پاکستانی معاشرے کا خطرناک علمی رجحان

ہماری دنیا سیاسی اعتبار سے ہی نہیں علمی اعتبار سے بھی بھیڑ چال کا منظر پیش کررہی ہے۔ یہ بھیڑ چال اُن معاشروں میں زیادہ سنگین ہے جہاں قیادت کا بحران اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ علمی بھیڑچال کا مفہوم کیا ہے؟
اس سوال کا جواب آسان ہے۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی عظیم اکثریت ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ معاشرے میں علم طب یا فنِ تعمیر سے عشق کا رجحان پیدا ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر اور انجینئر بن کر زیادہ بہتر روزگار حاصل کیا جاسکتا تھا، اور ڈاکٹر اور انجینئر کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ چنانچہ کسی میں اہلیت ہو یا نہ ہو مگر وہ اُس زمانے میں ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتا تھا۔ اُس زمانے میں والدین بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا خواب تو یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنائیں۔ لیکن پھر زمانے نے کروٹ لی اور کامرس میں زیادہ پیسہ اور نام نہاد عزت آگئی، چنانچہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی پٹری تبدیل کرلی اور وہ بی کام ‘ ایم کام‘ ایم بی اے اور سی اے کے خواب دیکھنے لگے۔ اہم بات یہ تھی کہ جس طرح ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا رجحان علمی اور شعوری نہیں تھا اسی طرح ایم بی اے اور سی اے کرنے کا رجحان بھی علمی اور شعوری نہیں تھا۔ جس طرح پیسے اور سماجی تکریم کی ’’ہوس‘‘ نے ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کیے اسی طرح پیسے اور سماجی عزت کا عشق ایم بی اے اور سی اے پیدا کرنے لگا۔ لیکن یہ رجحان بھی اپنی اصلی حالت پر باقی نہ رہا۔ دنیا میں اچانک انفارمیشن ٹیکنالوجی کا رجحان وبا بن کر پھوٹ پڑا، اور اس کا اثر پاکستان پر بھی مرتب ہوا۔ چنانچہ کافی طلبہ کامرس کے کھونٹے سے رسّی تڑاکر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم پر جاکھڑے ہوئے، اور اب یہ صورت حال ہے کہ ہمارے طلبہ و طالبات کی عظیم اکثریت یا تو کامرس کے مضامین میں مہارت پیدا کرنا چاہ رہی ہے یا وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ’’بل گیٹس‘‘ بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب طلبہ کی بڑی تعداد ڈاکٹر اور انجینئر بھی نہیں بننا چاہتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں شعبوں میں محنت زیادہ ہے اور اس کا ’’معاشی صلہ‘‘ بہت کم ہے۔ ایک طالب علم پانچ سال تک ایم بی بی ایس کی ڈگری کے لیے جان مارتا ہے، اور ایم بی بی ایس کرنے کے بعد اسے کہیں آٹھ دس ہزار سے زیادہ کی نوکری نہیں ملتی۔ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی سماجی عزت بھی ہمارے لیے اسی وقت اہم ہے جب اس کے ساتھ پیسہ بھی ہو۔ پیسہ نہ ہو تو خالی خولی سماجی عزت ہمارے لیے اتنی اہم نہیں ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے ایک طالب علم پانچ سال کی محنت شاقہ سے گزرے۔ اس صورت حال کو دیکھا جائے تو ہمارا معاشرہ تجارتی علم‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مادی علوم کا معاشرہ بن کر رہ گیا ہے۔

[shahnawazfarooqi.com]


اس منظرنامے میں سماجی علوم کیا الہامی علوم کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ ہمارے معاشرے کے ذہین ترین طالب علم مذہبیات کے ماہر نہیں بننا چاہتے، انہیں شعر و ادب کے مطالعے سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں زبانوں کے علم میں کوئی رغبت محسوس نہیں ہوتی، وہ فلسفے کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے، انہیں نفسیات میں کوئی کشش دکھائی نہیں دیتی، وہ عمرانیات کے مطالعے کو ضروری خیال نہیں کرتے۔ یہ طالب علموں کا ہی مسئلہ نہیں ہے، ہمارے سیاسی رہنمائوں‘ دانشوروں‘ ہمارے ماہرین تعلیم‘ ہمارے ابلاغیات کے ماہرین اور ہمارے والدین کو بھی اس خطرناک علمی رجحان کا شعور نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھیڑ چال ہمیں جہاں لیے جارہی ہے ہم چلے جارہے ہیں۔ پورے معاشرے کو اندازہ تک نہیں کہ وہ جن علوم وفنون کو ترک کرچکے ہیں اور مزید کررہے ہیں اس کا کیا مفہوم ہے اور اس کا کیا نقصان ہے؟
مذہب کے پاس خدا کی ذات اور اس کی صفات کا علم ہے، اور اس سے بڑے علم کا تصور محال ہے۔ مذہب کے پاس دنیا اور آخرت کا علم ہے اور اس سے زیادہ مفید اور ضروری علم کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مذہب کے پاس حلال و حرام کا علم ہے اور اس کے بغیر ہم مسلمان نہیں رہ سکتے۔ مذہب کے پاس اخلاق و کردار کی تعمیر کا علم ہے اور یہ علم اگر موجود نہ ہو تو ہم کھربوں ڈالر خرچ کرکے بھی یہ علم حاصل نہیں کرسکتے۔ مذہب کے پاس اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا علم ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا خزانہ ہے، اور ان چیزوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ مذہب کے پاس علمِ کلام ہے، فقہ ہے، مگر ہمارے معاشرے کے ذہین ترین طالب علم ان میں سے کسی چیز کا علم حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مذہبی علم معاشرے کے اُن طبقات کے حوالے ہوگیا ہے جو حالات کے جبر کے تحت مذہبیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ محبت اور رغبت کے تعلق اور جبر کے تعلق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چنانچہ ہماری مذہبی فکر پر اوسط درجے اور اس سے بھی کم سطح کے علم اور ذہانت کا غلبہ ہوگیا ہے۔
شعر و ادب انسان‘ اس کی زندگی اور اس کے جمالیات کا مطالعہ ہے۔ شعر و ادب انسان کے جذبات و احساسات، اس کی محبت‘ اس کی انجمن آرائی، اس کی تنہائی، خدا‘ انسانوں اور کائنات سے اس کے تعلق کا فہم ہے۔ شعر و ادب انسان کے باطن کا اخبار ہیں۔ ان سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ چمکتے دمکتے ظاہر کے اندر کتنا اندھیرا ہے۔ مگر شعر و ادب کے حوالے سے معاشرے میں چار رویّے عام ہیں۔ پہلا رویہ یہ ہے کہ لوگوں کی عظیم اکثریت کو شعر و ادب سے کوئی دلچسپی ہی نہیں، وہ اسے وقت کا ضیاع اور بیکار کام سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ شعر و ادب سے متعلق نظر آتے ہیں مگر ان کے نزدیک شعر و ادب صرف تفریح کا ذریعہ یا ایک طرح کا Entertainment ہیں۔ مذہبی لوگوں کی بڑی تعداد شعر وادب کو مذہب و اخلاق سے گری ہوئی ایسی چیز سمجھتی ہے جس کے پاس بھی نہیں جانا چاہیے۔ ہمارے اکثر مذہبی لوگوں کی یتیم الفکری کا یہ عالم ہے کہ انہیں اپنی مذہبی روایت میں عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے ناگزیر اور ازلی و ابدی رشتے تک کا شعور نہیں۔ دیکھنے والے یہ تک نہیں دیکھتے کہ مسلمانوں نے دنیا میں شعر و ادب کی اتنی بڑی روایت کیوں پیدا کی، اور مذہب کے بعد سب سے زیادہ ذہانت شعر و شاعری اور داستان گوئی پر کیوں صرف ہوئی؟ معاشرے کا چوتھا رویہ یہ ہے کہ معاشرے کا بہت چھوٹا سا حصہ شعر و ادب کا مطالعہ کرتا ہے۔ مگر معاشرے کا یہ حصہ اتنا چھوٹا سا ہے کہ اس کا معاشرے پر کوئی اثر ہی نہیں ہے، اور وہ معاشرے کی رجحان سازی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔
زبان کا علم انسان کے پورے وجود کی کلّیت‘ اس کی تہذیب اور اس کی تاریخ کا علم ہے۔ اس لیے کہ انسان کا سارا علم‘ سارا فہم‘ سارا شعور اور اس کا سارا ابلاغ زبان سے متعلق ہے۔ جدید نفسیات کے پاس انسان کا متوازن اور جامع تصور نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود انسان کی جبلتوں‘ اس کے جذبات و احساسات اور اس کے عمل اور ردعمل کے سانچوں کو سمجھنے کے لیے نفسیات کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ جس طرح نفسیات فرد کا علم ہے اسی طرح عمرانیات معاشرے کا علم ہے۔ جدید عمرانیات پر مغربی فکر اور تناظر کا غلبہ ہے، لیکن اس کے باوجود بہرحال عمرانیات کے مطالعے کا مرکز انسانی معاشرہ ہے۔ مغربی دنیا میں مذہب کے زوال میں فلسفے کا کردار بنیادی ہے، چنانچہ ہم فلسفے کے مطالعے کے ذریعے اور کچھ نہیں تو انسان کے انحرافی اور انہدامی فکری رجحانات کا علم ضرور حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ چیز بھی انسان اور دنیا کی تفہیم میں ہماری بہت مدد کرسکتی ہے۔ لیکن ہم نہ مذہبیات کے ماہر بننا چاہتے ہیں، نہ شعر و ادب کی دنیا کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں، نہ ہمیں زبانوں کے علم و فہم سے دلچسپی ہے، نہ ہم نفسیات‘ عمرانیات اور فلسفے میں کارہائے نمایاں انجام دینا چاہتے ہیں۔ ہم تو بس ایم بی اے اور سی اے کرنا چاہتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کہلانا چاہتے ہیں، اور اگر ان دونوں شعبوں کے ’’کمالات‘‘ ہمارے ہاتھ نہ آسکیں تو پھر ہم ڈاکٹر اور انجینئر بن کر معاشرے کی ’’خدمت‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔
اقبال نے مغرب کے مادی عروج کے زمانے میں مغرب کی علمی حقیقت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
اقبال کے اس شعر کا مفہوم یہ تھا کہ مغرب کا انسان مادی کائنات کی اس طرح چھان پھٹک کررہا ہے کہ وہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی تیاری کررہا ہے، مگر اس کی زندگی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے، او رمغرب کے انسان کے پاس ہدایت کی روشنی موجود نہیں۔ مگر مغرب کے انسان کا معاملہ یہ تھا کہ اس نے مذہب سے منہ موڑ لیا تھا اور مادے کو اپنا خدا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی تھی، مگر ہم تو مذہب سے منہ موڑے بغیر ہی اپنی زندگی کو تباہ کرنے اور اسے ہولناک عدم توازن کا شکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مغرب نے مادے کو خدا بنایا تو وہ مادی دنیا کے دائرے میں پوری دنیا کا امام بن کر کھڑا ہوگیا۔ ہم اس دائرے میں امام کیا ’’مقلد‘‘ بھی نہیں ہیں، مگر اپنا حال ہم اماموں سے بھی بدتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یادش بخیر پروفیسر کرار حسین کہا کرتے تھے کہ جب میں اپنی جامعات میں اردو کے اساتذہ کا حال دیکھتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ اردو کے خلاف کوئی بڑی سازش ہورہی ہے۔لیکن سماجی علوم و فنون سے ہماری بے تعلقی نے زندگی کے ہر شعبے میں یہ صورت حال پیدا کردی ہے۔ چنانچہ اب کہا جاسکتا ہے کہ ہم ارد وکے کالم نویسوں کو پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ صحافت کے خلاف کوئی سازش ہورہی ہے، اور ٹیلی وژن کے اینکر پرسنز کی گفتگوئوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ٹیلی وژن کے میڈیم کے خلاف کوئی سازش سازش کھیل ر ہا ہے۔ کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ جو شخص کچھ نہیں کرپاتا وہ استاد یا پولیس والا بن جاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال اب ہمارے یہاں تعلیمی اسناد کے حوالے سے بھی رونما ہوچکی ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو نوجوان کچھ نہیں کرپاتا وہ بے چارہ بی اے، ایم اے کرلیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی میں ترجیحات کا تصور بنیادی ہے۔ جیسی کسی فرد‘ گروہ یا قوم کی ترجیحات ہوتی ہیں اس کی زندگی ویسی ہی ہوجاتی ہے۔ ہماری زندگی پر اگر مذہب اور شعر و ادب کے بجائے کامرس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا غلبہ ہوگا تو اس میں ایسے انسان پیدا ہوں گے جن کی زندگی کی معنویت اکبر الہٰ آبادی کے الفاظ میں ’’الفت اللہ‘‘ کے بجائے ’’تنخواہ‘‘ سے متعین ہوگی۔

Source:

http://fridayspecial.com.pk/16969

اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں
, ,