، لیکن ان کی شاعری ان کی تنقید سے زیادہ تخلیقی اور گہری ہے۔ سلیم احمد کا پہلا مجموعہ ’’بیاض‘‘ ہے۔ ’’بیاض‘‘ جدید غزل کی شاعری میں سب سے بڑے شاعرانہ تجربے کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کہ سلیم احمد نے اس مجموعے میں اردو غزل کی کلاسیکیت کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا کہ کوئی دوسرا جدید شاعر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ سلیم احمد کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’اکائی‘‘ ہے۔ اس مجموعے کی غزلیں زیادہ جاندار نہیں ہیں مگر اس مجموعے میں شامل ثلاثی اور قطعات غیر معمولی ہیں۔ سلیم احمد کا تیسرا مجموعہ ’’چراغِ نیم شب‘‘ جدید اردو غزل کے اہم ترین مجموعوں میں سے ایک ہے۔ ’’مشرق‘‘ سلیم احمد کا چوتھا اور آخری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی نظم ’’مشرق ہار گیا‘‘ اردو نظم کی تاریخ میں اپنی طرح کی واحد نظم ہے۔
سلیم احمد، محمد حسن عسکری کے شاگرد تھے، چناں چہ سلیم احمد کی کتابوں سے بات عسکری صاحب کی کتابوں تک پہنچی۔ عسکری صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی ہر کتاب قاری کو یہ بتاتی ہے کہ عسکری صاحب اردو کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ انہوں نے جن موضوعات پر لکھا اردو تنقید آج بھی ان کا تصور نہیں کرسکتی۔ عسکری صاحب کا مطالعہ قاموسی یا Encyclopedic تھا، لیکن عسکری صاحب کی تفہیم ایسی ہے کہ ایسی تفہیم اردو تنقید میں کہیں اور موجود نہیں۔ عسکری صاحب نے کسی ایک موضوع پر نہیں، جس موضوع پر لکھا قلم توڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری صاحب نے جتنے اہم لکھنے والوں کو متاثر کیا اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ مولانا مودودی، عسکری اور سلیم احمد میں مَیں نے دو چیزیں مشترک پائیں۔ ایک یہ کہ تینوں نے اپنے علم کے بجائے اپنی تفہیم لکھی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ جو شخص توجہ سے مولانا مودودی، عسکری صاحب اور سلیم احمد کو پڑھ لیتا ہے، وہ خود سوچنے سمجھنے اور لکھنے کی اہلیت کا حامل ہوجاتا ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں