پاکستان میں مارشل لا کیوں لگتا ہے؟

پاکستان کی تاریخ اپنی اصل میں مارشل لا کی تاریخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی تاریخ کا آدھا زمانہ مارشل لا کی نذر ہوگیا اور باقی آدھا زمانہ مارشل لا کے اثرات سے نکلنے پر صرف ہوگیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مارشل لا لگتا ہی کیوں ہے؟
اس سلسلے میں جرنیلوں کے تصور ذات یا self Image کی اہمیت بنیادی ہے۔ ہمارے جرنیلوں کا تصورِ ذات یہ ہے کہ وہ ایک برتر مخلوق ہیں۔ ان کے پاس زیادہ علم ہے، زیادہ ذہانت ہے، زیادہ تجزیے کی صلاحیت ہے، زیادہ نظم و ضبط ہے، زیادہ حب الوطنی ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو مسلم دنیا میں جرنیلوں کا یہ تصورِ ذات آفاقی یا “universal” ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام مسلم ملکوں میں فوج ایک نوآبادیاتی ادارہ ہے۔ مسلم ملک آزاد ہوئے تو ان کی کوئی اپنی فوج نہیں تھی، انہیں یورپی طاقتوں کی بنائی ہوئی فوج ورثے میں ملی، اس فوج کی تعلیم و تربیت ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کے تصورات کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ اس فوج کے اہلکاروں کے ذہن میں یہ بات ہوتی تھی کہ ہم یورپی آقاؤں کی برتری کی علامت ہیں اور مسلم عوام ان کے مقابلے پر ’’غلاموں‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارے جرنیلوں کا یہ تصور ذات قیام پاکستان کے ساتھ ہی معرضِ اظہار میں آنا شروع ہوگیا تھا۔ راویانِ روایت کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد پاک فوج کے اعلیٰ اہلکاروں نے قائد اعظم کو فوجی میس میں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے سے قبل گپ شپ کا دور چلا تو ایک جرنیل نے قائد اعظم سے کہا کہ آپ نے ایک انگریز جنرل گریسی کو پاکستانی فوج کا سربراہ بنادیا حالاں کہ مقامی افسروں میں بھی لائق لوگ موجود تھے۔ چناں چہ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ جنرل گریسی کا تقرر کرنے سے قبل مقامی افسروں سے اس سلسلے میں صلاح مشورہ کرلیتے۔ روایت کے مطابق قائد اعظم نے یہ سنا تو ناراض ہوگئے۔ فرمایا کہ پاکستان میں اعلیٰ ترین سطح پر فیصلوں کا اختیار سول قیادت کے پاس ہے اور انہیں اس سلسلے میں جرنیلوں سے مشورے کی ضرورت نہیں۔ قائد اعظم نے یہ کہا اور کھانا کھائے بغیر فوجی میس سے روانہ ہوگئے۔
جرنیلوں کا یہ تصورِ ذات 1954ء میں پوری شدت کے ساتھ پسِ پردہ کلام کررہا تھا۔ چند سال پیش تر سامنے آنے والی امریکا کی خفیہ دستاویزات کے مطابق اگرچہ جنرل ایوب نے 1958ء میں مارشل لا لگایا لیکن وہ 1954ء سے امریکیوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جنرل ایوب نے 1954ء میں امریکیوں کو لکھا کہ پاکستان کی سول قیادت ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے، انہوں نے امریکیوں سے کہا کہ فوج اس صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ سول حکمرانوں کو ملک تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ بالآخر ہوا بھی یہی۔ جنرل ایوب نے 1958ء میں سیاسی عدم استحکام کو بنیاد بنا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ لیکن یہ معاملہ صرف جنرل ایوب سے متعلق نہیں۔ جنرل ضیا الحق نے 1977ء میں اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے سیاسی عدم استحکام سے ملتا جلتا جواز تخلیق کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوج اقتدار پر قبضہ نہ کرتی تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی۔ حالاں کہ ملک میں خانہ جنگی کے شروع ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہ تھا۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیا الحق کی مثالوں کو دیکھا جائے تو جرنیل ایک نجات دہندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں اور نجات دہندگی کا تصورِ ذات سے گہرا تعلق ہے۔
پاکستان میں مارشل لا کی پشت پر ہمیشہ امریکا موجود رہا ہے۔ امریکا اگرچہ جمہوریت کا چیمپئن بنتا ہے مگر اس کے لیے اپنے قومی مفادات سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں۔ امریکا کے قومی مفادات اگر نام نہاد جمہوریت پسندوں کے ذریعے حاصل ہوں تو امریکا جمہوریت پسند زندہ باد کہتا ہے، ورنہ وہ جرنیلوں کو گلے لگانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا۔ جنرل ایوب مارشل لا لگانے سے بہت پہلے امریکا سے رابطے میں تھے اور اگر امریکا ان کی حمایت نہ کرتا تو جنرل ایوب کبھی مارشل لا لگانے کی جرأت نہ کرتے۔ پاکستان میں مارشل لا اور امریکا کے تعلق کا یہ پہلو بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں مارشل لا سے ہمیشہ امریکا کے وسیع تر قومی مفادات کا تحفظ ہوا ہے۔ جنرل ایوب اگرچہ سیکولر تھے مگر وہ کمیونزم مخالف تھے، چناں چہ ان کی آمد سے پاکستان میں بائیں بازو کو دیوار سے لگانے میں مدد ملی۔ جنرل ضیا الحق کی آمد کا یہ پہلو اہم ہے کہ ان کی آمد کے ساتھ ہی سوویت یونین افغانستان میں در آیا اور اس کی مزاحمت کے لیے پاکستان میں ایک ایسے حکمران کی ضرورت تھی جس کی جڑیں مذہب میں ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کے فوراً بعد نائن الیون کا واقعہ ہوگیا اور امریکا کو پاکستان میں ایک ایسے حکمران کی ضرورت لاحق ہوئی جس کو آسانی کے ساتھ خوف زدہ بھی کیا جاسکتا ہو اور جو سیکولر اور لبرل ہو۔
پاکستان میں مارشل لا کی آمد کا ایک سبب خود سول حکمران ہیں۔ بھٹو صاحب حقیقی معنوں میں ایک مقبول عوامی رہنما تھے اور وہ 1977ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو اغوا کرایا، ان پر تشدد کیا، یہاں تک کہ انہوں نے حزب اختلاف کو دیوار سے لگانے کے لیے پچیس تیس نشستوں پر دھاندلی کی راہ بھی ہموار کی۔ چناں چہ ان کے خلاف ردعمل پیدا ہوا اور اس ردعمل نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کرلی۔ بلاشبہ بھٹو صاحب نے حزب اختلاف کے ساتھ بالآخر مذاکرات کیے مگر مذاکرات کا عمل تاخیر سے شروع ہوا اور بھٹو صاحب نے مذاکرات کو وقت گزارنے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن بھٹو صاحب کی نااہلی صرف یہیں تک محدود نہ تھی۔ بھٹو صاحب 1971ء سے 1977ء تک ملک کے حکمران (صدر۔ وزیراعظم) رہے۔ ان کی عوامی مقبولیت بے پناہ تھی، چناں چہ بھٹو صاحب چاہتے تو پیپلز پارٹی کو حقیقی معنوں میں جمہوری پارٹی بنا سکتے تھے۔ لیکن بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی میں جمہوریت کو داخل نہ ہونے دیا۔ چناں چہ جب بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو پارٹی کہیں موجود نہ تھی، بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ ان کی کرسی مضبوط ہے اور ان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو ملک بالخصوص سندھ میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ مگر پارٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے کہیں بھی کچھ نہ ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے میاں نوازشریف کو اقتدار سے برطرف کیا تو میاں صاحب کے پاس مشہور زمانہ ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ تھا۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ بھاری مینڈیٹ ان کا محافظ ہے، چناں چہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو جمہوری اور منظم جماعت بنانے کے لیے کچھ نہ کیا۔ اس صورت حال میں میاں صاحب کے خلاف اقدام چنداں دشوار نہ تھا۔ میاں صاحب کے اقتدار کا جنازہ نکلا تو پنجاب سمیت ہر جگہ سناٹے کا راج تھا۔ البتہ میاں صاحب کی برطرفی کے کچھ دن بعد کراچی میں مشاہد اللہ کی قیادت میں پندرہ بیس لوگ ریگل چوک پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ کہاں میاں صاحب کا بھاری مینڈیٹ اور کہاں پندرہ بیس لوگوں کا احتجاج۔ بلاشبہ مشاہد اللہ کو آج بھی ان کی جرأت کی داد دی جاسکتی ہے لیکن میاں صاحب نے اس تجربے کے باوجود کچھ سیکھ کر نہ دیا۔ مسلم لیگ (ن) کل بھی میاں صاحب کی باندی تھی اور آج بھی ان کی باندی ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں