سد اور امام غزالی ؒ کا بیان ۔ آخری قسط

حسد کے سلسلے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ حسد کے اسباب کیا ہیں؟ امام غزالیؒ کے مطابق حسد کے سات اسباب ہیں۔
(1) بغض و عداوت:۔ حسد کا یہ سبب بہت شدید ہے۔ دشمنی کی وجہ سے جو حسد کیا جاتا ہے وہ عموماً کشت و خون اور جنگ و قتال پر ختم ہوتا ہے۔ حاسد تمام عمر محسود کی نعمت کو ضائع کرنے کی تدبیروں میں صرف کردیتا ہے۔ وہ چغلی، اہانت اور غیبت جیسی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ حاسد کے دشمن پر اگر کوئی مصیبت آجاتی ہے تو وہ اسے اپنی بزرگی اور باری تعالیٰ کے یہاں اپنے درجات کی بلندی اور قربت سے تعبیر کرنے لگتا ہے۔ اگر حاسد کے دشمن کو حاسد کی خواہش کے برعکس کوئی نعمت مل جائے تو حاسد کو محسوس ہوتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوں۔
(2) تغّرز:۔ تغّرز کا مطلب یہ ہے کہ کبھی حسد اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اپنے برابر والے کی عزت اور برتری گوارا نہیں ہوتی۔ یعنی حاسد یہ نہیں چاہتا کہ اس کے برابر حیثیت رکھنے والا کسی نعمت کے حصول کے بعد اس پر اپنی بڑائی ظاہر کرے۔ مثلاً اگر کوئی برابر والا کسی منصب پر فائز ہو جاتا ہے یا مال پالیتا ہے یا علم حاصل کرلیتا ہے تو حاسد کو یہ اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ محسود کہیں اپنی نعمت پر فخر و تکبر نہ کرنے لگے۔ وہ اگرچہ خود تکبیر نہیں کرنا چاہتا لیکن اسے یہ بھی گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اس پر تکبر کرے۔ وہ اس کی برابری اور مساوات پر تو راضی ہوتا ہے مگر اس کی برتری پر رضا مند نہیں ہوتا۔
(3) کِبر:۔ کبھی حسد کا سبب یہ ہوتا ہے کہ حاسد دوسرے کو ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرا اس سے دب کر رہے۔ اس کی خدمت کرے اور ہر وقت تعمیل حکم کے لیے تیار رہے۔ اگر اسے اتفاقاً کوئی نعمت مل جائے تو حاسد کو یہ خوف ستاتا ہے کہ کہیں وہ شخص نعمت پا کر بدل نہ جائے اور اس کی مذمت نہ کرنے لگے یا اس کی برابری کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔ اب میں اس پر متکبر ہوں، پھر وہ بھی مجھ پر متکبر ہوجائے گا۔ رسول اکرمؐ سے کفار کے حسد کی یہی دو وجوہ تھیں۔ یعنی تغّرز اور تکبر۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یتیم لڑکا ہمارا سردار کیسے بن سکتا ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس کے آگے سر جھکادیں۔
(4) تعجب:۔ کسی کو بلند مرتبے یا اچھی حالت میں دیکھ کر متعجب ہونا بھی حسد کا باعث بن جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔
’’نہیں ہو تم مگر آدمی ہماری طرح‘ چناں چہ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم ایسے دو اشخاص پر ایمان لے آئیں جو ہماری طرح کے آدمی ہیں۔ (پارہ 18 رکوع3، آیت 47)
قرآن مجید میں منکرین کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’اور اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگو تو بے شک تم گھاٹے میں ہو۔ (پارہ 18، رکوع13، آیت34)
ان آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ پچھلی اُمتوں نے اپنے انبیاء کی دعوت محض اس لیے ٹھکرا دی کہ انہیں اپنے ہی جیسے انسانوں کے نبی بننے پر حیرت تھی۔ اس حیرت نے انہیں انبیاء سے حسد کرنے پر مجبور کیا۔ اور وہ خواہش کرنے لگے کہ ان کے پاس یہ عظیم نعمت باقی نہ رہے۔ وہ اس بات سے ڈرے کہ ان جیسے افراد ہی ان سے فائق نہ ہو جائیں۔ چناں چہ وہ برملا کہا کرتے تھے۔ ’’کیا اللہ تعالیٰ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا‘‘۔ (پ 15، ر11، آیت94)
قرآن مجید نے ایک اور جگہ ان کے تعجب کو ظاہر کیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔
’’ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے‘‘ (پ 19، ر 10، آیت21)
ظاہر ہے کہ یہ تو انبیاء و مرسلین کے قصے ہیں۔ اب تو لوگ بہت معمولی چیزوں پر حسد کرنے لگے ہیں۔ مثلاً کسی کی معمولی سی اور مفروضہ عزت و شہرت، چھوٹا سا مکان، حقیر سی کار۔ اللہ اکبر۔
(6) جاہ و اقتدار کی خواہش:۔ کبھی جاہ و اقتدار کی بنا پر حسد کیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی فن میں بے مثال ہو اور وہ چاہتا ہو کہ کوئی دوسرا یہ فن حاصل نہ کر پائے تا کہ میں بہ طور سکہ رائج الوقت مقبول رہوں۔ لوگ میری تعریف کریں، مجھے یکتائے زمانہ اور فرید وقت جیسے خطابات سے نوازیں۔ اس شخص کا تعریف اور مقبولیت کے سوا کوئی دوسرا مادی مقصد نہیں ہوتا۔ بس وہ طبعاً خوشامد پسند ہوتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس فن میں اس کے دستِ نگر رہیں چناں چہ کوئی دوسرا اس فن میں شدبد پیدا کرتا ہے تو اسے جلن ہوتی ہے اور اس کی شہرت سے اسے تکلیف ہوتی ہے اور وہ دل سے اس کی موت کا خواہاں ہوتا ہے۔ اور نعمت کے زوال کی تمنا کرتا ہے جس میں دوسرے شخص نے شرکت کرکے اس کی انفرادیت ختم کردی۔ مثلاً بہادری، علم، عبادت، ہنر، خوبصورتی اور دولت وغیرہ۔ علمائے یہود نے سرکار دو عالمؐ کے اتباع کا اسی لیے انکار کیا تھا کہ اگر انہوں نے اتباع کیا تو ان کا علم منسوخ ہو جائے گا اور معاشرے میں ان کی کوئی وقعت اور مقام باقی نہ رہے گا۔
(7) خباثتِ نفس:۔ نفس کی خباثت اور خیر کے سلسلے میں دل کا بخیل ہونا بھی حسد کا بڑا سبب ہے۔ آپ کو ایسے لوگ آسانی سے مل جائیں گے جنہیں نہ ریاست کی آرزو ہوگی، نہ تکبر ہوگا، نہ مال کی تمنا ہوگی، نہ کچھ مقاصد ہوں گے جن کے ضائع ہونے کا خوف ہو۔ اس کے باوجود ان کے سامنے جب کسی شخص کا حال بیان کیا جائے گا اور ان کے علم میں یہ بات آئے گی کہ وہ فلاں نعمت خداوندی سے بہرہ ور ہے تو ان کے سینے پر سانپ لوٹیں گے۔ اور جب انہیں بتایا جائے گا فلاں شخص آج کل پریشانیوں سے گزر رہا ہے، اسے مقاصد میں ناکامی ہوئی ہے یا وہ اقتصادی تنگی کا شکار ہے تو یہ سن کر ان بد باطن لوگوں کو دلی مسرت ہوگی۔ ان لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص بھی فلاح نہ پائے۔ وہ دوسروں پر باری تعالیٰ کے انعامات کی بارش دیکھ کر اس طرح مضطرب اور بے چین ہو جاتے ہیں گویا وہ انعامات ان کے خزانہ خاص سے چھین کر دیے گئے ہوں۔
امام غزالیؒ کے مطابق بعض لوگوں میں حسد کے یہ تمام یا بعض اسباب بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ان کا حسد بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔ ان کا حسد اتنا قوی ہوتا ہے کہ وہ کوشش کے باوجود اسے دل میں نہیں رکھ پاتے بلکہ کھلی دشمنی پر اُتر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حسد کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ اسباب ان لوگوں میں زیادہ ہوتے ہیں جن کے آپس میں روابط اور تعلقات ہوں۔ اور ان کی وجہ سے مجالس اور تقریبات میں اکٹھے ہوتے ہوں۔ اسی طرح اگر دو افراد کے مقاصد آپس میں ٹکراتے ہوں تو اس سے حسد پیدا ہوگا۔ چناں چہ آپ دیکھتے ہی ہوں گے کہ عالم عالم سے حسد کرتا ہے نہ کہ عابد سے۔ اور عابد عابد سے جلتا ہے نہ کہ عالم سے۔ تاجر تاجر سے حسد کرتا ہے، موچی موچی سے، بھائی بھائی سے یا چچا زاد سے غیروں کی نسبت زیادہ حسد کرتا ہے۔ عورت ساس اور نندوں کی نسبت اپنی سوتن سے زیادہ حسد کرتی ہے۔
امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں فرمایا ہے کہ حسد کا سب سے بڑا دینی نقصان یہ ہے کہ حسد کرنے والا خدا کی ناراضی مول لیتا ہے وہ ان نعمتوں پر ناپسندیدگی ظاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں تقسیم کی ہوئی ہیں۔ حاسد خدا کے اس عدل و انصاف پر انگلی اُٹھاتا ہے جو اس نے اپنی پوشیدہ حکمتوں کے ذریعے قائم کیا ہوا ہے۔ یہ ایک سنگین جرم ہے، توحید اور ایمان کی حدود میں اس سے بڑا گناہ اور کوئی نہیں۔ اس کے علاوہ حاسد حسد کرکے ایک مسلمان کا بُرا چاہتا ہے جب کہ اسے اس کی خیرخواہی کرنی چاہیے۔ اس طرح حاسد انبیاء اور اولیاء کے گروہ سے دوری اختیار
بقیہ صفحہ9پر
حسد اور امام غزالی ؒ کا بیان
کرلیتا ہے کیوں کہ انبیاء اور اولیاء کا مقصد بندگانِ خدا کی خیر خواہی ہوتا ہے۔ امام غزالیؒ نے بقول حاسد حسد کرکے شیطان اور کفار کا ساتھی بن جاتا ہے کیوں کہ شیاطین اور کفار اس کے سوا کچھ نہیں چاہتے کہ مسلمان مصیبتوں کا شکار ہوں۔ حسد کا دنیاوی نقصان یہ ہے کہ حاسد مسلسل تکلیف میں رہتا ہے، جب بھی اس شخص کو کوئی نعمت ملتی ہے جس سے حسد کیا جارہا ہے تو حاسد کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ حاسد یہ بات بھی نہیں سمجھتا کہ اس کے حسد سے محسود کی نعمتیں یا اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ضائع نہیں ہوتی۔
جہاں تک اس شخص کی بات ہے جس سے حسد کیا جارہا ہے یعنی محسود تو اس کا فائدہ بالکل واضح ہے۔ اس کے دین کا نفع یہ ہے کہ وہ حاسد کے حسد کی وجہ سے مظلوم بن گیا۔ حاسد محسود سے سخت حسد محسوس کرتا ہے تو اس کا حسد دل سے نکل کر زبان پر آجاتا ہے یا عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، اس صورت میں حاسد محسود کی برائی بیان کرتا ہے، اس کی آبرو پر اُنگلی اُٹھاتا ہے، اس کی غیبت کرتا ہے، اسے گالیاں دیتا ہے یا زدوکوب کرتا ہے تو ایسا کرتے ہوئے حاسد محسود کو تحائف پیش کررہا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی نیکیاں محسود کے حوالے کررہا ہوتا ہے۔
امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ حسد پر ابلیس بہت خوش ہوتا ہے۔ ابلیس کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں حاسد اللہ کے کسی بندے پر اللہ کی جانب سے انعامات کی بارش ہوتے دیکھ کر انعامات سے محبت نہ کرنے لگے اور اس محبت کی وجہ سے ثواب میں شریک نہ بن جائے۔ اس لیے کہ جو مسلمان کے کسی خیر سے محبت کرتا ہے وہ خیر میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ چناں چہ اس لیے اہلِ دین سے محبت کرنی چاہیے۔ ایک اعرابی نے رسول اکرمؐ سے عرض کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپؐ نے اس سے دریافت کیا کہ تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کیا میں نے نماز روزے تو بہت نہیں کیے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اکرمؐ نے فرمایا۔
’’تو اس کے ساتھ ہے جس سے محبت کرتا ہے‘‘
ایک شخص نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ پہلے زمانے میں یہ بات مشہور تھی کہ اگر تم عالم بن سکتے ہو تو تمہیں عالم بننا چاہیے، عالم نہیں بن سکتے تو معلم بن کر رہو، معلم نہیں بن سکتے تو اہل علم سے محبت کرو، ان سے محبت نہیں کرسکتے تو کم از کم ان سے نفرت نہ رکھو۔ یہ واقعہ لکھنے کے بعد امام غزالیؒ نے فرمایا ہے کہ اب دیکھو ابلیس نے تم سے کیسے حسد کیا؟ پہلے تو تمہیں خیر کی محبت کے ثواب سے محروم کردیا، پھر تمہارے دل میں بھائی کی نفرت پیدا کی اور تمہیں نفرت کے اظہار پر اُکسایا۔ یہاں تک کہ تم گناہ گار ہوئے، حاسد کے گناہ میں کیا شک ہے، ہوسکتا ہے کہ تم کسی عالم سے حسد کرو اور تمہاری خواہش ہو کہ وہ دین کے بیان میں کوئی غلطی کر بیٹھے تا کہ تم اس کی عزت اور مقبولیت کو خاک میں ملاؤ۔ یا تم چاہو کہ علم کی کوئی بات اس کی زبان سے نہ نکلے۔ وہ گونگا ہو جائے یا اتنا بیمار پڑ جائے کہ پڑھنے پڑھانے کے قابل نہ رہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہوسکتا ہے؟
اے حاسد! اگر تجھ پرنیند یا بیداری کی حالت میں تیرا حال منکشف ہو جائے تو دیکھے گا کہ تیرے ہاتھ میں تیر ہے۔ اور تیرا رُخ دشمن کی طرف ہے۔ تو نے دشمن کو ہلاک کرنے کی نیت سے تیر چھوڑا لیکن وہ دشمن تک پہنچنے کے بجائے تیری طرف لوٹا اور تیری داہنی آنکھ میں پیوست ہوگیا۔ غضب ناک ہو کر دوبارہ تیر چلایا تو وہ پلٹ کر تیری بائیں آنکھ میں گھس گیا۔ تیسری بار چلایا تو وہ سر میں آلگا اور اسے زخمی کرگیا۔ جب بھی تیر چلاتا ہے خود حاسد ہی کا کوئی عضو زخمی ہوتا ہے دشمن محفوظ رہتا ہے۔ غزالیؒ کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حاسد دشمن کے لیے جس بات کی تمنا کرتا ہے خود اس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا حسد کا کوئی علاج بھی ہے؟ امام غزالیؒ فرماتے ہیں حسد کا علمی علاج یہ ہے کہ جو کچھ حسد چاہے حاسد اس کے خلاف کرے۔ خواہ وہ بات قولی ہو یا فعلی۔ مثلاً اگر جذبہ یہ و کہ کسی کی مذمت کی جائے تو حاسد کو چاہیے کہ وہ اس شخص کی تعریف کرے۔ اگر حسد دشمن سے تکبر کرنے کا تقاضا کرے تو حاسد اپنے نفس کو محسود کے سامنے متوافع رکھے اور دشمن سے معذرت کرلے۔ غزالیؒ کے مطابق یہ کڑوی روایتیں ہیں مگر ان میں شفاء ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں