سرسید‘ جہاد اور جہادی

اسلامی تاریخ میں جہاد کی اہمیت یہ ہے کہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور رسول اکرمؐ کی عظیم الشان سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ جہاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ رسول اکرمؐ کی 10 سالہ مدنی زندگی میں تقریباً 80 غزوات اور سرایہ وقوع پزیر ہوئے۔ سرایہ وہ عسکری مہمات ہیں جو رسول اکرمؐ کی حیات طیبہ میں برپا ہوئیں مگر رسول اکرمؐ خود اُن میں شریک نہ ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ رسول اکرمؐ کے آخری دس برسوں میں 80 فوجی معرکے ہوئے۔ چوں کہ قرآن کا ہر حکم دائمی ہے اور چوں کہ رسول اکرمؐ کی ہر سنت رہتی دنیا تک کے لیے ہے اس لیے جہاد بھی رہتی دنیا تک اسلام دشمن طاقتوں کو اپنے جلال اور جمال سے ہیبت زدہ اور خیرہ کرتا رہے گا۔ جہاد چوں کہ نصوص صریحہ سے ثابت ہے اس لیے اس ضمن میں امت کے درمیان کبھی کوئی ابہام موجود نہیں رہا۔ جہاد کی اہمیت اور برکت کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں جہادیوں کا مرتبہ بھی بہت بلند رہا ہے اور انہیں ہمیشہ محبت اور تکریم کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔ شہادت، جہاد سے متعلق تصور ہے اور شہیدوں کا مرتبہ یہ ہے کہ قرآن شہید کے بارے میں کہتا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ رسول اکرمؐ کا مرتبہ شہید کیا تمام انبیاء سے بھی بلند ہے مگر مسلمانوں میں شہادت کی آرزو پیدا کرنے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔ صحابہ کرام تمام عظیم ہیں مگر جو مرتبہ بدری صحابہ کا ہے کسی کا نہیں۔ چناں چہ سیدنا عمرؓ کے زمانے میں جو وظائف دیے جاتے تھے ان میں سب سے بڑا وظیفہ بدری صحابہ کے لیے تھا۔
جہاد صرف شریعت محمدیؐ میں اہم نہیں، بلکہ اسلام کی پوری تاریخ جہاد کی عظمت پر گواہ ہے۔ چناں چہ سیدنا موسیٰؑ نے جہاد کیا ہے۔ سیدنا سلیمانؑ ملکہ سبا کے مطیع نہ ہونے کی صورت میں جہاد کا عزم کیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ہندو ازم میں بھی جہاد کا تصور موجود رہا ہے۔ مہا بھارت عظیم جنگ کی داستان ہے۔ یہ جنگ پانڈو اور کوروں کے درمیان برپا ہوئی۔ ہندو ازم میں پانڈو خیر اور کورو شر کی علامت ہیں۔ مہا بھارت کے آغاز سے قبل پانڈو کے سپہ سالار ارجن نے کوروں کی فوج کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ دشمن کی صفوں میں اس کے سوتیلے بھائی اور قریبی عزیز واقارب موجود ہیں۔ یہ دیکھ کر ارجن کے اعصاب شل ہوگئے اور اس نے ہتھیار پھینک کر شری کرشن سے کہا کہ میں اقتدار کے لیے اپنے پیاروں کو قتل نہیں کرسکتا۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق شری کرشن پیغمبر وقت تھے۔ انہوں نے ارجن کو بتایا کہ تم اقتدار کے لیے نہیں ’’حق‘‘ کی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہو اور حق و باطل کی جنگ میں جو حق پر ہو وہی ’’اپنا‘‘ ہوتا ہے اور جو باطل پر ہو وہ ’’پرایا‘‘ ہوتا ہے۔ خواہ اس سے خون کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔ کرشن کی طویل تقریر سن کر ارجن کی قلب ماہیت ہوگئی اور وہ میدان جنگ میں کود پڑا۔ کرشن کی یہ تقریر ’’گیتا‘‘ کہلاتی ہے جو ویدوں کے بعد ہندو ازم کی سب سے زیادہ مقدس کتاب ہے۔ گیتا کو ویدوں کے دودھ کا مکھن بھی کہا گیا ہے۔ بہرحال ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’مقدس جنگ‘‘ یا اس کا تصور ہندوازم تک میں موجود رہا ہے۔ اس تناظر میں آئیے دیکھتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کے ’’محسن‘‘ اور عظیم ’’مدبر‘‘ سرسید احمد خان جہاد اور جہادیوں کے بارے میں کیا فرماچکے ہیں، لکھتے ہیں۔
’’اسلام فساد اور دغا اور غدر و بغاوت کی اجازت نہیں دیتا۔ جس نے اُن کو امن دیا ہو، مسلمان ہو یا کافر اس کی اطاعت یا احسان مندی کی ہدایت کرتا ہے۔ مسلمانوں کے مذہب بموجب ہماری گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں ہوسکتا کیوں کہ تمام مسلمان ہندوستان کے برٹش گورنمنٹ کے امن میں ہیں اور مستامن ان لوگوں پر، جن کے امن میں ہے، جہاد نہیں کرسکتا‘‘۔
(نقش سرسید۔ ازضیا الدین لاہوری۔ صفحہ 205)
ایک اور جگہ سرسید نے فرمایا۔
’’جس وقت تک مسلمان کامل امن و امان کے ساتھ خدا کی وحدانیت کا وعظ کہہ سکیں اُس وقت تک کسی مسلمان کے نزدیک اپنے مذہب کی رُو سے اُس ملک کے بادشاہ پر جہاد کرنا جائز نہیں ہے خواہ وہ کسی قوم کے کیوں نہ ہوں۔ جب گورنمنٹ انگریزی کی طرف سے مسلمانوں کے مذہب میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں ہے اور مسلمانوں کی آزادی میں کسی طرح کا فتور نہیں ہے بلکہ درحقیقت ان کی تقریر کو بے انتہا آزادی ہے تو ایسی حالت میں کسی مسلمان کو ایسے منصوبوں میں شریک ہونا حلال نہ ہوگا جس کی بنا اس ارادہ پر ہو کہ گورنمنٹ انگریزی کو تہہ و بالا کردیں‘‘۔
(نقش سرسید۔ ازضیا الدین لاہوری۔ صفحہ206)
جہاد کے سلسلے میں سرسید کی ایک رائے یہ بھی تھی، لکھتے ہیں۔
’’اس ہنگامہ میں نہایت بدمعاش اور جاہل بے علم آدمی، جو مولوی کے نام سے مشہور تھے، نہ اس سبب سے کہ وہ خود پڑھے لکھے تھے بلکہ اس وجہ سے کہ اُن کے باپ دادوں میں کوئی مولوی تھا، وہ بھی مولوی کے نام سے مشہور ہوگئے تھے‘ اُن کو تمام اخباروں میں اس طرح پر چھاپا گیا جیسے کہ کوئی سچ مچ کا مولوی اور مسلمانوں کا بڑا عالم اور بڑا خدا پرست ہے۔۔۔ حالاں کہ وہ لوگ محض جاہل اور بے علم اور واہی آدمی تھے۔ کوئی مسلمان اُن کو اچھا نہیں جانتا تھا اور ان میں سے کوئی شخص مسلمانوں میں مذہب کی باتوں میں مقتدا اور پیشوا اور مولوی نہ تھا۔ جس قدر کہ اچھے اور خدا پرست اور سچ مچ کے مولوی اور درویش تھے ان میں سے کوئی شخص اس فساد میں شریک نہیں ہوا‘‘۔
(نقش سرسید۔ ازضیا الدین لاہوری۔ صفحہ209)
اقتباسات اور بھی تھے مگر ان اقتباسات سے بھی جہاد کے سلسلے میں سرسید کا نقطہ نظر پوری طرح آشکار ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کی ’’مجبوری‘‘ ہے کہ وہ دین، دنیا اور زندگی کے بارے میں جو بھی کچھ سمجھتے اور کہتے ہیں قرآن و سنت سے اس کے لیے سند لاتے ہیں۔ بدقسمتی سے سرسید حدیث کے کسی اور مجموعے کو کیا صحیح مسلم اور صحیح بخاری کو بھی مشتبہ قرار دے چکے ہیں۔ مگر قرآن پر ایمان کا انہیں دعویٰ تھا چناں چہ ان کا فرض تھا کہ وہ جہاد کے سلسلے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے لیے قرآن پاک سے کوئی جواز مہیا کرتے۔ واضح جواز۔ واضح نہیں تو کوئی ایسا قرآنی جواز جس میں اشارتاً یا کنایتاً ہی ان باتوں کا ذکر ہو جن کو سرسید جہاد کے خلاف بروئے کار لارہے تھے مگر سرسید ایسی کوئی بھی شہادت پیش نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی کوئی شہادت موجود تھی نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ سرسید اگرچہ منکر حدیث تھے مگر جہاں ان کو ضرورت پڑتی تھی وہاں وہ احادیث کو بھی اپنے مقصد کے لیے ’’استعمال‘‘ کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اس کی کئی مثالیں ہم سرسید سے متعلق گزشتہ تحریروں میں پیش کرچکے ہیں۔ چناں چہ سرسید جہاد کے خلاف عمل کی کوئی ایک حدیث ہی پیش کردیتے۔ چوں کہ نصوص صریح کے خلاف نہ اجماع وقوع پزیر ہوسکتا ہے اور نہ ان کے خلاف اجتہاد ہوسکتا ہے اس لیے سرسید ان دو سر چشموں سے بھی جہاد کے خلاف کچھ کر دکھانے کے قابل نہ تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سرسید نے جہاد کے خلاف جو کچھ فرمایا ہے وہ ان کی شخصی، ذاتی اور انفرادی رائے تھی اور دین میں شخصی، ذاتی اور انفرادی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ مگر جہاد کے خلاف سرسید کی آرا میں اتنا جوش، اتنا ولولہ، اتنا زور اور اتنی بلند آہنگی ہے جیسے سرسید قرآن و سنت یا اجماع کا نقطہ نظر بیان کررہے ہوں یا وہ اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے مجتہد ہوں۔ جہاد کے سلسلے میں سرسید کا بنیادی خیال یہ ہے کہ چوں کہ مسلمان انگریزوں کے تحت امن سے رہ رہے ہیں اور انگریز مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت نہیں کررہے اس لیے ان کے خلاف جہاد کا جواز نہیں۔ یہ ایسا پہلو ہے جسے مسلمان کیا کافر اور مشرک بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ سفید فاموں نے ریڈ انڈینز کے امریکا پر قبضے کے ساتھ عسکری اعتبار سے ’’معمولی‘‘ ہونے کے باوجود ریڈ انڈینز کئی دہائیوں تک سفید فاموں سے لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ سفید فاموں سے امریکا میں ریڈ انڈینز کی نسل ہی ختم کر ڈالی۔ ویت نامی کمیونسٹ تھے مگر وہ امریکا کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں رتی برابر بھی مداخلت نہیں کی مگر اس کے باوجود ہندوؤں کو جب بھی قوت فراہم ہوئی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اُٹھائے۔ سرسید کی دلیل کو تسلیم کرلیا جائے تو دنیا کی تاریخ ہی بدل کر رہ جائے گی، اس لیے کہ پھر طاقت ہی اصل چیز ہوگی اور جس کے پاس طاقت ہوگی وہ کمزور کو دبا لے گا اور جب تک طاقت ور کمزور کے مذہب میں مداخلت نہ کرے اس وقت تک ہر طاقت ور کا قبضہ جائز اور اس کے خلاف مزاحمت ’’حرام‘‘ ہوگی۔ واہ سرسید واہ۔
چوں کہ سرسید کے تصور جہاد کا ذکر ہو رہا ہے اس لیے یہ بھی سن لیجیے کہ سرسید نے جہادیوں کو کن القابات یا کن ناموں سے یاد کیا ہے۔ یہ نام یا القابات پڑھ کر اگر آپ کا بلڈ پریشر بڑھ جائے یا آپ کو ہارٹ اٹیک ہوجائے تو ہم اس کے ذمے دار نہ ہوں گے۔ بہرحال سرسید نے جہادیوں کو ایک دو نہیں 15 گالیاں دی ہیں۔
(1) سرسید نے جہادیوں کو ’’مفسد‘‘ قرار دیا ہے۔ (2) سرسید نے جہادیوں کو ’’حرامزادے‘‘ قرار دیا ہے۔ (3) سرسید نے جہادیوں کو ’’نمک حرام‘‘ باور کرایا ہے۔ (4) سرسید نے جہادیوں کو ’’غنیم‘‘ کا نام دیا ہے۔ (5) سرسید نے جہادیوں کو ’’دشمن‘‘ کا لقب عنایت کیا ہے۔ (6) سرسید نے جہادیوں کو ’’غادر‘‘ کہہ کر پکارا ہے۔
باقی صفحہ7نمبر1
شاہنواز فاروقی
(7) سرسید نے جہادیوں پر ’’کافر‘‘ کا لفظ چسپاں کیا ہے۔ (8) سرسید نے جہادیوں کو ’’بے ایمان‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ (9) سرسید نے جہادیوں پر ’’بدذات‘‘ ہونے کا بہتان باندھا ہے۔ (10) سرسید نے جہادیوں کو ’’پاجی‘‘ کہا ہے۔ (11) سرسید نے جہادیوں کو ’’جاہل‘‘ ہونے کی گالی دی ہے۔ (12) سرسید نے جہادیوں کو ’’بدرویہ‘‘ باور کرایا ہے۔ (13) سرسید نے جہادیوں کو ’’بداطوار‘‘ قرار دیا ہے۔ (14) سرسید نے جہادیوں کو ’’تماش بین‘‘ کہہ کر آواز دی ہے۔ (15) سرسید نے جہادیوں پر ’’شراب خور‘‘ کی پھبتی اچھالی ہے۔
ان گالیوں کے لیے ضیا الدین لاہوری کی تصنیف نقش سرسید کا صفحہ 186 ملاحظہ کیجیے۔
ضیا الدین نے سرسید کی جن تحریروں سے یہ گالیاں جمع کی ہیں ان کی تفصیل کے لیے نقش سرسید کا صفحہ 190، 191 اور 192 ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ یعنی یہ گالیاں ’’مستند‘‘ ہیں۔ سرسید، مفکر بھی تھے، مدبر بھی اور مہذب بھی۔ لیکن اگر کوئی شخص ان گالیوں میں سے ایک گالی بھی سرسید کی طرف لڑھکا دے تو ’’عاشقان سرسید‘‘ فرمائیں گے آپ تو بڑے غیر مہذب ہو۔ مسلمانوں کے ’’محسن‘‘ کو ’’بُرا‘‘ کہتے ہو۔ واہ سرسید واہ۔ واہ عاشقان سرسید واہ۔ یہاں چلتے چلتے سرسید اور ان کے ’’عاشقوں‘‘ سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ سرسید نے جہادیوں یا جنگ آزادی لڑنے والوں کو جو گالیاں دی ہیں ان میں سے کسی ایک گالی کا جواز تھا؟۔
چلتے چلتے یہ بھی جان لیجیے کہ مسلمانوں کے ’’محسن اعظم‘‘ نے جنگ آزادی کو کیا قرار دیا؟ خوش قسمتی سے سرسید نے جنگ آزادی یا جہاد کو صرف 7 گالیاں دیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔
(1) ہنگامہ غدار۔ (2) ہنگامہ قتل و غارت (3) ہنگامہ مفسدی و بے ایمانی و بے رحمی۔ (4) سرکش۔ (5) ہنگامہ فساد۔ (6) نمک حرامی۔ (7) ہندوستانیوں کی ناشکری کا وبال۔
سرسید نے مجاہدین یا حریت پسندوں کے افعال کو 10 گالیوں سے نوازا۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔ (1) جبر (2) ظلم (3) سرکاری نمک حرامی (4) بدخواہی (5) ناشکری (6) دغا (7) بدعہدی (8) بلوہ (9) بے ایمانی (10) بے رحمی۔
نعرہ جہاد کو سرسید نے صرف ایک گالی پر ٹرخایا۔ انہوں نے نعرہ جہاد کو ’’مفسدوں کی حرمزدگیوں میں سے ایک حرمزدگی قرار دیا۔ سرسید نے جنگ آزادی کے قائدین کی جو ’’عزت افزائی‘‘ کی اس کی تفصیل یہ ہے۔
نواب محمود خان کو انہوں نے صرف تین گالیاں دیں۔ یعنی (1) کم بخت نا محمود (2) بدذات (3) ظالم۔
احمد خان کو دو گالیاں دیں۔ یعنی (1) بدذات (2) بدنیت اور فساد کا پتلا۔
ماڑے خاں کو سرسید نے 6 گالیوں کی ’’خلعت‘‘ عطا کی۔ یعنی (1) ماڑے خاں عرف ماڑے بدمعاش (2) قدیمی بدمعاش (3) پکا بدمعاش (4) بے رحم (5) مفسد (6) حرامزادہ۔
عنایت رسول کو سرسید نے صرف دو گالیوں کے قابل سمجھا یعنی (1) نامی باغی (2) مشہور حرامزادہ۔
خان بہادر خان کو سرسید نے 3 گالیوں کے لائق سمجھا یعنی (1) بد ذات (2) بے ایمان (3) نمک حرام بہادر خان (رام پور) کو دو گالیوں میں بھگتایا یعنی (1) بدمعاشوں کا سرگراہ (2) بدمعاشوں کا سردار۔
مولوی وہاج الدین کو سرسید نے دو گالیوں سے نشانہ بنایا۔ یعنی (1) منو نامی بدمعاش (2) جاہل۔
جنرل بخت خان کو سرسید نے صرف ایک گالی دی۔ یعنی باغیوں کا سرغنہ۔
ان گالیوں کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے ضیا الدین لاہوری کی نقش سرسید کا صفحہ 187 اور صفحہ 188۔ ظاہر ہے کہ سرسید کی یہ گالیاں صرف برصغیر کے مجاہدوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ رہتی دنیا تک جتنے مجاہدین غاصبوں اور قابضوں کی مزاحمت کریں گے وہ انہی گالیوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ تو یہ ہیں ہمارے ’’محسن‘‘ سرسید۔ یہ ہیں ہمارے ’’عظیم‘‘ سرسید۔ یہ ہیں ہمارے ’’مفکر‘‘ سرسید۔ یہ ہیں ہمارے ’’مدبر‘‘ سرسید۔ یہ ہیں ہمارے ’’مہذب‘‘ سرسید۔ سوال یہ ہے کہ سرسید یہ ہیں تو ان کے ’’عاشقان‘‘ کون ہیں؟۔

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں