سیاسی رہنما اور عوامی مقبولیت

پاکستان کے بعض سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا بڑا زعم رہا ہے کہ وہ عوام میں مقبول ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس بات کی سب سے بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ بھٹو صاحب کے پاس بھاری مینڈیٹ بھی تھا اور عوامی مقبولیت بھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کا مرحلہ آیا تو بھٹو صاحب نے خیال ظاہر کیا کہ اگر انہیں پھانسی دی گئی تو کم از کم سندھ میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ لیکن بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد کہیں اور کیا سندھ میں بھی کچھ نہ ہوا۔ خون کی ندیاں کیا بہتیں خون کا چھڑکاؤ بھی نہ ہوا۔ اس کی تین وجوہ تھیں۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ بھٹو صاحب بڑے سیاسی رہنما تو تھے مگر بڑے انسان نہ تھے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کی نظر میں پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے رہنماؤں کی بھی کوئی عزت نہ تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے جرائم کے اندراج کے لیے فائلیں کھولی ہوئی تھیں۔ چناں چہ بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو جتوئی، پیرزادہ اور ممتاز بھٹو جیسے لوگ جنرل ضیا الحق سے مل گئے۔ یہی لوگ تھے جو بھٹو صاحب کی پھانسی کے خلاف عوامی احتجاج کو منظم کرسکتے تھے۔
بھٹو صاحب کی پھانسی پر خون کی ندیوں کے نہ بہنے کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ بھٹو صاحب جمہوریت جمہوریت تو بہت کرتے تھے مگر جمہوریت بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ بھٹو صاحب مزاجاً ایک جاگیردار اور وڈیرے تھے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی اپنی جاگیر بنایا ہوا تھا۔ چناں چہ پیپلز پارٹی کہیں اور کیا سندھ میں بھی جمہوری بنیادوں پر منظم نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی میں اوپر سے لے کر نیچے تک کہیں بھی عوامی روح موجود نہ تھی۔ پیپلز پارٹی کے لیے بھٹو کی عوامی مقبولیت ہی سب کچھ تھی۔ بھٹو صاحب نہیں رہے تو یہ مقبولیت منظم ہو کر سامنے آنے کے قابل نہ رہی۔ چناں چہ بھٹو صاحب کی پھانسی پر دوچار جگہوں پر احتجاج تو ضرور ہوا مگر کہیں بھی بھٹو صاحب کے اپنے الفاظ میں پہاڑوں کو روتے ہوئے اور خون کی ندیوں کو بہتے ہوئے نہ دیکھا جاسکا۔ لیکن بھٹو صاحب کی پھانسی پر خون کی ندیوں کے نہ بہنے کی سب سے بڑی وجہ کچھ اور تھی۔
اس وجہ کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ بلاشبہ فی زمانہ سیاست کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں مگر اخلاقیات کے ہونے یا نہ ہونے سے زندگی کے زمین اور آسمان بدل کر رہ جاتے ہیں۔ بلاشبہ بھٹو صاحب کو عوام پسند کرتے تھے مگر وہ بھٹو صاحب کو صرف ووٹ اور نوٹ دے سکتے تھے۔ بھٹو صاحب کی شخصیت میں ایسی اخلاقی کشش نہ تھی کہ لوگ ان کے لیے سڑکوں پر نکل کر ڈنڈے کھاتے، جیل جاتے اور بھٹو صاحب کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دیتے۔ تاریخ میں انسانوں نے جان دی ہے تو خدا کے لیے، مذہب کے لیے، کسی بڑے آدرش کے لیے، ملک و قوم یا اجتماعیت کی اس صورت کے لیے جو فرد کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ بھٹو صاحب بڑے سیاست دان کے ساتھ ساتھ بڑے انسان بھی ہوتے تو ہزاروں لوگ ان کے لیے جان کی بازی ضرور لگاتے اور کہیں نہ کہیں خون کی ندی ضرور بہتی اور کہیں نہ کہیں کسی پہاڑ کو بڑے انسان کی موت پر گریہ کرتے ہوئے ضرور دیکھا جاتا۔
الطاف حسین کی عوامی مقبولیت بھٹو صاحب سے زیادہ تھی۔ نام نہاد ’’مہاجر عوام‘‘ میں ان کے لیے غیر معمولی ’’عقیدت‘‘ غیر معمولی ’’احترام‘‘ اور غیر معمولی ’’جوش و جذبہ‘‘ تھا۔ وہ کارنر میٹنگ کرتے تھے تو وہ واقعتاً جلسہ بن جاتی تھی۔ وہ ایک دو تین کرتے تھے تو لاکھوں کے ہجوم کو سانپ سونگھ جاتا تھا۔ لیکن جب ایم کیو ایم کے خلاف پہلا فوجی آپریشن شروع ہوا تو ملک سے فرار ہونے والے الطاف حسین کو توقع تھی کہ کراچی کے گلی کوچوں میں فوجی آپریشن کی مزاحمت ہوگی۔ وہ بار بار کراچی فون کرکے معلوم کررہے تھے کہ کراچی میں کیا ہورہا تھا۔ انہیں بتایا جارہا تھا کہ راوی ہر طرف سناٹا ہی سناٹا لکھ رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چند ہزار لوگ ضرور جمع ہوئے لیکن فوجیوں کے آتے ہی وہ بھی پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ اس صورت حال کی وجہ یہ تھی کہ الطاف حسین نے اپنے سوا پارٹی میں کسی کو بھی ’’صاحب تکریم‘‘ نہیں ہونے دیا۔ ایم کیو ایم کا جمہوریت سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ الطاف حسین کی شخصیت کی کوئی ’’اخلاقی ساکھ‘‘ ہی نہ تھی۔ لوگ انہیں ووٹ دے سکتے تھے، نوٹ دے سکتے تھے، بھتا دے سکتے تھے مگر ان کے لیے سڑکوں پر مار نہیں کھا سکتے تھے، ان کے لیے جیلوں میں نہیں سڑ سکتے تھے اور ان کے لیے موت کو گلے نہیں لگا سکتے تھے۔
جنرل پرویز مشرف کی آمد سے قبل نواز شریف ہواؤں میں اُڑ رہے تھے، ہر طرف ان کے ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ کا افسانہ چل رہا تھا، میاں صاحب اکبر اعظم کے لب و لہجے میں کلام کررہے تھے مگر چار جرنیلوں نے مل کر انہیں اقتدار سے باہر کردیا۔ میاں صاحب کے بھاری مینڈیٹ کا ہلکا پن عیاں ہو کر سامنے آچکا تھا۔ میاں صاحب کے لیے خون کی کیا ’’فون کی ندیاں‘‘ بھی نہ بہہ سکیں۔ یعنی کسی نے فون کرکے دوسرے سے یہ نہ پوچھا کہ میاں صاحب کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ کیا ہوا ہے اور کیوں ہوا ہے۔ میاں صاحب کی اقتدار سے علیحدگی کے پندرہ دن بعد کراچی میں نواز لیگ کے رہنما مشاہد اللہ ریگل چوک پر دس بارہ کارکنوں کے ’’طوفان‘‘ کے ساتھ نمودار ہوئے اور دس منٹ بعد گرفتار ہو کر جیل پہنچ گئے۔ اگر بھاری مینڈیٹ یہی ہوتا ہے تو ایسے بھاری مینڈیٹ پر لعنت۔
تجزیہ کیا جائے تو میاں صاحب کے ساتھ جو ہوا وہ خود میاں صاحب کا کیا دھرا تھا۔ بھٹو اور الطاف حسین کی طرح نواز لیگ میں بھی میاں صاحب کے سوا کوئی قابل توقیر نہ تھا اور نہ ہے۔ چناں چہ میاں صاحب کے بعد کوئی نہ تھا جو عوام کو متحرک کرتا۔ خیر سے نواز لیگ ایک خاندانی جماعت تھی اور ماشاء اللہ ابھی تک خاندانی جماعت ہے۔ اسے جمہوریت چھو کر بھی نہیں گزری۔ سب سے بڑی بات یہ کہ میاں نواز شریف کی شخصیت کی کوئی ’’اخلاقی اہمیت‘‘ ہی نہیں تھی۔ لوگ ان کو ووٹ اور نوٹ دے سکتے تھے مگر ان کے لیے سڑکوں پر ڈنڈے کھانے، جیل کی سیر کرنے اور جان کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا۔ اس وقت بھی میاں صاحب کی یہی حیثیت ہے۔
ان مثالوں کے برعکس ایک مثال رجب طیب ایردوان کی ہے۔ ترکی کے ’’بدمعاش فوجیوں‘‘ نے ان کے خلاف بغاوت کی تو ایردوان کی اپیل پر لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے مسلح فوجیوں کی مزاحمت کی۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگ شہید ہوئے۔ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایردوان کی عوامی ساکھ بہت اچھی ہے۔ ان کی جماعت میں جمہوریت بھی موجود ہے اور ایردوان کی شخصیت کی ایک اخلاقی ساکھ بھی ہے۔ خیر ایردوان تو 12 سال سے اقتدار میں ہیں۔ مصر کے صدر مرسی کو تو اقتدار میں آئے صرف ایک سال ہوا تھا مگر جنرل سیسی نے صدر مرسی اور اخوان کے خلاف سازش کی تو لاکھوں لوگوں نے گلی کوچوں میں پولیس اور فوجیوں کی نہیں ٹینکوں کی بھی مزاحمت کی۔ چناں چہ ڈیڑھ ہزار شہید ہوئے، چار سے پانچ ہزار زخمی ہوئے اور دس ہزار سے زیادہ لوگ جیلوں میں ٹھوس دیے گئے۔ بلاشبہ اخوان کی مزاحمت کامیاب نہ ہوسکی لیکن اس مزاحمت نے بتا دیا کہ صدر مرسی اور اخوان کی ایک عوامی ساکھ تھی۔ وہ منظم تھے اور ان کے لیے لاکھوں لوگ جان دینے کے لیے تیار تھے۔ الجزائر میں اسلامی فرنٹ نے اقتدار میں آئے بغیر عوامی مزاحمت کا حق ادا کردیا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جدوجہد کی بعض صورتیں فوری نتیجہ نہیں پیدا کرتیں۔ لیکن وہ ایک خیال، ایک طرزِ فکر، ایک جذبے، ایک دلیل اور طرزِ حیات کو زندہ رکھتی ہیں۔ مثلاً برصغیر میں جہاد کی کئی تحریکیں ناکام ہوئیں مگر ان تحریکوں نے ناکام ہو کر بھی جہاد کے تصور کو زندہ رکھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہوگئی مگر اس نے آزادی کے خیال اور جذبے کو زندہ رکھا، اور یہ دونوں چیزیں قیام پاکستان کی تحریک میں مسلمانوں کا سرمایہ بنیں۔ اس طرح اسلامی تحریکوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ کی حامل تو نہیں ہیں مگر ان کی اخلاقی ساکھ اور تنظیم دوسری جماعتوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ لوگ انہیں ووٹ تو کم دیتے ہیں مگر جو لوگ انہیں ووٹ اور نوٹ دیتے ہیں وہ سڑکوں پر نکلنے اور جان کی بازی لگانے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ ان کے سامنے بڑا ہدف ہو۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں