چچا کارل مارکس اور ماموں آئی اے رحمن

آئی اے رحمن صاحب سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا یہی بھارت میں ’’آزادی کی تحریک‘‘ کو ’’نئی زندگی‘‘ فراہم کرنے کا عمل ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین اس کے انقلاب یا سوشلسٹوں کا بھارت یا پاکستان کی آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ سوشلسٹ ابتدا میں پاکستان کے قیام کے خلاف تھے مگر تحریک پاکستان کے آخری مراحل میں ’’ماسکو‘‘ کے ’’اشارے‘‘ پر وہ تحریک میں شامل ہوگئے۔ لیکن ان کی وفاداریاں اسلام کیا پاکستان اور اس کے ورثے کے ساتھ بھی نہیں تھیں۔ ان کی ہمدردیاں یا تو ’’ماسکو‘‘ کے ساتھ تھیں یا ’’پیکنگ‘‘ کے ساتھ یا سوشلزم کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے اور عوام نے کبھی سوشلسٹوں پر اعتبار نہیں کیا۔ سوویت یونین کے خاتمے اور کمیونزم کی تحلیل کے بعد اکثر سوشلسٹوں نے ’’امریکی کیمپ‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ چناں چہ اب پاکستان میں انہیں یا تو ’’امریکی لابی‘‘ کا آدمی سمجھا جاتا ہے یا ’’بھارتی لابی‘‘ کا۔ بدقسمتی سے اس الزام میں کافی صداقت نظر آتی ہے۔
آئی اے رحمن نے دعویٰ کیا ہے کہ سوویت یونین نے تقریباً 100 نوآبادیات کو آزادی حاصل کرنے میں مدد دی مگر انہوں نے مثال ایک بھی نہیں دی۔ بلاشبہ سوویت یونین کا انقلاب سوویت یونین تک محدود نہ رہا بلکہ تقریباً آدھی دنیا اس کے زیر اثر آگئی لیکن اس کی وجہ آزادی کی تحریکوں کی حمایت نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین نے عسکری طاقت کے زور پر اپنے انقلاب کو دوسرے ملکوں میں ’’برآمد‘‘ کیا۔ خود سوویت یونین نے مختلف ملکوں میں مداخلت کی اور یورپی طاقتوں کی جگہ ایک نئی نو آبادیاتی یا امپیریل طاقت بن کر اُبھرا۔ سوویت یونین کی یہی توسیع پسندی بالآخر اسے افغانستان لائی اور افغانستان پر قبضہ سوویت یونین کے لیے بھیانک خواب بن کر اُبھرا۔ یہاں تک کہ سوویت یونین کے صدر گوربا چوف نے افغانستان کو سوویت یونین کے لیے رِستا ہوا زخم قرار دیا۔ اب اگر دوسرے ملکوں پر قبضہ، دوسرے ملکوں میں سازشوں اور طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی آزادی کی تحریکوں کو نئی زندگی فراہم کرنے کا عمل ہے تو بلاشبہ سوویت یونین نے وسطی ایشیا سے مشرقی یورپ تک اور مشرقی یورپ سے لاطینی امریکا تک آزادی کی تحریکوں کو تقویت فراہم کی ہے۔
آئی اے رحمن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوویت انقلاب نے ’’انسانی حقوق‘‘ کو ناقابل تقسیم (وحدت) بنادیا۔ انسانی حقوق اور سوویت یونین؟ انسانی حقوق اور سوشلسٹ انقلاب؟ خدا کی پناہ۔ یہ تو سفید جھوٹ سے بھی آگے کی چیز ہے۔ کسی بھی مذہب کو اختیار کرنا انسان کا بنیادی حق ہے مگر سوویت انقلاب نے روس ہی میں نہیں وسطی ایشیا کی تمام مسلم ریاستوں میں اسلام کو فنا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ قرآن کی تعلیم ممنوع قرار دے دی گئی۔ مساجد بند کردی گئیں یا انہیں کسی اور مصرف کے لیے بروئے کار لایا جانے لگا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو نام تک بدلنے پر مجبور کردیا گیا۔ اظہار کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے مگر سوویت یونین یا کسی بھی سوشلسٹ ریاست میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ کوئی سوشلزم، سوویت رہنماؤں، پولٹ بیورو یا کمیونسٹ پارٹی کے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کوئی یہ جرأت کرتا تو مار دیا جاتا تھا یا سائبیریا بھیج دیا جاتا تھا۔ گورکی ایک سوشلسٹ ادیب تھا مگر اے لینن سے ’’اختلاف‘‘ تھا۔ چناں چہ لینن نے ایک بار کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ جب انقلاب آئے گا اور انسانیت اپنا جشن منائے گی تو گورکی کو کن لفظوں میں یاد کیا جائے گا۔ گورکی نے کہا کہ اگر انقلاب لانے والے انسان ہوں گے تو وہ میرا ذکر احترام سے کریں گے اور اگر وہ انسان ہی نہیں ہوں گے تو مجھے اس کی کوئی فکر نہیں کہ وہ میرا ذکر کن الفاظ میں کریں گے۔ ٹراٹسکی سوشلسٹ انقلاب کا فکری رہنما تھا اور اس کا مقام لینن سے کم نہ تھا مگر ٹراٹسکی بہت جلد سوویت یونین سے فرار ہونے پر مجبور ہوگیا۔ مگر سوویت یونین کا ’’انقلاب‘‘ اتنا ’’انسانی‘‘ اور اتنا ’’انسانی حقوق‘‘ کا پاسدار تھا کہ اس نے ٹراٹسکی کا تعاقب کیا اور اسے ’’دیارِ غیر‘‘ میں قتل کردیا۔ غور کیا جائے تو اس منظر نامے میں کئی کئی ہزار کلو میٹر تک ’’انسانی حقوق‘‘ نام کی کوئی چیز موجود نظر نہیں آتی تو پھر آئی اے رحمن نے انسانی حقوق کے تصور کو سوویت یونین کے انقلاب سے کیوں وابستہ کیا؟ آئی اے رحمن نے یہ بھی کہا ہے کہ سوویت یونین کا انقلاب لوگوں کے سیاسی اور ثقافتی حقوق کو بھی تسلیم کرنا تھا۔ حضور والا یہ آپ کس دنیا کی باتیں کررہے ہیں۔ مثلاً سیاسی جماعتوں کا قیام ایک بنیادی سیاسی حق ہے مگر سوویت یونین ہی نہیں پوری سوشلسٹ دنیا میں کمیونسٹ پارٹی کے سوا کسی سیاسی جماعت کا وجود نہ تھا۔ اسی لیے کمیونسٹ سیاسی نظام کو one party rule کہا جاتا تھا۔ چین میں آج بھی یہی صورتِ حال ہے۔ مسلم دنیا میں ثقافت کی جڑیں مذہب میں پیوست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سوویت یونین کے انقلاب میں وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں ثقافت کی جڑ ہی کاٹ دی تھی تو پھر کہاں کی ثقافت اور کہاں کے ثقافتی حقوق؟۔ سوویت یونین کا انقلاب اتنا ہولناک تھا کہ وہ جہاں گیا اس نے تخلیق کے سوتے خشک کردیے۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود سوویت یونین ہے۔ جس روس نے سوشلسٹ انقلاب سے پہلے دوستو وسکی اور ٹالسٹائے جیسے ناول نگار اور چیخوف جیسے افسانہ نگار پیدا کیے وہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد دوستو وسکی، ٹالسٹائے اور چیخوف کا سایہ بھی پیدا نہ کرسکا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب روس کی تہذیبی، تاریخی اور تخلیقی روح کو کھا گیا۔ ایسا انقلاب کسی کے ثقافتی حقوق کا بھلا کیا تحفظ کرتا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ویسے تو سوویت یونین اور اس کا انقلاب ’’نظریے‘‘ کی بات کرتا تھا مگر پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں میں سوویت یونین اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے ’’قوم پرستی‘‘ کو ہوا دی تا کہ معاشرے میں مذہب اور مذہبی قوتیں کمزور پڑ جائیں اور بالآخر بے معنی ہوجائیں۔ تو عزیزانِ گرامی قدر یہ ہے سیکولر اور سوشلسٹ دانش وروں کے Icon کا قصہ۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں