جو عقل ہے وہ سرکاری ہے

آخری حصہ
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم حکمران اور مسلم ریاستیں ظاہری اسباب کے اعتبار سے ہرگز کمزور نہیں چناں چہ ان کے پاس جہاد کا اعلان نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں اور اگر مسلم ریاستیں کہیں کمزور ہیں تو اس کا سبب بھی مسلم حکمران ہیں۔ اسلام یا مسلم عوام نہیں۔ امام کعبہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلم عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے حکمرانوں اور حکومتوں کا ساتھ دے کر ان کو مضبوط کریں۔ امام کعبہ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مسلم دنیا کے عوام ہمیشہ سے اپنے حکمرانوں کے ساتھ ہیں البتہ مسلم حکمران نہ سعودی عرب اور پاکستان میں اپنے عوام کے ساتھ ہیں نہ اپنے دین کے۔ چناں چہ امام کعبہ کو مشورہ دینا ہی تھا تو انہیں مشورہ مسلم حکمرانوں کو دینا چاہیے تھا مسلم عوام کو نہیں۔ مسلم حکمرانوں یا مسلم ریاستوں کی کمزوری اور معذوری کی دلیل کا کھوکھلا پن اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ عرب حکمرانوں اور ریاستوں نے گزشتہ 70 سال میں اسرائیل کے ساتھ تین بڑی جنگیں لڑی ہیں۔ جو حکمران اور جو ریاستیں جنگ لڑسکتی ہیں آخر وہ جہاد کا اعلان کیوں نہیں کرسکتیں؟ اس کے باوجود کسی عرب حکمران یا عرب ریاست نے کبھی اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا۔ خیر سے پاکستان کے حکمران اور ریاست پاکستان بھی گزشتہ 70 سال میں بھارت کے خلاف چار جنگیں لڑچکی ہے مگر ریاست پاکستان یا پاکستان کے حکمرانوں نے بھی کبھی بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا۔ ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم حکمران اور مسلم ریاستیں اتنی کمزور نہیں جتنی کمزور امام کعبہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امت مسلمہ امکانات کی امت ہے، اس امت کے پاس ام الکتاب ہے۔ سیرت طیبہؐ کا سورج ہے، علم کی بے مثال تاریخ ہے، شاندار تہذیب ہے، امت کے پاس مادی وسائل کی بھی کوئی کمی نہیں، مسلمان عمل میں کمزور ہیں مگر جذبے کا ایسا سمندر ان کے پاس ہے کہ مسلم حکمران اور مسلم ریاستیں آواز دیں تو چالیس پچاس کروڑ مسلم نوجوان اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کی شوکت کے لیے جان دینے کے لیے سڑکوں پر آجائیں اور اسلام اور امت کے تمام دشمنوں کو دیوار سے لگادیں مگر مسلم دنیا کے بادشاہ، جرنیل اور نام نہاد جمہوری رہنما اسلام اور امت کے امکانات پر سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھے ہیں اور وہ اپنی کمزوریوں اور دینی معذوریوں کو امت اور مسلم ریاستوں کی کمزوریاں اور معذوریاں باور کرارہے ہیں۔ بدقسمتی سے امام کعبہ نے بھی یہی کیا ہے۔
امام کعبہ نے انٹرویو میں یہ بھی فرمایا ہے کہ امت کے زوال کا ایک سبب مسلمانوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ ان کے بقول مسلمان فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ مسلمانوں کا عدم اتحاد اور فرقوں اور مسلکوں میں بٹا ہونا سامنے کی چیز ہے اور بلاشبہ اس سے امت کی قوت میں کمی ہورہی ہے مگر بدقسمتی سے اس صورت حال کے ذمے دار بھی مسلم حکمران ہیں۔ امام کعبہ کو امت کا اتحاد عزیز ہے تو وہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو کھلے عام یہ مشورہ دیں کہ وہ ایران کو ’’سانپ‘‘ قرار نہ دیں اور اسے اپنا ’’دشمن‘‘ نہ سمجھیں۔ بدقسمتی سے امام کعبہ نے کبھی ایسی بات کی ہے اور نہ شاید کرسکتے ہیں، کریں گے تو وہ امام کعبہ ہی نہیں رہیں گے۔ چلیے ایران تو ’’شیعہ ملک‘‘ ہے۔ اخوان المسلمون عرب دنیا کے مرکزی دھارے کی تحریک ہے اور اخوان کے لوگ عرب معاشروں کے دودھ کا ’’مکھن‘‘ ہیں مگر سعودی عرب سمیت بیش تر عرب حکمرانوں نے اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ یہاں تک کہ جنرل سیسی نے مصر میں صدر مرسی کی حکومت گرائی تو عرب حکمران 13 ارب ڈالر کی امداد لے کر جنرل سیسی کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی قیادت میں مصر کی معیشت کو کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ امام کعبہ نے اس صورت حال کے خلاف کتنے بیانات دیے ہیں اور انہوں نے کب کب سعودی حکمرانوں کو یاد دلایا ہے کہ عدم اتحاد اور انتشار امت کے زوال کا سبب ہے۔ اخوان کے سلسلے میں اکثر عرب حکمرانوں کے غیظ و غضب کا یہ عالم ہے کہ قطر نے حماس اور اخوان کے رہنماؤں کو پناہ دی ہوئی ہے اور عرب حکمران اس عمل کو دہشت گردی کی پشت پناہی قرار دے کر قطر کے خلاف صف آرا ہیں۔ آخر امام کعبہ نے کتنی بار اس صورت حال کی مذمت کی ہے؟ آخر امام کعبہ اتحاد امت کا جو درس مسلم عوام کو دے رہے ہیں وہ مسلم حکمرانوں کو کیوں نہیں دیتے؟ کیا امام کعبہ کو معلوم نہیں کہ او آئی سی امت کو متحد کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی مگر مسلم حکمرانوں نے اس تنظیم کا یہ حال کردیا ہے کہ ساری دنیا اس کا مذاق اڑاتی ہے اور اسے oh i see کہتی ہے۔ مگر امام کو اس حوالے سے بھی مسلم دنیا کے حکمرانوں پر تنقید کرتے نہیں دیکھا گیا۔
امام کعبہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جہادی عناصر کی وجہ سے بعض مغربی ممالک کو مسلم ممالک میں گھسنے کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے امام کعبہ کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ سعودی عرب میں چالیس سال سے امریکی فوج موجود ہے کیا اس کا سبب بھی جہادی عناصر ہیں؟ قطر خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی مرکز ہے کیا اس سانحے کے ذمے دار بھی جہادی ہیں؟ امریکا نے عراق پر حملہ کیا تو کیا صدام کے عراق میں جہادی جہاد کررہے تھے؟ دنیا میں 100 فی صد سے زیادہ ممالک میں امریکی فوجی تعینات ہیں تو کیا اس کا سبب بھی جہادی ہیں؟ 1979ء سے قبل ایران خطے میں سی آئی اے کا سب سے بڑا مرکز تھا کیا یہ صورت حال بھی جہادیوں نے پیدا کی تھی؟ 1960ء کی دہائی میں جنرل ایوب نے بڈھ بیر میں امریکا کو فوجی اڈا مہیا کردیا تھا کیا اس کا باعث بھی جہادی تھے؟۔ 18 ویں صدی میں یورپی طاقتیں پورے عالم اسلام پر قابض ہوگئی تھیں کیا انہیں جہادیوں نے اس نوآبادیاتی تجربے پر اکسایا تھا؟ بلاشبہ نائن الیون کے بعد امریکا افغانستان میں آیا مگر امریکا کبھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ نائن الیون میں واقعتاً طالبان ملوث تھے۔ چلیے ہم امام کعبہ کی دل جوئی کے لیے مان لیتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اس کا سبب ہوں گے مگر امام کعبہ ایک واقعے کو عمومی تو نہ بنائیں یعنی اسے Generalize تو نہ کریں۔ امام کعبہ اپنے منصب کا کچھ تو لحاظ کریں۔ امام کعبہ کے لیے یہ بات یقیناً اطمینان کا باعث ہوگی کہ مسلم دنیا کے حکمران نہ ’’جہادی‘‘ ہیں نہ مغرب کی اصطلاح میں ’’اسلامسٹ‘‘ ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے مسلم دنیا کے تمام معاملات میں امریکا اور یورپ کو دخیل کیا ہوا ہے۔ سیاست ہو یا ثقافت، تعلیم ہو یا معیشت وہ ہر جگہ مغربی قوتوں کے ’’کھلے احکامات‘‘ پر چل رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ صورتِ حال پچاس سال سے چل رہی ہے۔ آخر امام کعبہ اس صورت حال کے خلاف کب احتجاج کریں گے؟ وہ اس صورت حال کے خلاف کب انٹرویو میں گفتگو فرمائیں گے؟۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں