سرسید اور معجزات کا انکار

سرسید معجزات کے ایسے منکر ہیں کہ وہ قرآن مجید کے کسی ایک معجزے کا انکار کرکے نہیں رہ گئے بلکہ قرآن پاک میں جہاں جہاں معجزات کا ذکر آیا ہے سرسید وہاں وہاں خدا، رسول اکرمؐ اور اجماع امت کے مقابل خم ٹھونک کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ اس عمل سے صرف یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سرسید کی جہالت، ضلالت، گمراہی اور خباثت ’’معمولی شے‘‘ نہیں بلکہ وہ ان تمام عیوب کا ہمالہ تھے۔ غلطی سیدنا آدمؑ سے بھی ہوئی اور شیطان سے بھی مگر ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ حضرت آدمؑ نے اپنی غلطی کو مان لیا اور توبہ کرلی لیکن ابلیس نے غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے توبہ کی توفیق میسر نہ آسکی۔ سرسید کا معاملہ بھی یہی ہے۔ انہیں کبھی اپنے لکھے پر شرمندہ نہ دیکھا گیا۔ وہ آخری وقت تک اپنی جہالت، ضلالت، گمراہی اور خباثت پر اصرار کرتے رہے۔ ظفر اقبال نے کہا ہے؂

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے

اس شعر کے تناظر میں دیکھا جائے تو سرسید واقعتاً ’’صاحب کردار‘‘ تھے۔ اس ’’کردار‘‘ کی چند مزید مثالیں پیش ہیں۔

خانہ کعبہ پر ابرہہ کے لشکر کشی کے بنیادی حقائق ہر پڑھے لکھے مسلمان کے علم میں ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں سرسید نے لکھا۔

’’مفسرین کی عادت ہے کہ اصل بات کو بڑھا کر کچھ کا کچھ کردیتے ہیں۔ اسی طرح اس اصلی واقعے کو بھی کہانی کی صورت پر بنالیا ہے اور اپنی تفسیروں میں اس طرح لکھا ہے کہ جب ابرہہ کا لشکر ہاتھیوں سمیت کعبہ کے پاس آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک قسم کے پرند جانوروں کو حکم دیا کہ مسور یا چنے کے دانے کے برابر ایک کنکری چونچ میں اور ایک ایک دونوں پنجوں میں لے کر جاؤ اور ابرہہ کے لشکر پر چھوڑو۔ ان پرندوں نے ایسا ہی کیا اور کنکری جس کے سر پر پڑی پار نکل گئی، سارا لشکر برباد ہوگیا۔ اور اس قصے کے لیے کچھ بے اصل روایتیں بھی گھڑ لی ہیں اور لفظی مناسبت سے تمام اس کے لوازمات از خود خیال کر لیے ہیں۔ قرآن مجید میں اس طرح پر یہ قصہ نہیں ہے بلکہ قرآن مجید سے صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ ابرہہ کے لشکر پر ایک آفت پڑی اور وہ برباد ہوگیا۔ اس آفت کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے مگر قرآن مجید کی سیاق عبارت سے اور تاریخی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آفت وبائی چیچک کی بیماری تھی جو ابرہہ کے لشکر میں دفعتہ زمانہ محاصرہ مکہ میں پھیلی اور بہت سے آدمی اور جانور چیچک سے مرگئے اور سارا لشکر تباہ ہوگیا۔

قرآن مجید میں جس آفت کا ابرہہ پر نازل ہونا مذکور ہوا ہے اگرچہ اس کا نام نہیں لیا گیا مگر اس کے الفاظ اور اس کی تشبیہیں مرض چیچک سے ایسی مناسبت ہیں کہ اس سے صاف مرض چیچک کی وبا کا ابرہہ کے لشکر میں واقع ہونا پایا جاتا ہے‘‘۔
(تہذیب الاخلاق (2) صفحہ 377۔ بحوالہ افکارِ سرسید، از ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ ۔ 113)

اس سلسلے میں قرآن مجید فرقان حمید کا اپنا بیان یہ ہے۔

’’تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟۔ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے جو ان کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے، پھر ان کا یہ حال کردیا جیسے (جانوروں کا) کھایا ہوا بھوسا‘‘۔ (ترجمہ سورہ الفیل، ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی، از سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ صفحہ1563,64)۔

سرسید کی تحریر میں سورہ فیل کے حوالے سے اجماع کے موقف کو سرسید نے بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ ’’مفسرین‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ حالاں کہ مفسرین نے اس سلسلے میں وہی کہا ہے جو خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ سرسید فرمارہے ہیں کہ ابرہہ کا لشکر چیچک کی بیماری سے مرا، حالاں کہ سورہ فیل میں اشارتاً یا کنایتاً بھی یہ بات موجود نہیں۔ اس کے برعکس قرآن صاف الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ آئے اور انہوں نے پکی ہوئی مٹی کے پتھر لشکر پر پھینکے جس کی وجہ سے ابرہہ کا لشکر کھائے ہوئے بھوسے کی طرح لگنے لگا۔ ان باتوں کا مفہوم عیاں ہے۔ سرسید مفسرین کا نہیں خود قرآن کا انکار کررہے ہیں۔ معاذ اللہ خدا کے منہ میں اپنی زبان ڈالنے کی جرأت کررہے ہیں۔ یہ جرأت تو ابلیس سے بھی منسوب نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرسید مفسرین پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ قرآن کی تشریح من مانے انداز میں کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عیب مفسرین میں نہیں خود سرسید میں پایا جاتا ہے۔ آخر انہوں نے یہ بات کس بنیاد پر کہی کہ ابرہہ کا لشکر چیچک کی وبا سے مرا۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت کیا اسرائیلیات سے بھی کوئی سند دستیاب نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سرسید نے قرآن مجید کی صریح حقیقت یا ’’FACT‘‘ کا انکار کیا ہے۔ خود سرسید نے قرآن کے Fact کی جو تعبیر کی ہے وہ ’’سفید جھوٹ‘‘ اور ’’Fantacy‘‘ سے بھی آگے کی چیز ہے۔ مگر اس کے باوجود سرسید کا خیال ہے کہ وہ ’’عالم‘‘ ہیں اور چودہ سو سال میں جتنے مفسرین ہوئے ہیں وہ سب کے سب جاہل، جھوٹے اور قرآن پاک کی اندھا دھند تشریح کرنے والے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں سرسید پر اعتراض غلط ہے جو شخص قرآن کے واضح اور شفاف بیان کو جھٹلاتا ہو اور صحیح احادیث مبارک کا انکار کرتا ہو اس کی نظر میں مفسرین کی کیا بساط ہوگی؟۔

سرسید چوں کہ فرشتوں کے وجود کے منکر تھے اس لیے وہ جنوں کے وجود کے بھی منکر تھے۔ اس سلسلے میں ان کے خیالات کیا تھے ملاحظہ فرمائیے۔ فرماتے ہیں۔

’’حضرت سلیمانؑ کے قصہ میں جن و شیاطین کا‘ جو حضرت سلیمانؑ کے ہاں بہت سے کاموں پر متعین تھے، قرآن مجید میں ذکر آیا ہے۔۔۔ اس سے وہ پہاڑی و جنگلی آدمی مراد ہیں جو حضرت سلیمانؑ کے ہاں بیت المقدس بنانے کا کام کرتے تھے اور جن پر بسبب وحشی اور جنگلی ہونے کے‘ جو انسانوں سے جنگلوں اور پہاڑوں میں چھپے رہتے ہیں‘ اور نیز بسبب قوی اور طاقتور اور محنتی ہونے کے جن کا اطلاق ہوا ہے۔ پس اس سے وہ جن مراد نہیں ہیں جن کو مشرکین نے اپنے خیال میں ایک مخلوق مع ان اوصاف کے جو ان کے ساتھ منسوب کیے ہیں‘ مانا ہے جن پر مسلمان بھی یقین کرتے ہیں؟‘‘۔

(تفسیر القرآن۔ ازسرسید۔ صفحہ 165۔ بحوالہ افکار سرسید ضیا الدین لاہوری۔ صفحہ74)

قرآن اور احادیث مبارکہ کہتی ہیں کہ فرشتوں کی طرح جن بھی ایک مخلوق ہیں۔ جس طرح انسان کو مٹی اور فرشتوں کو نور سے خلق کیا گیا ہے، اسی طرح جنات کو آگ یا اس کی لپٹ سے خلق کیا گیا ہے۔ مگر سرسید کا اصرار ہے کہ ایسا نہیں ہے، جنات دراصل وحشی لوگ ہیں جو جنگلوں اور پہاڑوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ سرسید کے مطابق جن بہت طاقتور اور محنتی ہوتے ہیں مگر سرسید نے یہ باتیں کس سے سنیں یا کہاں پڑھیں، اس بارے میں سرسید نے کہیں ایک لفظ نہیں لکھا۔ مطلب یہ کہ سرسید کے تخیل نے اپنے جن خود ایجاد کیے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ایجاد کو وہ ایک ناقابل تردید حقیقت یا Fact کے طور پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ علم کا تکبر بہت بدنام ہے مگر سرسید کو پڑھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ جہالت کا تکبر علم کے تکبر سے بھی زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔ خیر یہاں کہنے کی اصل بات یہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جنوں کے حوالے سے سرسید نے ایک اور مقام پر قرآن مجید کا صریح انکار کیا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت سلیمانؐ کا، ملکہ سبا اور جنات کے حوالے سے ایک واقعہ موجود ہے۔ ذرا دیکھیے تو سرسید اس واقعے کے سلسلے میں کیا فرمارہے ہیں۔ سرسید نے لکھا۔

’’جب حضرت سلیمانؑ نے بلقیس کے لیے تخت منگانا چاہا‘ ایک زبردست پہاڑی آدمی نے کہا ’’میں ابھی اُٹھا لاتا ہوں‘‘۔ یہ جو مفسرین نے قصہ بنایا ہے کہ وہ تخت شہر سبا یعنی ملک یمن میں تھا، نہ اس کی کچھ اصلیت ہے نہ اس کا کچھ ثبوت ہے۔ سلیمانؑ کے مکان میں وہ تخت ہوگا۔ انہوں نے اس کو منگانا چاہا۔ ایک شخص نے کہا ’’حضور‘ میں ابھی اُٹھا لاتا ہوں‘‘۔ اس میں نہ کچھ عجیب قصہ ہے نہ کوئی بات ہے مگر ہاں‘ واعظین کے لیے منبر پر بیٹھ کر عجیب و غریب‘ دور ازکار اور دور ازعقل باتیں بنانے کو کافی نہیں‘‘۔
(تفسیر الجن۔ ازسرسید۔ صفحہ30۔ بحوالہ افکار سرسید۔ ازضیا الدین لاہوری۔ صفحہ75)۔

آپ نے دیکھا اس اقتباس میں سرسید واعظین پر پل پڑے ہیں اور فرمایا ہے کہ واعظین منبر پر بیٹھ کر عجیب و غریب اور خلاف عقل باتیں کرتے ہیں۔ اب آپ اس سلسلے میں قرآن مجید کا موقف ملاحظہ کیجیے۔

’’سلیمانؑ نے کہا ’’اے اہل دربار، تم میں سے کون اس تخت کو میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟ جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا ’’میں اسے حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہیں سے اُٹھیں۔ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں‘‘۔ جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا۔ ’’میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں‘‘۔ جونہی سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا وہ پکار اُٹھا ’’یہ میرے ربّ کا فضل ہے‘‘۔ (ترجمہ قرآن مجید۔ مع مختصر حواشی۔ ازسید ابوالاعلیٰ مودودی۔ صفحہ969)

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں
, ,