عصر حاضر اور انسان کی آزادی کے امکانات

عصر حاضر مغرب کا تخلیق کردہ ہے اور مغرب آزادی کے مخصوص تصور کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ مغرب کے نزدیک آزادی نہ صرف یہ کہ سب سے بڑی قدر ہے بلکہ اس کی نوعیت آفاقی یا universal ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عہد جدید میں آزادی کا تصور ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن مغرب کا کمال یہ ہے کہ وہ دھوکے کو حقیقت اور حقیقت کو دھوکا باور کراسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان باتوں کا مفہوم کیا ہے۔
آزادی کے تصور کا سب سے بڑا امتحان یا سب سے بڑا test یہ ہے کہ اس کے دائرے میں ’’متبادل خیال‘‘ کا امکان موجود ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے مغرب کی تاریخ ہولناک ہے۔
مغرب میں روشن خیالی کی تحریک سامنے آئی تو مغربی اقدام ایک تہذیبی اور ایک تاریخی تجربے کی امین تھیں اور اصولی اعتبار سے ان کے درمیان تصادم برپا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یورپی اقوام نے بیسویں صدی کی پہلی پانچ دہائیوں میں دو عالمی جنگیں لڑیں۔ ان جنگوں نے آزادی اور انسانی وقار کی ہر اس صورت کو ملیا میٹ کردیا جس کا پرچم مغرب نے اپنے ہاتھ میں اُٹھایا ہوا تھا۔ بیسویں صدی کی ان دہائیوں میں آزادی جنگ کرنے اور قبل از وقت مرجانے کی آزادی بن کر رہ گئی۔ بدقسمتی سے ان جنگوں کی بنیاد نہ الٰہیات میں تھی، نہ تہذیب میں تھی، نہ اقدار میں تھی۔ ان جنگوں کی بنیاد صرف ’’اقتصادی مفاد‘‘ میں تھی۔ اس صورت حال نے آزادی کو ایک کھوکھلا نعرہ بنا کر رکھ دیا۔ جدید مغرب کے ایک اہم فلسفی ژان پال سارتر نے کہا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں مرنے کے لیے پھینک دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس فقرے میں سارتر صرف اپنا ذاتی ماجرا بیان نہیں کررہا تھا بلکہ وہ یورپی یا مغربی انسان کے تجربے کو زبان دے رہا تھا۔ تجزیہ کیا جائے تو اس فقرے میں انسان کی بے توقیری انتہا پر ہے اور ایسا فقرہ آزاد انسان تو کیا بدترین غلامی میں مبتلا شخص بھی نہیں کہہ سکتا۔ بشرطیکہ وہ انسان، انسان کے بنیادی اوصاف کا حامل ہو۔ سارتر کے فقرے کا مزید تجزیہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس میں ایک شدید ’’احساس جبر‘‘ پنہاں ہے۔ یہاں ہمیں اردو کی روایت کا ایک اہم شعر یاد آگیا؎
ناحق ہم مجبوروں پہ یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
سارتر نہ خدا پرست تھا نہ تقدیر پرست تھا مگر وہ اس شعر کے خالق سے زیادہ ’’جبر‘‘ کو محسوس کررہا تھا۔ آزاد دنیا کا آزاد ترین انسان اور ایسا احساس جبر؟ اہم بات یہ ہے کہ سارتر کے فقرے میں خارج کا جبر بھی موجود ہے اور داخل کا جبر بھی؟ کہنے کو جبر کا احساس مذکورہ بالا شعر میں بھی موجود ہے مگر اس شعر میں موجود جبر کا ذمے دار انسان خود نہیں ہے۔ لیکن سارتر جو جبر محسوس کررہا ہے وہ آزاد معاشرے کے آزاد انسانوں کا پیدا کیا ہوا جبر ہے۔
مولانا مودودی نے کہیں لکھا ہے کہ سوشلزم بھی مغربی تہذیب ہی کا شاخسانہ تھا۔ مولانا کے اس بصیرت افروز فقرے کی اہمیت یہ ہے کہ کہنے کو سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم ایک دوسرے کی ضد تھے مگر ان کی الٰہیات ایک تھی۔ ان کا تصور علم ایک تھا۔ ان کا تصور انسان ایک تھا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نام نہاد آزاد مغرب کے لیے لازم تھا کہ وہ سوشلزم کو اپنا ’’متبادل‘‘ نہ سمجھتا لیکن مغرب نے سوشلزم کو اپنا حریف اور اپنا متبادل سمجھا اور اس نے اپنے پورے انفرادی اور اجتماعی قوت سے سوشلزم اور سوشلسٹ ریاستوں کا مقابلہ کیا۔ ایک مطلق آزاد انسان یا ایک مطلق آزاد معاشرے اور مطلق آزادی پر یقین رکھنے والی ایک تہذیب کو متبادل سے خوف زدہ ہونا چاہیے نہ اسے متبادل کو مٹانے کی کوشش یا سازش کرنی چاہیے اس لیے کہ ’’متبادل‘‘ بھی کسی آزاد انسان اور آزاد معاشرے کے آزاد ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ چناں چہ انسان کی مطلق آزادی پر یقین رکھنے والوں کو متبادل کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔
اسلام اور اسلامی تہذیب کے سلسلے میں بھی مغرب کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کو اسلام اور اسلامی تہذیب بھی اپنا ’’متبادل‘‘ نظر آتی ہے۔ آزادی کا ایک ناگزیر نتیجہ تنوع ہے اور تنوع کائنات کی بنیادی حقیقت ہے مگر مغرب پر اسلام کے متبادل ہونے کا ایسا خوف طاری ہے کہ وہ اسلام کے غیر سیاسی، غیر جہادی تہذیبی مظاہر جیسے پردہ، ڈاڑھی، حیا، مساجد کے میناروں کی بلندی وغیرہ کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چناں چہ ان مظاہر کے خلاف مغربی ملکوں میں کہیں قانون سازی ہورہی ہے۔ کہیں حکومتی سطح پر احتجاج ہورہا ہے اور کہیں عوامی سطح پر مزاحمت برپا ہے۔
سیاسی آزادی، آزادی کی ایک اہم صورت ہے۔ اتنی اہم کہ جرمن ادیب ٹامس مان نے کہا ہے کہ بیسویں صدی میں انسان اپنی تقدیر سیاسی اصطلاحوں میں لکھے گا۔ ٹامس مان کی یہ بات سو فی صد درست ثابت ہوئی ہے۔ اس لیے کہ بیسویں صدی دو عالمی جنگوں کی صدی ہے اور یہ جنگیں اقتصادی مفاد سے پیدا ہونے والی سیاست کا حاصل تھیں۔ بیسویں صدی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے اور تیسری دنیا باالخصوص مسلم دنیا کی سیاسی آزادی کی صدی ہے۔ بیسویں صدی روسی انقلاب اور چینی انقلاب کی صدی ہے اور یہ دونوں انقلابات اپنی اصل میں سیاسی تھے۔ لیکن مغرب نے مسلم دنیا کی سیاسی آزادی کو بھی آزادی نہ رہنے دیا۔ اس نے دفاعی معاہدوں کے ذریعے مسلم دنیا کے اہم ملکوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ مغرب نے مسلم دنیا پر اپنے آلہ کار مسلط کردیے۔ مسلم دنیا کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا حکمران بنائے۔ مگر مغرب نے مسلم دنیا میں ہر جگہ اسلامی تحریکوں کا راستہ روکا ہے۔ اس سے جہاں ممکن ہوا اسلامی تحریک کو اقتدار ہی میں نہیں آنے دیا۔ کہیں اسلامی تحریک اقتدار میں آگئی تو اسے اقتدار میں نہیں رہنے دیا۔ یہاں تک کہ مغرب مسلم ریاستوں میں اسلامی تحریکوں کو معمول کی سیاسی و مذہبی سرگرمیوں سے بھی روک رہا ہے۔ اس کی ایک مثال بنگلا دیش ہے جہاں جماعت اسلامی پر پابندی لگ چکی ہے۔ بلاشبہ یہ کام حسینہ واجد نے کیا ہے۔ مگر ان کی پشت پر بھارت بھی موجود ہے اور مغرب بھی۔ ایسا نہ ہوتا تو مغرب جماعت اسلامی بنگلا دیش پر پابندی کی مخالفت کرتا۔
آزادی کے تصور کے تحت ہر قوم کو اپنا سیاسی نظام وضع کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ مگر مغرب نے مغربی جمہوریت کو پوری انسانیت کی ’’واحد پسند‘‘ بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں تک کہ کسی دوسرے سیاسی نظام کے خیال کو ’’کفر‘‘ کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ ایک غیر علمی، غیر تہذیبی اور غیر عقلی طرزِ فکر ہے۔ مگر نہ اسے مغرب خلاف علم، خلاف تہذیب اور خلاف عقل سمجھتا ہے نہ دنیا کی دوسری اقوام ایسا سمجھتی ہیں۔ مغرب نے اس دائرے میں بھی متبادل کے خیال کو فنا کردیا ہے۔
مغرب نے عالمی سطح پر جو ادارے تخلیق کیے ہیں ان میں سے ایک اقوام متحدہ ہے۔ آزادی کا نتیجہ جمہوریت ہے اور جمہوریت کا اصول اکثریت ہے۔ مگر اقوام متحدہ کی طاقت کا مرکز سلامتی کونسل ہے، اور اس کونسل میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ چناں چہ دنیا کا سیاسی بندوبست پانچ بڑی طاقتوں کا محتاج ہے۔ مطلب یہ کہ اس دائرے میں بھی آزادی موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ پانچ طاقتوں کی آزادی پوری دنیا کی آزادی نہیں ہے۔
مغرب میں انسان کی آزادی کا سب سے بڑا نتیجہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔ لیکن مغرب میں بیسویں صدی کے سب سے بڑے مورخ ٹوائن بی نے ایک جگہ کہا ہے کہ مغربی تہذیب کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اس کی دو شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ مغرب اپنی تہذیب میں کسی نہ کسی قسم کی روحانیت شامل کرے اور دوسرے یہ کہ وہ ٹیکنالوجی کے عشق سے جان چھڑائے۔ یعنی ٹوائن بی کے نزدیک مغربی تہذیب کے زوال اور انہدام میں اس کی مذہب دشمنی کے ساتھ ساتھ تکنیکی ترقی کا بھی ہاتھ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹوائن بی مغرب میں یہ بات کہنے والے واحد شخص نہیں ہیں بلکہ مغرب کے ممتاز ماہر عمرانیات اور مستقبل بین ایلون ٹوفلر نے اپنی تین کتابوں ’’Future Shock‘‘ ’’Third Wave‘‘ اور ’’Power Shift‘‘ میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی انسان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور وہ جدید مغرب کو تباہی سے دوچار کرنے ہی والی ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ آزادی کا نتیجہ ٹیکنالوجی کی ترقی، ٹیکنالوجی کی ترقی کا نتیجہ تہذیب کی تباہی۔ سوال یہ ہے کہ یہ آزادی ہے یا پوری تہذیب کی تباہی کا نسخہ؟ ایسی تباہی کا نسخہ جو آزادی سے نمودار ہونے والے قید خانے میں وقوع پزیر ہورہی ہے۔
یہ زیادہ پرانی بات نہیں چالیس پچاس سال پہلے پوری دنیا تہذیبی و ثقافتی مظاہر کے تنوع سے بھری پڑی تھی۔ مگر اب ساری دنیا ایک طرح کا آرٹ ’’consume‘‘ کررہی ہے۔ ایک طرح کا لباس پہن رہی ہے، ایک طرح کے کھانے کھارہی ہے، ایک طرح کی فلمیں دیکھ رہی ہے، ایک طرح کی موسیقی سن رہی ہے، ایک طرح کی عمارتوں میں رہ رہی ہے۔ مغرب کے تہذیبی و ثقافتی نمونے ساری دنیا کے تہذیبی و ثقافتی نمونوں کو ہڑپ کر گئے ہیں۔ کیا یہی آزادی ہے؟۔
اسلامی تہذیب ایک مذہبی تہذیب ہے۔ ایک روحانی تہذیب ہے۔ اس تہذیب میں آزادی کا تصور بہت وسیع اور گہرا ہے۔ ایک مسلمان کی اصل آزادی روحانی آزادی ہے۔ تہذیبی آزادی ہے۔ نفسیاتی آزادی ہے۔ ذہنی آزادی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی آزادی یہ ہے کہ وہ پوری زندگی میں ’’حق پرست‘‘ ہو۔ وہ نفس امادہ سے نجات حاصل کرے اور نفس مطمئنہ پیدا کرکے دکھائے۔ اس کا دل دنیا کی محبت سے پاک ہو، وہ اپنے ظاہر اور باطن میں کسی ’’غیر‘‘ کا غلام نہ ہو۔ اس کی روح، اس کا قلب، اس کا ذہن، اس کی نفسیات باطل کے شکنجے سے آزاد ہو۔ مگر آزادی کا یہ تصور اب مغرب کیا مسلمانوں کے لیے بھی دور کی آواز بن چکا ہے۔ بہت دور کی آواز۔ یہ اپنے حقیقی انفرادی اور اجتماعی وجود سے بے گانہ ہونے کی ایک صورت ہے۔ اس کے ذمے دار ہم خود بھی ہیں لیکن مغرب نے آزادی کا جو تصور پیدا کیا ہے اس کے غلبے نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں