سیاست اور اخلاقیات

سیاست اور اخلاقیات
شاہنواز فاروقی
پاکستان کی سیاست میں حکمرانوں اور سیاست دانوں کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سیاسی نعروں کو بنیاد بناکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں انتخابی نعرے ہمیشہ سیاسی استحصال کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حکمران اور بالادست طبقات نے خوشنما نعروں کی مدد سے لوگوں میں جذباتی کیفیت پیدا کرکے محض اپنے اقتدار کے کھیل کو تقویت دی ہے۔ ماضی میں بھٹو صاحب کے لیے جو نعرہ سب سے زیادہ مقبولیت کا باعث بنا وہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ تھا۔ لیکن یہ نعرہ بس نعرے ہی کے طور پر موجود رہا اور عوام تو کجا خود پیپلز پارٹی کے اپنے غریب سیاسی کارکن عملی طور پر روٹی، کپڑا اور مکان سے محروم نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی و فوجی حکومتیں بھی عوام کے سیاسی استحصال کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہیں۔بھٹو مخالف قوتوں نے بھی جس شدت کے ساتھ اسلامی انقلاب کے نعرے بلند کیے تھے وہ بھی اسلام اور جمہوریت کے مقابلے میں شخصی نفرت کی سیاست کو جنم دینے کا باعث بنے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری سیاست میں ان خوشنما نعروں یا حکمران طبقوں کے دعووں کو سیاسی مذاق کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات کا منظرنامہ سامنے آرہا ہے ، انتخابی نعروں اور دعووں کا کھیل بھی عروج پر پہنچگیا ہے۔ اس وقت ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں بڑے نعروں کے ساتھ اپنی ابتدائی انتخابی مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔ یہ دونوں بڑی جماعتیں کیونکہ موجودہ اقتدار کی سیاست سے منسلک ہیں اس لیے ان کے یہ نعرے دلچسپی سے خالی نہیں۔ پیپلز پارٹی جو اشتہاری مہم چلارہی ہے اس میں سب سے مقبول نعرہ ’’بدلا ہے نظام تو… حق ملا عوام کو‘‘شامل ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) جو پنجاب میں تن تنہا اقتدار کے کھیل میں شامل ہے اس کی جانب سے جس نعرے کو سب سے زیادہ تشہیری مہم کا حصہ بنایا جارہا ہے وہ ہے: ’’بدلا ہے پنجاب… اب بدلیں گے پاکستان‘‘۔ دونوں بڑی جماعتیں اپنی اشتہاری مہم کی مدد سے قبل ازوقت انتخابی مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔یہ نعرے ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب ایک طرف ملک انتخابات کی سیاست کی جانب گامزن ہے تو دوسری طرف پورا ملک بری طرزِ حکمرانی کے بحران سے دوچار ہے۔ یہ بحران محض مرکزی حکومت تک محدود نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی لوگوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ان دونوں بڑی جماعتوں نے خوشحالی کے میدان سجائے ہیں تو لوگوں میں اس کی سیاسی قبولیت کیوں نہیں ہے؟ دراصل ہماری سیاست میں ہمیشہ سے حکمرانوں کے سیاسی دعووں اور عوام کی خواہشات میں تضاد کی سیاست کا پہلو نمایاں رہا ہے۔ تضادات کی اس سیاست نے عملی طور پر حکمرانوں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کی ہے۔ ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے دعووں کے سائے تلے غربت، معاشی بدحالی، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، امیری اور غریبی میں بڑھتا ہوا فرق، خودکشیاں، خودکش حملے، دہشت گردی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، سی این جی کی بندش اور بے روزگاری جیسے مسائل کا ایک بڑا سیاسی جن لوگوں پرمسلّط ہے۔
تو لوگوں کو حیرانی ہے کہ یہ دونوں بڑی جماعتیں کس پاکستان اور کس پنجاب کی خوشحالی کی باتیں کررہی ہیں! پنجاب سمیت پورے پاکستان میں طرز حکمرانی اور لوگوں کے مسائل اور مشکلات بارے میں جو بھی ملکی اور غیر ملکی سروے کے نتائج سامنے آئے ہیں وہ ان حکمرانوں کے دعووں سے بالکل مختلف ہیں۔ ہماری سیاسی اشرافیہ میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن)کی طرز حکمرانی و عوامی خوشحالی کے حوالے سیبہت بہتر ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کو اپنی کارکردگی کی بنیاد بنانے کے لیے پیپلز پارٹی سے موازنے کی ضرورت ہے تو بس اللہ ہی حافظ ہے۔ یعنی ایک بڑی خرابی کے مقابلے میں ہم چھوٹی خرابی سے اپنا دل بہلانا چاہتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن)کی میڈیا مینجمنٹ کافی بہتر ہے۔ میڈیا میں اثر و نفوذ اور سرمائے کی طاقت کی بنیاد پر اس نے لوگوں میں اپنی کامیابی کامصنوعی تاثر پہلو کامیابی سے پیش کیا ہے۔ لیکن حقیقت وہ نہیں جو دونوں جماعتیں پیش کررہی ہیں۔ اس لیے آج اگر پاکستان میں ان دونوں بڑی جماعتوں سمیت ان کی اتحادی سیاست کے بارے میں متبادل سیاست کی بات کی جاتی ہے تو اس کا تجزیہ بھی کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ متبادل سیاست کی بات تب کی جاتی ہے جب اس وقت کی سیاست ناکام ہوجاتی ہے یا لوگوں میں اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان نے جو سیاسی مقبولیت حاصل کی ہے وہ کیونکر ممکن ہوئی، اس کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب نوازشریف اور شہباز شریف یہ نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم نے ’’بدلاہے پنجاب…اب بدلیں گے پاکستان‘‘ تو سوال یہ ہے کہ پنجاب سے عمران خان کے حق میں آوازیں کیونکر بلند ہورہی ہیں؟ اس بات سے قطع نظر کہ عمران خان کی سیاسی طاقت کی شرح فیصد کیا ہے، انھوں نے پنجاب میں نوازشریف کی حکمرانی کو چیلنج کرکے ہی اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ عمران خان نے اگر اپنی طاقت بنائی ہے تو اس کی بڑی وجہ مقبول اور بڑی جماعتوں کی حکمرانی کا انداز ہے۔ یہ اعتراف خود عمران خان بھی کرتے ہیں کہ بڑی جماعتوں کی ناکامی نے انھیں سیاسی طور پر مقبولیت دی ہے اور لوگوں میں اُن کے حوالے سے امید کے نئے پہلو پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری بات پنجاب کے تناظر میں شریف برادران کی مجموعی سیاست کا تجزیہ ہے، کیونکہ ان کا یہ نعرہ اس لحاظ سے مضحکہ خیز ہے کہ ہم نے پنجاب کو بدل دیا ہے اور پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نواز شریف دوبار ملک کے وزیراعظم رہے ہیں۔ دوسری بار انھیں دو تہائی اکثریت بھی حاصل تھی۔ لیکن نتیجہ ایک بدحال پاکستان کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو اُس وقت کی تمام سیاسی جماعتیں نوازشریف کی رخصتی پر یکسو نظر آتی تھیں۔ یہاں جنرل پرویزمشرف کی حکمرانی کی حمایت کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ باور کروانا ہے کہ جب نوازشریف کو پاکستان بدلنے کا موقع ملا تو وہ بھی کچھ نہیں کرسکے تھے۔ پنجاب میں ان کی حکمرانی عملی طور پر1988ء کے بعد سے قائم ہے۔ اگرچہ 2002ء سے2007ء تک پنجاب میں چودھری برادران کی حکومت تھی، لیکن وہ بھی ماضی میں شریف برادران کے کلیدی ساتھی تھے۔ اب پنجاب میں 2008ء سے شریف برادران کی دوبارہ مضبوط حکمرانی ہے۔ دو دہائیوں پر مشتمل شریف برادران کی پنجاب میں حکمرانی خود پنجاب کے لوگوں کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے بہت سے اہلِ دانش نوازشریف کی اس بات کو بہت سراہتے ہیں کہ انھوں نے ماضی کی سیاسی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ ان کی طرز حکمرانی کا مکمل ماڈل فردِ واحد یعنی شہباز شریف کے گرد گھومتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ حکمرانی کو شریک کرنے اور ٹیم بنانے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور ہر کام خود کرکے اختیارات اپنی ذات تک محدود رکھنے کے سیاسی فلسفہ پر قائم ہیں۔ پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نظام شریف برادران کی آمرانہ سیاسی حکمت عملی کا شکار ہوگیا ہے۔ ان چار برسوں میں روٹی اسکیم، ٹیکسی اسکیم، ہیوی ترقیاتی منصوبے، امن وامان کی صورت حال، ریپڈ ٹرانسپورٹ اسکیم جیسے منصوبوں کی سیاسی و مالی شفافیت کا سوال بھی توجہ طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف اس وقت سیاسی محاذ پر تنہا کھڑے ہیں، یعنی ان کیحلیف کم اور حریف زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان چار برسوں میں انھوں نے حکومت مخالف جماعتوں کو قریب لانے کے بجائے محض اقتدار کی سیاست کی ہے۔ تختِ لاہور کی سیاست کو بچانے کے لیے جس انداز سے ترقیاتی کاموں کا جال لاہور میں بچھایا گیا ہے وہ خود تنقید کے زمرے میں آتا ہے، اور بہت سے ترقیاتی ماہرین کہہ چکے ہیں کہ یہ مہنگے منصوبے سرکاری خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پنجاب کو بدلنے کے نعرے بلند کرنے والے عملی طور پر صوبے میں ایک بہتر ٹرانسپورٹ نظام تک نہیں دے سکے۔ پورا صوبہ موٹر سائیکل رکشہ پر کھڑا ہے۔ اسی طرح بہت سے اہلِ دانش اور ملکی یا غیر ملکی سطح پر موجود ادارے شہباز شریف کی بہتر گورننس کی مثالیں پیش کرتے ہیں جو عملاً میڈیا کی تشہیری حکمت عملی سے منسلک ہے۔ پنجاب کو خوشحال صوبے میں تبدیل کرنا توکجا مسلم لیگ (ن) کے، مرکز میں حزب اختلاف کے کردار کے تناظر میں لوگوں میں بہت زیادہ تحفظات پائے جاتے ہیں، ان کی نظر میں مسلم لیگ (ن) کا کردار فرینڈلی اپوزیشن سے زیادہ نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) کو حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج پر بہت زیادہ زعم ہے، جو موجودہ صورت حال میں غلط بھی نہیں۔ لیکن جب مسلم لیگ(ن) اقتدار سے باہر نکلے گی تو اسے کافی حد تک آٹے دال کا بھائو معلوم ہوگا کہ اس کے شاندار خوشحالی کے نعرے میں کس حد تک حقیقت ہے۔
پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق)، اے این پی اور ایم کیو ایم کا حال یقینا مسلم لیگ (ن) سے بھی زیادہ برا ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی کے سرکاری اشتہارات میں جس ترقی کے دعوے کیے جارہے ہیں وہ لطیفہ سے کم نہیں۔ ایک تو پیپلز پارٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مکمل ترقی کا منصوبہ سمجھ لیا ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا ان دس سے تیس لاکھ لوگوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی نہیں رہتا؟ دوئم، اگر واقعی یہ پروگرام اتنا شاندار ہے تو ان حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج میں ان کارناموں کی جھلک کیوں نظر نہیں آئی؟ پیپلز پارٹی ’’حق ملا عوام کو‘‘ کا جو نعرہ بلند کررہی ہیں اس کی ناکامی کی کہانی ہر عام وخاص کی زبان پر ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی کے جن ہمدردوں نے پیپلز پارٹی کا ماتم کیا وہ توجہ طلب پہلو ہے۔ ان نکات پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو ضرور غور کرنا چاہیے کہ لوگ ان کے قریب آنے کے بجائے دور کیوں ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان کی شہری سیاست میں جس تیزی سے پیپلز پارٹی کا سیاسی زوال نظر آرہا ہے وہ خود پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ پیپلزپارٹی اور بالخصوص صدر زرداری کی سمجھوتوںکی سیاست یا سیاسی بندوبست کی کہانی نے قومی مسائل کی سنگینی کو اور زیادہ بڑھادیا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ صدر زرداری کی سیاست بھی بحران کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔ کرپشن، بدعنوانی اور سیاسی و معاشی بدحالی کی وجہ سے لوگوں میں پیپلزپارٹی کی سیاست پر تحفظات ہیں۔ ایم کیو ایم سندھ حکومت کا اہم حصہ ہے، ان چار برسوں میں اُس کے پاس ایک بھی سیاسی کارنامہ نہیں جو وہ لوگوں کے سامنے اقتدار کے جواز کے طور پر پیش کرسکے۔ یہی حالات اے این پی کے بھی ہیں جس کی فردِ عمل میں سوائے کرپشن کے اور کچھ بھی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ عوام کو کب تک ان سیاسی نعروں کے ذریعے سیاسی اور معاشی استحصال میں مبتلا رکھا جائے گا؟ یہ کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ کیا ہمارے لوگوں کے نصیب میں یہی ہے کہ وہ ان بالادست طبقوں کے ہاتھوں اپنی بدحالی کا ماتم کریں یا اپنی بربادی کے کھیل کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں! پاکستان کو اس وقت ایک نئی سیاست کی ضرورت ہے، جس میں سیاسی نعرے حقائق اور سچائی کے ساتھ لوگوں میں اپنی اہمیت منواسکیں۔ اس لیے پاکستانی قوم کو خبردار رہنا چاہیے کہ ہمارا حکمران اور بالادست طبقہ جھوٹ پر مبنی نعروں اور دعووں کے ساتھ سیاسی مداری بن کر دوبارہ انتخابی میدان میں کود پڑا ہے۔ اِس بار اس کی حکمت عملی میں جہاں اور بہت سیحربے ہوں گے وہیں میڈیا کی مدد کے ساتھ جھوٹ پر مبنی انتخابی اشتہاری مہم بھی ہوگی۔ اس مہم کا استعمال انتخابات کے شیڈول سے قبل ہی پری پول رگینگ اور سرکاری خزانے کی مدد سے شروع کردی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کی مہم سے بھی منسلک ہے۔بدقسمتی سے اس کھیل میں ان بالادست قوتوں کو سیاسی طاقت فراہم کرنے میں ہمارے اہل دانش بھی پیش پیش ہیں۔ انتخابات2013اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میں ہمیں سٹیٹس کو اور تبدیلی کے درمیان ایک بڑی جنگ کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس جنگ کا فیصلہ اسی صورت میں ممکن ہوگاجب ہم لوگوں کے سامنے اصل سچ سامنے لاسکیں۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا؟ کیونکہ اگر ہم بحران کا شکار ہیں تو اس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ حکمران طبقہ اوراس کی قیادت ہے جو مختلف ناموں کے ساتھ ہمارے استحصال کا سبب بن رہی ہے۔ ان حکمران طبقات اوراس کی قیادت اور عوام کی ترجیحات میں بڑا فرق ہے جو تبدیلی کی راہ میں اصل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔دراصل جب ہم کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ سے سٹیٹس کو کی قوتیں کچھ بنیادی مفادات کے تحت ایک ہوجاتے ہیں۔اس لیے یہ امتحان پاکستان کے لوگوں اور بالخصوص ووٹروں کا بھی ہے کہ وہ اس کھیل میں جذباتی اور اشتہاری مہم کا شکار ہونے کی بجائے عقل و فہم اور سیاسی شعور کے ساتھ انتخابی میدان کا حصہ بنیں۔ ہماری بیشتر حکمران قیادتیں اپنا سیاسی و اخلاقی مقدمہ ہار چکی ہیںاور ہارے ہوئے کھلاڑیوں کی مدد سے جنگ جیتنے کی حکمت عملی میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔لیکن کیونکہ تبدیلی کا عمل آسان نہیں،لوگوں کو یہ باور کروانا کہ اب وہ تبدیلی کے لیے کھڑے ہوجائیں اس کے لیے تبدیلی کی قوتوں کو خود بھی ایک بڑے ایجنڈے کے ساتھ اپنے آپ کو منظم اور فعال کرکے امید کے پہلو کی سیاست کو سامنے لانا ہوگا۔اس لیے وہ قوتیں جو تبدیلی کے ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی ہیں ان کو بھی خوشنما نعروں کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر لوگوں کے سامنے قوم کا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔کیونکہ پاکستان اب خوشنما نعروں اور جھوٹ کی سیاست کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکتا، اس کے لیے ہمیں فوری طور پر چند بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انتخابات کا منظر نامہ اس بڑی تبدیلی میں ایک بڑے ابتدائی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار ہماری انتخابی سیاست کے داخلی عوامل سے ہے۔ اگر ہم نے انتخابی سیاست کے منظر نامہ میں سابقہ غلطیوں کو دہرانے کی بجائے مسائل اور قیادت کے بحران کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا تویہ انتخابات اور اس کے نتائج پاکستان میں خیر کے پہلو کے ساتھ نمودار ہوسکتے ہیں۔
اس مضمون کو سوشل میڈیا پر دوسروں تک پہنچائیں
,